سی پیک کے خلاف جلی اور خفی سازشیں 

 سی پیک کے خلاف جلی اور خفی سازشیں 

  

چینی دفتر خارجہ کے ترجمان لی جیان ژاؤ نے کہا ہے کہ سی پیک کو ناکام بنانے کی کوششیں کرنے والے مایوس ہوں گے،چین اور پاکستان مل کر ان سازشوں کو ناکام بنائیں گے۔ دہشت گردی کے انسداد کے لئے پاکستان نے قابل ِ تعریف کوششیں کی ہیں، دہشت گردوں کی کمر توڑنے کے لئے پاکستان سے تعاون جاری رکھیں گے۔پاکستانی ڈوزئر میں سی پیک کے خلاف بھارتی سازشوں اور سیاسی دہشت گردی کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان سی پیک  منصوبے کی حفاظت کرے گا اور اس منصوبے کو پایہئ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔یہ منصوبہ پورے خطے کے لئے فائدہ مند ہے، اِن فلیگ شپ پراجیکٹس کے ساتھ ہمارا مستقبل جڑا ہوا ہے پاکستان امن اور خطے کے استحکام کے لئے کوشاں ہے۔ بھارت، ہمارے ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اس کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا، بھارت نے اس کے لئے 80ارب روپے مختص کئے ہیں۔چین بھارتی سازش سے اچھی طرح واقف ہے، اب چین کی طرف سے بھی بیان آ گیا ہے کہ وہ اس منصوبے کے خلاف سازشیں ناکام بنائے گا او آئی سی کے آئندہ اجلاس میں بھی یہ مسئلہ اٹھایا جائے گا۔ وزیر خارجہ نے یہ باتیں ایک نیوز چینل پر گفتگو کرتے ہوئے کہیں۔

چین نے جب ”ون بیلٹ، ون روڈ“ کا منصوبہ شروع کیا تھا جس کا سی پیک بھی ایک حصہ ہے تو بھارت کو بھی بڑی فراخ دلی کے ساتھ اس منصوبے میں شمولیت کی دعوت دی تھی،کیونکہ اس کے تحت تین براعظموں کو آپس میں ریل اور روڈ کے ذریعے ملایا جا رہا تھا اور خطے کے ممالک کے لئے ترقی و خوشحالی کا ایک نیا تصور دیا گیا تھا،اس پراجیکٹ کے تحت بہت کم مدت میں ایسے ایسے ناقابل ِ یقین منصوبے تھوڑی ہی مدت میں پایہئ تکمیل تک پہنچائے گئے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے، افریقی ملک جبوتی میں جہاں ذرائع آمدورفت قدیم اور دقیانوسی تھے۔ ایک جدید ترین ریل گاڑی چلائی گئی جو جبوتی کے لئے چین کا تحفہ خیال کی جا رہی ہے، چین سے ایک گڈز ٹرین برطانیہ تک چل رہی ہے جو کئی یورپی ممالک سے گذرتی ہوئی پندرہ دن میں یہ طویل سفر طے کرتی ہے۔ برطانیہ کی ضرورت کی اشیا اس مال گاڑی کے ذریعے وہاں جاتی ہیں اور واپسی پر چین میں ادویات وغیرہ اسی ٹرین کے ذریعے لائی جاتی ہیں۔یہ ابتدائی کامیابیاں ہیں،جوں جوں یہ منصوبہ تکمیل کی جانب بڑھے گا ایسے بہت سے شاندار منصوبے سامنے آتے جائیں گے، بھارت اپنے خبث ِ باطن کی وجہ سے نہ صرف اس منصوبے میں شامل نہیں ہوا،بلکہ اس نے2015ء ہی میں سی پیک کو ناکام بنانے کی منصوبہ بندی کر لی تھی اور اس مقصد کے لئے ”را“ نے بجٹ رکھ دیا تھا،جس کے بعد پاکستان میں اُن منصوبوں کو خصوصی طور پر ٹارگٹ کیا گیا،جو سی پیک کے تحت زیر تعمیر تھے،سندھ کے مزدوروں کو جو بلوچستان میں ایسے ہی ایک منصوبے پر کام کر رہے تھے، دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا، چینی انجینئروں اور فنی ماہرین کو اغوا کر کے قتل کرنے کی کوششیں کی گئیں، جنہیں پاکستان کے سیکیورٹی اداروں نے بروقت کارروائیاں کر کے ناکام بنایا،اس کے باوجود دہشت گردی کی بعض کارروائیاں کامیاب بھی ہوتی رہیں، بھارت کا یہ منصوبہ شروع ہی میں طشت ازبام ہو گیا تھا،اس لئے پاکستان نے ماہرین کی حفاظت کے خصوصی انتظامات کر لئے تھے۔

ایک طرف تو بھارت سی پیک کے خلاف یہ چالیں چل رہا تھا،کیونکہ وہ یہ جان چکا تھا کہ اگر یہ منصوبہ پروگرم کے مطابق مکمل ہو گیا تو پاکستان اقتصادی لحاظ سے مضبوط و مستحکم ملک بن کر ابھرے گا اور غیر ملکی قرضوں کے دباؤ سے نکل آئے گا تو دوسری طرف یہ پروپیگنڈہ بھی کیا جا رہا تھا کہ پاکستان نے چین سے مہنگی شرحِ سود پر قرضے لئے ہیں چین نے جو منصوبے اپنی سرمایہ کاری سے شروع کئے تھے انہیں بھی قرضوں سے نتھی کر دیا گیا، یہاں تک کہ جب پاکستان نے آئی ایم ایف سے نئے قرض کے لئے رجوع کیا تو امریکہ کی طرف سے بیان آ گیا کہ یہ قرضے چینی قرضوں کی واپسی کے لئے استعمال نہیں ہونے دیئے جائیں گے،حالانکہ ابھی تک تو قرضوں کی واپسی کا وقت بھی نہیں آیا، عالمی سطح پر سی پیک کے خلاف منفی پروپیگنڈہ بھی کیا گیا اور خاص طور پر اخبارات میں ایسے مضامین شائع کرائے گئے جن میں یہ تاثر دیا گیا کہ چین اِن قرضوں کے ذریعے پاکستان کو ”پھانسنا“ چاہتا ہے اور اس کے ذریعے اپنے مقاصد پورے کرنا چاہتا ہے، بدقسمتی سے پاکستان کے اندر بھی بعض عناصر اس پروپیگنڈے سے متاثر نظر آئے اور انہوں نے سی پیک کے منصوبوں کو ایک سال کے لئے منجمد کرنے جیسی تجویزیں دینا شروع کر دیں۔ سی پیک کے منصوبوں میں کرپشن کی کہانیاں گھڑی گئیں اور افسانے تراشے گئے،جس کا چین کی حکومت نے نوٹس لیا اور بعض الزامات کی تفصیل کے ساتھ وضاحت بھی کی،لیکن یہ کہانیاں آج بھی کسی نہ کسی انداز میں دہرائی اور پھیلائی جا رہی ہیں۔پاکستان میں چین کے سفارت خانے کی جانب سے متعدد بار ان کی تردیدیں کی جا چکی ہیں، چین نے یہ معاملہ پاکستان کے ساتھ اٹھایا بھی تھا، تب کہیں جا کر یہ سلسلہ رُکا اور اُن لوگوں کی زبانیں بند ہوئیں جو دیدہ دانستہ یا انجانے میں سی پیک کے خلاف منفی پروپیگنڈے کا ہتھیار بن رہے تھے۔

چین کے تعاون،سرمایہ کاری یا قرضوں کے ذریعے جو منصوبے مکمل ہوئے ہیں وہ کوئی خفیہ  نہیں ہیں،خاص طور پر بجلی کی پیداوار کے جو منصوبے شروع کئے گئے اور جو ریکارڈ مدت میں مکمل ہوئے اب پیداوار دے رہے ہیں اور ان کی وجہ سے12ہزار میگاواٹ سے زیادہ بجلی سسٹم میں داخل ہوئی اور آج اگر ہم طویل لوڈشیڈنگ کے عذاب سے نجات پا چکے ہیں تو اس کا زیادہ تر کریڈٹ انہی منصوبوں کو جاتا ہے۔لاہور میں اورنج ٹرین بھی اسی منصوبے کا حصہ ہے۔یہ منصوبہ پروگرام کے مطابق بہت پہلے مکمل ہو سکتا تھا،لیکن ایک کے بعد دوسری وجہ سے اس میں تاخیر ہوتی رہی،آج اگر تاخیر کی ان وجوہ کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس تاخیر سے بآسانی بچا جا سکتا تھا، لیکن ”کریڈٹ“ کا مسئلہ رکاوٹ بنا ہوا تھا، اب جب کہ لاہور کے لاکھوں لوگ روزانہ اِس سہولت سے مستفید ہو رہے ہیں اور اس کی افادیت نظر آ رہی ہے تو بھی بعض بزر جمہروں کا خیال ہے کہ جتنی رقم سے منصوبہ مکمل ہوا ہے اس سے تو ہر شخص کو کاریں خرید کر دی جا سکتی تھیں، کوتاہ نظری کی اس سے بُری مثال ملنا مشکل ہے، کیونکہ دُنیا آلودگی سے بچنے کے لئے ماس ٹرانزٹ کے ایسے منصوبے بناتی ہے اور لوگ ان سے یوں مستفید ہوتے ہیں کہ گھروں سے نکل کر قریبی میٹرو سٹیشن پر اپنی گاڑی کھڑی کرتے ہیں اور میٹرو ٹرین میں سوار ہو کر دفتر یا کاروبار پر جاتے ہیں اور واپسی پر گاڑی لے لیتے ہیں اِس سے وقت اور ایندھن کی بچت ہوتی ہے،لیکن ہمارے ہاں اس منصوبے کو دقیانوسی نظر سے دیکھا گیا اب جب اس کی افادیت الم شرح ہو رہی ہے تو بھی خفت مٹانے کے لئے لطیفے تراشے جا رہے ہیں۔

چین نے بہت بروقت بھارت کو خبردار کر دیا ہے کہ وہ سی پیک کو ناکام بنانے سے باز رہے، دفتر خارجہ نے بھی یہ عزم دہرا دیا ہے کہ سی پیک کو مکمل کیا جائے گا، ایسے میں ضرورت ہے کہ حکومت اُن عناصر پر بھی نظر رکھے جو ابھی تک ان منصوبوں کی افادیت کے بارے میں یک سو نہیں ہوئے اور اب بھی کسی نہ کسی انداز میں منصوبوں کو مشکوک بنانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، بھارت کے عزائم تو واضح ہیں۔اس نے دہشت گردی کے ذریعے منصوبے کو ناکام بنانے کی منصوبہ بندی بھی کر رکھی ہے،لیکن جن کے ارادے مخفی ہیں اُنہیں بھی ناکام بنانا ضروری ہے،کیونکہ یہ جلی اور خفی سازشیں سی پیک کے لئے یکساں نقصان دہ ہیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -