بیرون ممالک سے تارکین وطن واپس آگئے تو معیشت بیٹھ جائیگی: سٹیٹ بنک

      بیرون ممالک سے تارکین وطن واپس آگئے تو معیشت بیٹھ جائیگی: سٹیٹ بنک

  

 کراچی(این این آئی) سٹیٹ بینک نے بیرون ملک مقیم کارکنوں کی زبردستی وطن واپسی پر انتباہ جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ یہ اقدام ملکی معیشت کیلئے سنگین مسائل پیدا کرسکتا ہے، حکومت صورتحال سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی تیار کرے۔مرکزی بینک کی رپورٹ کے مطابق حکومت کو ایک طویل المیعاد حکمت عملی وضع کرنی چاہیے اور نقل مکانی کی جامع پالیسی کو اپنانا چاہیے۔اگر مہاجرین کو جبری وطن واپسی پر مجبور کیا جاتا ہے تو موجودہ فریم ورک ان کی مشکلات کو دور کرنے کے لیے کوئی جامع عملی منصوبہ پیش نہیں کرتا۔بیرون ملک جن ایک لاکھ ملازمتوں کیلئے بھرتی کا عمل جاری تھا وہ کوروناکے باعث درہم برہم ہوگیا ہے اور جب تک بھرتی منصوبوں کو بحال نہیں کیا جاتا اس وقت تک یہ نوکریاں دوبارہ آنے کا امکان نہیں۔تقریبا 50ہزار پاکستانی تارکین وطن کو مختلف ممالک میں چھٹیوں کا سامنا کرنا پڑا، یہ ملازمتیں قلیل مدت میں بحال نہیں ہوسکتیں اور اس طرح وہ انتہائی خطرے سے دوچار ہیں۔50ہزار تارکین وطن 20جون تک ادائیگی یا بلا معاوضہ چھٹیوں پر واپس آئے، ان افراد کو نوکریوں سے فارغ نہیں کیا گیا لیکن ان کی ملازمت کا تسلسل خطرے میں ہے۔جبری برطرفی کی صورت میں مزدوروں کو معاوضہ اور دیگر واجبات بھی نہیں ملے اور اسی وجہ سے خود ہی سفر کے اخراجات کا بندوبست کرنا مشکل ہوگیا۔مختلف مقامات پر پھنسے پاکستانیوں کی حالیہ تعداد خلیجی خطے میں زیادہ ہے جس میں صرف دو ممالک یعنی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں 91فیصد سے زیادہ ہے۔

 اسٹیٹ بنک 

مزید :

صفحہ اول -