نواز شریف کا بیانیہ قائد اعظم کا بیانیہ ہے، محموداچکزئی 

نواز شریف کا بیانیہ قائد اعظم کا بیانیہ ہے، محموداچکزئی 

  

چارسدہ (بیورورپورٹ) محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ حکومت سے مذاکرات کی ایک ہی شرط ہے۔ افواج پاکستان، آرمی چیف اور انٹیلی جنس ادارے سیاست سے وابستگی ختم کرنے کا باضابطہ اعلان کریں تب پی ڈی ایم مذاکرات پر غور کریگی۔ نواز شریف کا بیانیہ قائد اعظم کا بیانیہ ہے۔ وہ چارسدہ میں میڈیا سے بات چیت کر رہے تھے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے واضح طور پر کہا تھا کہ افواج پاکستان آئین کے پابند ہونگے مگر 70سال سے پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ قائد اعظم کے بیانیہ سے روگردانی کر رہے ہیں۔ آئین پاکستان میں واضح لکھا ہے کہ جس کے ہاتھ میں بندوق ہو وہ سیاست میں حصہ نہیں لے سکتامگر پاکستان میں عملا ایسا نہیں ہو رہا۔ انہوں نے کہاکہ جاسوس ادارے ملک کے آنکھ اور کان ہوتے ہیں مگر ہمارے ادارے ناکام ہیں اور بڑے بڑے واقعات کے محرکات اور مجرمان تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہے۔ انہوں نے کہاکہ آج بھی توپوں کی گن گرج سنائی دے رہی ہے جو ہمارے بچوں کو مارے گا وہ ہمارا دشمن ہے۔ ہمیں پاکستان میں دوسرے درجے کا شہری بننا قبول نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی ڈی ایم پاکستان بچانے کی تحریک ہے۔ پر آمن تحریک کو خانہ جنگی کی طرف نہ دھکیلا جائے۔انہوں نے کہا کہ آئین کو توڑنے والا اور آئین شکنوں کا ساتھ دینے والا دونوں غدار ہیں۔طاقت کا سرچشمہ پارلیمنٹ ہے مگر پارلیمنٹ کو ڈکٹیٹ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سینٹ کو بھر پور اختیارات ملنے چاہئے۔ مہنگائی کی طوفان نے غریب عوام کا جینا محال کر رکھا ہے۔ پرائمری تک نصاب تعلیم کو مادری زبان میں رکھا جائے۔ انہوں نے کہاکہ پی ڈی ایم اور حکومت کے مابین مذاکرات کیلئے صرف ایک شرط ہے اور وہ یہ کہ آرمی چیف، فوج اور انٹیلی جنس ادارے واضح اعلان کریں کہ وہ سیاست سے لا تعلق ہونگے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -