گندم اور بھی درآمد ہو گی!

گندم اور بھی درآمد ہو گی!

  

پنجاب حکومت کو گندم کی نئی فصل آنے تک آٹا بحران سے نمٹنے کے لئے مزید درآمدی گندم کی ضرورت پڑ گئی اور قومی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے صوبائی حکومت کی درخواست پر3لاکھ40ہزار ٹن گندم درآمد کرنے کی اجازت دے دی ہے،اس سے قبل بھی ٹریڈنگ کارپوریشن کے ذریعے دو  بار گندم درآمد کی جا چکی تھی۔ گندم کے ساتھ بھی چینی والا مسئلہ ہی ہے کہ گزشتہ برس کی فصل کے حوالے سے گندم فاضل قرار دی گئی اور گیارہ لاکھ ٹن گندم برآمد کر دی گئی تھی، لیکن یہاں صورتِ حال یہ بنی کہ اِسی سال آٹے کا بحران پیدا ہو گیا، اور چینی کے ساتھ ساتھ آٹے کے بحران کے بھی سکینڈل بن گئے۔ ان کے نرخ 115اور 80روپے فی کلو ہو گئے تھے، حکومت پنجاب نے اس سال کی فصل خریدنے کے لئے پوری مشینری لگائی،جس نے گھروں سے بھی گندم نکلوا کر خریداری کا دعویٰ کیا کہ ضرورت کے مطابق گندم موجود ہے۔اس کے باوجود یہاں آٹے کا بحران پیدا ہوا،احتجاج کے بعد گندم درآمد کرنے کا فیصلہ ہو گیا۔یوں دہرا نقصان ہوا، کہ سستی گندم فروخت کر کے مہنگی خریدنا پڑی، اگرچہ پنجاب میں قلت پر بہت حد تک قابو پا لیا گیا، تاہم نئی فصل اپریل کے آخری اور مئی کے پہلے ہفتے سے میسر آ سکے گی۔حکومت کی کوشش ہے کہ پیداوار زیادہ ہو اور اب قلت کا سامنا نہ ہو سکے۔گندم کی برآمد اور پھر در آمد بھی ایک کارنامہ ہے اور یہ بھی کارنامہ ہی کہلائے گا کہ چینی اور آٹے کا بحران کس نے اور کیسے پیدا کیا، کہ فاضل گندم کا دعویٰ کرنے والے صوبے کو بھی درآمدی گندم کے بحران کا سامنا کرنا پڑا اور اب تک گندم اور چینی کی برآمد کا معاملہ ہی نہیں سلجھ سکا، حقیقی واقعات کا علم نہیں ہوا اور نہ ہی ذمہ داروں کو عدالتوں میں لایا جا سکا ہے کہ اب پھر درآمد ہو رہی ہے، گندم اور چینی کے بحران کی حقائق پر مبنی رپورٹیں عوام تک پہنچنا چاہئیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -