مہنگائی،عوام خود مقابلہ کریں!

مہنگائی،عوام خود مقابلہ کریں!
مہنگائی،عوام خود مقابلہ کریں!

  

ابھی گذشتہ روز ہی عرض کیا کہ پیٹ کی آگ بُری ہوتی ہے۔اس کے ساتھ پہلے والا تجربہ پھر ہوا کہ ان دو کالموں کی پذیرائی زیادہ ہوئی،جو مہنگائی کے حوالے سے لکھے تھے،حالانکہ ہمارے خیال میں جاری سیاست اور معروضی حالات قارئین کو زیادہ متوجہ کرتے ہیں کہ ہمارے سمیت سبھی لکھاری اپنی معروضات اسی حوالے سے پیش کرتے ہیں، لیکن یہ تجربہ اپنی جگہ کہ مہنگائی والی عرضداشت پر ردعمل زیادہ آیا،اور یہ سب اس لحاظ سے تو موافق تھا کہ سبھی کی رائے میں ہم نے درست نشاندہی کی تھی،تاہم ہم سے بات کرنے اور سوشل میڈیا کے ذریعے رائے دینے والے حضرات خود زیادہ طیش میں تھے اور وہ اس حوالے سے پریشانی کا اظہار کر رہے تھے،ایک صاحب نے بتایا کہ ان کی شادی مشرقی روایات کے مطابق گھر والوں کی پسند سے ہوئی،لیکن ان کی اہلیہ پڑھی لکھی، سوجھ بوجھ والی اور بڑی مددگار ہیں، چنانچہ جلد ہی ہم دونوں ایک دوسرے کی محبت میں بھی الجھ تو کیا پھنس گئے، ان قاری صاحب کے مطابق ان کا تعلق بھی ایک اوسط گھرانے سے ہے، والدین سلامت اور ان کے ساتھ ہیں۔

ایک بچہ اور وہ سب مل کر پانچ فرد ہوتے ہیں،اچھی سرکاری ملازمت کی وجہ سے بہت اچھی گذر بسر ہو رہی تھی،لیکن جوں جوں گرانی میں اضافہ ہوا، توں توں ہماری گھریلو زندگی میں پریشانی شروع ہو گئی،اور اب تو کئی ضروریات کے حوالے سے تلخی بھی ہو جاتی ہے۔یوں مہنگائی معاشرتی مسئلہ بھی بن رہی ہے اور یہ بہت بڑا ہے کہ گھروں میں سکون نہ ہوا تو کام کاج بھی صحیح طور پر نہیں ہو سکے گا،اِس لئے حکمرانوں کو اس پہلو پر بھی غور کرنا چاہئے۔ یہ رائے تو ایک قاری کی ہے، تاہم متعدد دوسرے حضرات کے خیالات اور حالات  بھی اسی نوعیت کے ہیں،اِس لئے اسی ایک رائے پر گذارہ کریں۔

