موجودہ حکومت کورونا ہے جسے اب جانا چاہیے، رانا ثناء اللہ 

موجودہ حکومت کورونا ہے جسے اب جانا چاہیے، رانا ثناء اللہ 

  

لاہور(نامہ نگار)انسداد منشیات کی خصوصی عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ یہ حکومت کورونا ہے جسے اب جانا چاہیے،قوم کو دوقسم کے کرونا کا سامنا ہے ایک کورونا سے 2 فیصد مرنے کا خدشہ ہے دوسرا کورونا حکومتی کرونا ہے اس میں 100 فیصد مرنے کا خطرہ ہے،اگر حکومتی کورونا 6 مہینے رہ گیا تو یہ سب کچھ تباہ کردے گا،عوام حکومتی کورونا کے خلاف باہر نکلیں اگر یہ 6 ماہ رہ گئے تو لوگ بھوک سے مارے جائیں گے  22نومبر کوپشاور جلسہ ہر صورت ہو گا اور 30نومبر کو ملتان میں بھی جلسہ ضرور ہوگا ا  انسداد منشیات کی خصوصی عدالت کے جج شاکر حسن نے سابق وزیرقانون پنجاب رانا ثناء اللہ کے خلاف 15کلو ہیروئین برآمدگی کیس کی مزید سماعت5دسمبر تک ملتوی کردی  گزشتہ روز بھی ملزموں پر فرد جرم عائد نہیں ہوسکی،کیس کی سماعت شروع ہوئی تو رانا ثناء اللہ کے وکیل فرہاد علی شاہ نے عدالت سے فرد جرم عائد نہ کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب بارکونسل کے الیکشن کے حوالے سے پراسیکیوٹر جنرل نے میٹنگ رکھی ہوئی ہے،گزشتہ تاریخ سماعت پر بھی عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ کیس کی سماعت پنجاب بارکونسل کے الیکشن کے بعد تک ملتوی کی جائے،  فاضل جج نے کہا کہ رانا ثناء اللہ کا کیس فرد جرم کی کارروائی کے لئے مقررہے،آپ چھوٹی سی کارروائی ہونی ہے اسے ہونے دیں،  سماعت راناثناء اللہ نے عدالت کوبتایا کہ اے این ایف نے میرے ذاتی بیگ سے منشیات کی برآمدگی ڈالی ہے  اس بیگ کی بنیاد پر یا تو مجھے سزا ہونی ہے یا پھر شہریار آفریدی کو سزا ہونی ہے،وہ میرا ذاتی بیگ ہے بیگ میں کپڑے وغیرہ تھے،اس بیگ کا میرے ملازمین یا گارڈ زسے کیا تعلق ہے،رانا ثناء اللہ کے وکیل سید فرہاد علی شاہ نے کہا کہ آئندہ سماعت پر اگر اعظم نذیر تارڑ عدالت میں پیش نہیں ہوئے تو وہ بحث کریں گے،عدالت نے دلائل سننے کے بعد کیس کی مزید سماعت5دسمبر پر ملتوی کردی۔اینٹی نارکوٹکس فورس نے مقدمہ کاچالان عدالت میں پیش کررکھاہے جس میں کہا گیاہے کہ رانا ثنا اللہ کے خلاف سی این ایس اے 1997ء کی دفعات 9 سی، 15 اور 17 کے تحت کیس درج کیا گیا۔

مزید :

علاقائی -