سید سعود ساحر، چند یادیں 

سید سعود ساحر، چند یادیں 

  

ایم اے جرنلزم کا فائنل امتحان پاس کر لینے کے بعد والد صاحب مصطفی صادق  ؒ نے میری تقرری روزنامہ وفاق راولپنڈی میں کر دی۔ ایم اے کی تعلیم کے دوران وفاق لاہور میں دفتری معمولات میں شامل ہوتا رہا تھا اور ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تحریک میں رپورٹنگ کی ابتدائی تربیت بھی حاصل کر لی تھی۔راولپنڈی جانے سے قبل محترم جمیل اطہر صاحب سے رہنمائی کی درخواست کی کہ نئی ذمہ داری کی ادائیگی کے لئے کیا کرنا ہو گا محترم جمیل اطہر صاحب وفاق کے تقریباً تمام  شعبوں کو دیکھ رہے تھے انہوں نے نہایت مختصر فارمولا بتایا کہ ابھی صرف اس دفتر کے معمولات کا بغور جائزہ لو اور طریقہ کار سے آشنائی حاصل کرو! اس مشورہ  کے پس پردہ پیغام تھا کہ فی الحال کسی بھی ذمہ داری کو قبول کرنے سے قبل دفتری ماحول اور معمولات سے آشنائی حاصل کرنا ضروری ہے۔ 

 محترم والد صاحبؒ خود مجھے راولپنڈی چھوڑنے گئے اور وہاں پر بزرگ صحافی قیوم قریشی اور عنایت اللہ مرحوم سے تعارف کرایا۔ جس کے بعد باقاعدہ عملی زندگی کا آغاز ہو گیا۔ چند روز کے بعد ہی ایک دبلے پتلے جسم لیکن کڑک اور رعب دار آواز والی شخصیت شام کے وقت وفاق راولپنڈی تشریف لاتی ہے جن کے ہمراہ ایک اور صاحب ہیں یہ سید سعود ساحر اور مختار حسن صاحب تھے۔ سعود ساحر صاحب کو قیوم قریشی مرحوم نے بھجوایاتھا تاکہ راولپنڈی اسلام آباد کی صحافت کے حوالہ سے راہنمائی فراہم کی جا سکے۔ سعود ساحر صاحب نے نہایت بے تکلفی سے اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ آپ ہمارے بزرگوں کی اولاد ہیں اور ہمارے لئے وہ بہت قابل احترام ہیں راولپنڈی اسلام آباد میں رپورٹنگ اور دیگر معمولات کے لئے ہر قسم کا تعاون ہماری ذمہ داری ہے جس پر میں نے کہا کہ آپ سے غائبانہ تعارف تھا آج بالمشافہ ملاقات ہو گئی جس کی بے حد خوشی ہے میرے اصرار کے باوجود وہ اس روز چائے پئے  بغیر ہی چلے گئے تاہم پھر معمول بن گیا اور جو خبر وہ جسارت کو  بھجواتے تھے وہ وفاق کے لئے بھی دیتے رہے ان کی صلاحیتوں کا زمانہ معترف تھا میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ وہ جب بھی دفتر آتے تو فرماتے کاغذ قلم لو اور خبر لکھو اور تمام خبر کسی نوٹس کے بغیر زبانی تحریر کراتے تھے یہ سلسلہ کافی عرصہ تک جاری رہا بعدازاں مجھے راولپنڈی اور اسلام آباد میں ہونے والی سیاسی اور پارلیمانی سرگرمیوں میں بھی شرکت کیلئے ہر طرح سے تعاون اور راہنمائی کرتے تھے سعود ساحر کو مرحوم لکھتے ہوئے قلم رک جاتا ہے اور دل و دماغ پر بوجھ پڑ جاتا ہے کہ کیسے کیسے عظیم لوگ جو محسن بھی تھے اور استاد بھی  راہنما بھی تھے مٹی میں چلے گئے اللہ ان کے درجات بلند فرمائے آمین! چونکہ موت اٹل حقیقت ہے لہٰذا صبر کرنا پڑتا ہے۔

سعود ساحر کے ساتھ 1980 کے اوائل میں شروع ہونے والا پیار و محبت اور استاد شاگرد کا تعلق الحمد اللہ اب تک قائم ہے ان کی جدائی کا صدمہ اپنی جگہ اب دعائے مغفرت کی ذمہ داری آن پڑی ہے انشاء اللہ پوری کروں گا ان کو راولپنڈی اسلام آباد کے صحافیوں کے علاوہ سیاسی دینی اور دیگر حلقوں میں بہت زیادہ عزت و تکریم حاصل تھی،جس کی بہت سی وجوہات ہوں گی لیکن شاہ صاحب کی دیانتداری اصول پسندی اور کھری صحافت سب سے نمایاں تھی اس عرصہ میں کبھی بھی انہیں کسی کے سامنے جھکتے اور وقار کے خلاف عمل کرتے نہیں دیکھا! حکمرانوں، سیاست دانوں سے نہایت عزت و احترام اور وضع داری سے ملتے تھے اور اپنی بات کو ڈنکے کی چوٹ پر منواتے تھے جس میں کسی بھی قسم کے ذاتی لالچ یا حرص کا شائبہ تک نہیں ہوتا تھا۔ جب میں نے راولپنڈی میں صحافتی سفر کا آغاز کیا اس وقت ذوالفقار علی بھٹو اپنی سیاسی اور زندگی کی اننگز کھیل کر ملک عدم سدھار چکے تھے تاہم ان کے سیاسی اثرات ابھی تک محسوس کئے جاتے تھے جنرل ضیاء الحق کا دور شروع ہو چکا تھا بعدازاں بے نظیر بھٹو نواز شریف اور دیگر حکمرانوں کی حکومتیں آئیں اور چلی گئیں۔ شاہ صاحب کے ساتھ تعلقات نا صرف مضبوط ہوتے گئے بلکہ ان میں اضافہ بھی ہوا۔

زندگی نے کروٹ بدلی اور مجھے ناگزیر وجوہ پر روزنامہ جنگ میں ملازمت کرنا پڑی جو 13سال تک جاری رہی اس دوران بھی شاہ صاحب سے رابطہ بھی رہا بلکہ بعض اوقات ہمارے درمیان خبروں کا تبادلہ بھی ہوتا رہا۔ ایک مرحلہ پر حکومتی حلقوں نے میرے بارے میں شاہ صاحب سے معلومات حاصل کیں تو انہوں نے میرا مقدمہ نہایت جاندار طریقہ سے پیش کیا جس کا ذکر کام مکمل ہو جانے کے بعد شاہ صاحب نے میرے ساتھ ذکر کیا اور پوچھا کہ میں نے کوئی بات غلط تو نہیں کی ہے ان کی بے لوث محبت اور شفقت کا بدلہ میں کسی بھی طرح نہیں دے سکوں گا جب روزنامہ جنگ سے علیحدگی ہوئی تو شاہ صاحب نے فون کر کے  انتہائی محبت  اور شفقت  کے انداز میں روزنامہ امت میں اپنے ساتھ کام کرنے کا فیصلہ سنایا اور تاکید کی کہ جلد از جلد رابطہ کرو اور ذمہ داری سنبھال لو اب ہم بوڑھے ہو رہے ہیں آپ کو ذمہ داری دینا چاہتا ہوں چونکہ روزنامہ وفاق کا ڈیکلریشن میرے نام پر منتقل ہو چکا تھا میری پہلی ترجیح وفاق کو خستہ حالی سے نکالنے اور باقاعدگی سے شائع کرنا تھا۔ جو مرحوم والد صاحب کی شدید خواہش اور وصیت بھی تھی۔

 شاہ صاحب نے دو تین روز گزر جانے کے بعد دوبارہ  فون کر کے حکم دیا کہ فوراً دفتر آجاؤ اگر گاڑی نہیں ہے تو ڈرائیور بھیج دیتا ہوں راولپنڈی میں روزنامہ امت کا دفتر میری رہائش سے 10منٹ کی پیدل مسافت پر تھا میں نے شاہ صاحب سے درخواست کی کہ صبح کے وقت ملاقات کر لیتے ہیں جس پر راضی ہو گئے اور اگلے دن پھر فون آ گیا کہ میں خصوصی طور پر آپ سے ملاقات کے لئے آیا ہوں جلد آ جاؤ۔انہوں نے دفتر کا ایڈریس بھی سمجھایا۔انہوں نے بتایا کہ میرے کمرے کے ساتھ آپ کا کمرہ ہے جس میں فی الحال ہیٹر کا انتظام نہیں ہے وہ جلد لگ جائے گا اور مجھے ذمہ داریوں سے متعلق آگاہ کرتے رہے میں نے وفاق کی ذمہ داری سے آگاہ کیا تو حکم ہوا اس کمرہ کو وفاق کا دفتر بھی بنا لو اب تو سب کچھ ان لائن ہے اور کمپیوٹر سے بھی واقفیت رکھتے ہو پھر کس بات کی رکاوٹ ہے۔ چونکہ میں دیانتداری سے سمجھتا تھا کہ وفاق کی تمام ذمہ داریاں میرے پاس ہیں سٹاف رکھنا ناممکن تھا لہٰذا شاہ صاحب سے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ لاہور بھی جانا پڑتا ہے میں باقاعدگی کے ساتھ امت کے دفتر میں حاضر نہیں ہو سکوں گا رفیق افغان صاحب اور آپ کی محبت کو کھونا نہیں چاہتا لہٰذا ایسی ذمہ داری سے معذرت قبول کر لیں شاہ صاحب کو یقیناً میری معذرت پسند نہیں آئی تھی انہوں نے اظہار بھی نہیں کیا لیکن گفتگو سے ان کی مایوسی جھلک رہی تھی وہ دراصل میرا ذریعہ معاش بنانا چاہتے تھے اور میں دیانتداری سے امت کیلئے مناسب وقت دینے سے قاصر تھا۔ اللہ تعالیٰ ان کو اگلی زندگی میں جنت کے اعلیٰ  ترین مقام پر فائز فرمائیں۔ آمین!

مزید :

رائے -کالم -