پن بجلی گھروں کے جاری منصوبوں کی مقررہ مدت کے اندر تکمیل یقینی بنائی جائے: محمودخان 

پن بجلی گھروں کے جاری منصوبوں کی مقررہ مدت کے اندر تکمیل یقینی بنائی جائے: ...

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے صوبے میں جاری پن بجلی کے منصوبوں کی بروقت تکمیل کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ پن بجلی گھروں کے جاری منصوبوں کی مقررہ مدت کے اندر تکمیل جبکہ مجوزہ منصوبوں پر عملی پیشرفت کو دئے گئے ٹائم لائینز کے مطابق یقینی بنایا جائے۔ صوبائی حکومت کے ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کے قیام کو بجلی کی پیداوار میں خود کفالت کے لئے اہم پیشرفت قرار دیتے ہوئے وزیر اعلی نے محکمہ انرجی اینڈ پاور کے حکام کو ہدایت کی ہے کہ کمپنی کے لئے درکار افرادی قوت کی بھرتیوں کا عمل جلد شروع کی جائے تاکہ اس کمپنی کے قیام کے مقاصد بلا تاخیر حاصل کئے جا سکیں۔وہ گزشتہ روز محکمہ انرجی اینڈ پاور کے ایک جائزہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ وزیراعلیٰ کے مشیر برائے توانائی حمایت اللہ خان اور سیکرٹری انرجی اینڈ پاور محمد زبیر کے علاوہ محکمہ انرجی اینڈ پاور اور پیڈو کے دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ صوبے میں توانائی کے جاری اور نئے منصوبوں پر پیشرفت کے بارے میں اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ محکمہ توانائی کے سالانہ ترقیاتی پروگرام 2020-21 میں شامل چھ نئی اسکیموں کی منظوری لی جا چکی ہے جبکہ دو نئے منصوبوں کے پی سی ون منظوری کیلئے متعلقہ فورم کو پیش کئے گئے ہیں۔  ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے 300 میگاواٹ بالاکوٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کیلئے موصول شدہ بڈز کے تکنیکی جائزے کا عمل شروع ہے اور آئندہ سال فروری تک منصوبے پر تعمیراتی سرگرمیوں کا آغاز کیا جائے گا۔ مزید بتایا گیا کہ صوبے میں 356 چھوٹے پن بجلی گھروں کی تعمیر کے منصوبے کے پہلے مرحلے پر 93 فیصد کام مکمل کر لیا گیا ہے جس پر اب تک 4352 ملین روپے خرچ کئے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ کلین انرجی تک رسائی کے منصوبے کے تحت مختلف دریاؤں، کینالوں وغیرہ پر 672 مائیکرو ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کی تعمیر کیلئے کنٹریکٹرز کی ہائرنگ کا عمل بھی شروع ہے۔ 88 میگاواٹ کے گبرال کالام ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور 157 میگاواٹ مدین ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی تعمیر کے منصوبوں پر بھی ٹائم لائن کے مطابق پیشرفت جاری ہے۔ اسی طرح 17میگاواٹ کے رانولیا ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کا سول ورک، الیکٹرو مکینکل ورک، پاور ہاؤس، ٹرانسمیشن لائن اور سوِچ یارڈ مکمل کر لئے گئے ہیں۔ آئندہ سال اپریل تک منصوبے کا کمرشل آپریشن شروع کر دیا جائے گا۔ 84 میگاواٹ گورکن مٹلتان ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر60 فیصد سول ورک مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ سوِچ یارڈ کی تعمیر جلد شروع کر دی جائے گا۔ 10.2 میگاواٹ جبوڑی ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کا 97 فیصد سول ورک جبکہ 11.8 ہائیڈرو پاورپراجیکٹ پر 94 فیصد سول ورک مکمل کیا گیا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ضلع کرم میں 10.5 میگاواٹ کے چھپڑی چار خیل ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کا سنگ بنیاد آئندہ سال جنوری میں رکھا جائے گا۔ یہ منصوبہ 4378 ملین روپے کی لاگت سے تعمیر کیا جائے گا۔ اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ صوبائی ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کے قیام کیلئے فزیبلٹی سٹڈی پیش کر دی گئی ہے جبکہ آئندہ ماہ نیپرا کی طرف سے منصوبے کیلئے لائسنس کا اجراء متوقع ہے۔  اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ صوبے میں آٹھ ہزار سکولوں کی سولرائزیشن کا کنٹریکٹ ایوارڈ کر دیا گیا ہے جبکہ 187 بنیادی مراکز صحت کی سولرائزیشن کیلئے کنٹریکٹ جلد جاری کردیا جائے گا۔ اس کے علاوہ 4000 مساجد کی سولرالیکٹریفکیشن پر بھی مقررہ ٹائم لائن کے مطابق پیشرفت جاری ہے۔ ضلع کرم میں 66 KV گرڈ سٹیشن علیزئی کی اپ گریڈیشن کے منصوبے کا سول ورک مکمل ہے جبکہ دوسرے سرکٹ کی تعمیر کیلئے ٹھیکہ دے دیا گیا ہے۔ اجلاس کو مدہ، کلایااور غلجو میں 66 kv گرڈ سٹیشنز کی اپ گریڈیشن کے علاوہ شمالی و جنوبی وزیرستان، بنوں، لکی، ٹانک، ڈی آئی خان،کرم، اورکزئی، باجوڑ، مہمند، خیبر اور دیگر اضلاع میں 11 کے وی فیڈرز کی فراہمی وبحالی کے منصوبوں پرپیشرفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔ 

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ صحت انصاف کارڈ اسکیم کو صوبے کی سو فیصد آبادی تک توسیع کے سلسلے میں اس سال یکم دسمبر سے ضلع شانگلہ اور بونیر کی سو فیصد آبادی تک اس اسکیم کو توسیع دی جارہی ہے۔ ان اضلاع کی سو فیصد آبادی تک صحت انصاف کارڈ کی توسیع سے ان اضلاع کے لوگوں کو علاج معالجے کی مفت اور معیاری سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم ہونگی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت صوبے کے پسماندہ اضلاع کو ترقی کے میدان میں دیگر ترقیاتی یافتہ اظلاع کے برابر لانے کے لئے وہاں پر سڑکوں اور دیگر انفراسٹرکچرز کی تعمیر کے علاوہ وہاں پر سیاحت کے فروع سمیت لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جس نے وزیر اعلی سیکرٹریٹ میں ان سے ملاقات کی اور اپنے آبائی ضلع شانگلہ میں ترقیاتی منصوبوں اور عوامی مسائل کے حل سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔ پسماندہ اضلاع کی ترقی کو اپنی حکومت کی اہم ترجیح قرار دیتے ہوئے وزیر اعلی نے کہا صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع سمیت صوبے کے تمام پسماندہ اضلاع کی پائیدار بنیادوں پر ترقی اور وہاں کی پسماندگی کو دور کرنے کے لئے ایک مربوط حکمت عملی کے تحت کام کر رہی ہے۔ اس موقع پر کورونا کے تناظر میں پشاور میں پی ڈی ایم کے جلسے سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔ وزیر اعلی نے صوبائی حکومت کی طرف سے مذاکرات کی کوشش کے باوجود کورونا کی اس نازک صورتحال میں پی ڈی ایم کی طرف سے جلسے کے انعقاد پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم  اس سلسلے میں انتہائی غیر سنجیدگی اور غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت لوگوں کی جانیں بچانے کے لئے لاک ڈاون سمیت دیگر حفاظتی تدابیر پر عملدرآمد کروا رہی ہے اور دوسری طرف پی ڈی ایم والے اپنی سیاست چمکانے کے لئے ایسے نازک موقع پر عوامی جلسے کا انعقاد کر کے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہے ہیں جو قابل افسوس ہے

مزید :

صفحہ اول -