ایک محترم بزرگ جن کا تعلق راجن پور سے ہے، ذرا مختلف بات کر رہے تھے۔ یہ اکثر فون کر لیتے ہیں اور اپنی رائے سے نوازتے ہیں، بدقسمتی سے میں ان کا اسم گرامی دریافت نہیں کر پایا کہ فون ایسے وقت آ جاتا ہے جب مصروفیت ہوتی ہے۔ بہرحال اب انہوں نے مہربانی فرمائی تو یہ مشکل بھی حل کر لوں گا۔ گذشتہ روز انہوں نے فون کر کے مہنگائی کی پکار پر تعریف تو کی لیکن ساتھ ہی یہ بھی پوچھا:”آپ نے گرانی کا ذکر تو اچھے طریقے سے کر دیا،لیکن کوئی حل پیش نہیں کیا“ ہم نے گذارش کی کہ اس کا حل تو حکمرانوں ہی کے پاس ہے تو وہ بولے: ایسا بھی نہیں عوام کو بھی دُنیا کی تقلید کرتے ہوئے اس قلت اور مہنگائی کا مقابلہ کرنا چاہئے اور جس طرح یورپی ممالک نے ”ہوم گارڈننگ“ (گھریلو کاشت) شروع کر رکھی ہے، ہمیں بھی کرنا چاہئے کہ ہم تو ایک زرعی ملک کے باسی ہیں،انہوں نے بتایا کہ ان کی صاحبزادی دفتری امور کے حوالے سے بیرونی ممالک آتی جاتی رہتی ہیں اور اس کا کہنا ہے کہ یورپی ممالک میں ”گھریلو کاشت“ کا رجحان عام ہے۔شہریوں نے چھتوں، بالکونیوں، حتیٰ کہ سیڑھیوں میں گملے لگا رکھے ہیں ان میں ٹماٹر، پیاز،دھنیا اور مرچیں کا شت کی جاتی ہیں اور یوں یہ لوگ ان سبزیوں میں خود کفیل ہیں اور اس خود کفالت کے اثرات دوسری اشیاء پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں تو اس کاشت کے مواقع بہت زیادہ ہیں، کہ ہم بڑے گھروں والے ہیں، ہمارے گھروں میں چھوٹا موٹا لان اور سامنے گرین بیلٹ بھی ہوتی ہے، گملوں سے بھی پہلے یہ حصے استعمال میں لائے جائیں اور پھر گملوں میں معمول کی یہ سبزیاں کاشت کرنا شروع کی جائیں، یہ گرانی کا حقیقی مقابلہ ہو گا اور جب مارکیٹ پر اس مشق کے نتائج مرتب ہوں گے تو دوسری اشیاء بھی متاثر ہوں گی اور نرخ کم ہوں گے، ہم نے ان کی تجویز قارئین تک پہنچانے کا وعدہ کیا اور اسے ایفا کر رہے ہیں، ان کی بات معقول ہے کہ حکومت تو مہنگائی پر قابو پانے،اسے روکنے یا اس میں کمی کرانے میں قطعی ناکام ہو چکی ہے،اِس لئے عوام کو خود ہی گرانی کا مقابلہ کرنا ہو گا اور یہ تجویز اچھی ہے،جس کی وجہ سے ٹماٹر، دھنیا، پیاز اور میتھی جیسی سبزیاں تو عام ہو سکتی ہیں، بلکہ زیادہ رقبے والے تو مولی، گاجر اور گھیا وغیرہ بھی بو سکتے ہیں،اس کے لئے مہم شروع کی جانا چاہئے،

جہاں تک گوشت اور انڈوں وغیرہ کا تعلق ہے تو ہمارے دیہات میں مرغیاں اور بکریاں پرورش کرنے کی بڑی گنجائش ہے۔ ایک تو یہ ان کی آمدنی کا ذریعہ بن سکتی ہیں، دوسرے بازار پر بھی اثر انداز ہوں گی، کہ پہلے اگر شوق اور گھریلو ضرورت کی حد تک ایسا ہوتا ہے تو اب ذہن میں دوسرے شہریوں کی ضرورت کا بھی خیال کر لیا جائے، ایسا ہو جائے تو بہت فرق پڑے گا، اور یہ سب اچھا کی نوید بن جائے گی۔اب اس کے بعد یہ بھی ممکن ہے کہ ملکی سطح پر مضبوط انجمن صارفین بن جائے اور تمام صارف مکمل تعاون کریں،اگر یہ انجمن کسی شے کے بائیکاٹ کا اعلان کرے تو اس پر سب عمل کریں۔اب عوام کو خود میدان میں آ کر گرانی، ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کا مقابلہ کرنا ہو گا۔

قارئین کرام، ہمارا ارادہ تھا کہ آج پبلک ٹرانسپورٹ کے حوالے سے عوامی مشکلات اور اربوں روپے کی گاڑیاں کچرہ بن جانے کے بارے میں آگاہ کریں گے اور یہ بھی بتائیں گے کہ جو ٹرانسپورٹ چل رہی ہے اس کی تباہی میں کتنا عرصہ رہ گیا اور اس کے ملازمین کو جو چار پانچ ماہ سے تنخواہ نہیں ملی، وہ کیوں؟ اس سلسلے میں ہم نے رپورٹنگ کے لئے گذارش کی،لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب یہ شعبہ بھی من مرضی کا مالک ہے اور اپنی اپنی ”خبر“ کی تلاش ہی میں رہتا ہے۔ بہرحال آئندہ کالم میں ہم اومنی بس سے لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی تک کا سفر بتائیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -