ہماراہی نہیں خطے کا مستقبل سی پیک سے وابستہ، سازشیں ناکام، تحفظ یقینی بنا ئینگے: شاہ محمود قریشی 

ہماراہی نہیں خطے کا مستقبل سی پیک سے وابستہ، سازشیں ناکام، تحفظ یقینی بنا ...

  

ملتان (نیوز رپورٹر)  وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمو د قریشی نے کہا ہے کہ اپوزیش کرونا کی حساسیت کو سمجھے، سیاست کی آڑ میں انسانی جانوں کو دا? پر نہ لگائے۔ حکومت جلوسوں سے خوفزدہ نہیں‘ جلوسوں سے حکومتیں نہ تو بنتی ہیں اور نہ گرتی ہیں۔ حکومت کو قیمتی انسانی جانوں کا احساس ہے۔ عدالتی اور حکومتی احکامات کے بعد جلسے منعقد کرنے کا کوئی قانونی اور اخلاقی جوازنہیں بنتا۔ اپوزیشن مفاد پرستی کی سیاست کررہی ہے۔ اور ملک میں افرا تفری پھیلانا چاہتی ہے۔ انکا جلسے منعقد کرنے پر بضد ہونا ان کی غیر جمہوری سوچ اور غیر ذمہ دارانہ رویے کا عکاس ہے۔ اپوزیشن سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو کرونا کے حوالے سے حکومتی ایس او پیز پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ملتان میں اپنے حلقہ انتخاب کی مختلف یونین کونسلوں کے دورہ کے دوران وفود سے ملاقات‘ استقبالیہ تقاریب سے خطاب اور پی ٹی آئی کارکنوں سے ملاقات و خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کرونا کی دوسری لہر اس وقت پیک پر ہے اور حکومت کی کوشش ہے قیمتی جانوں کو بچایا جائے۔ لیکن اس نازک وقت میں اپوزیشن غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ جو کہ افسوس ناک بات ہے۔ کرونا کے معاملے پر اپوزیشن کو سیاست نہیں کرنی چاہئے بلکہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا سی پیک پاکستان کیلئے گیم چینجر ہے۔کچھ قوتیں سی پیک کو نقصان پہنچانا چاہتی ہیں۔ وہ نہیں چاہتیں کہ سی پیک پایہ تکمیل تک پہنچے۔ ہمارا اور اس خطے کا مستقبل سی پیک سے جڑا ہوا ہے اس کی ہر ممکن حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے ہم پرعزم ہیں۔ چین بھی اس اقتصادی راہداری کی اہمیت کو سمجھتا ہے اس لیے انہوں نے سی پیک کی سیکورٹی کے حوالے سے واضح پیغام دیا ہے۔ہم چین کے ساتھ ملکر سی پیک کی حفاظت کریں گے اور ان منصوبوں کو پایہ ء تکمیل تک پہنچائیں گے۔انہوں نے کہا نواز شریف نے چار سال تک وزیر خارجہ کا تقرر نہ کرکے ملک کو نقصان پہنچایا۔ سابقہ حکومت کی ناقص خارجہ پالیسی کی بدولت پاکستان عالمی دنیا میں تنہا رہ گیا تھا۔ عمران خان نے وزیراعظم بننے کے بعد خارجہ پالیسی کی اہمیت کو سمجھا اور اس پر توجہ دی۔ ہماری کامیاب خارجہ پالیسی کی بدولت عالمی سطح پر پاکستان کا وقت بلند ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا وزیراعظم کا دورہ افغانستان کامیاب رہاہے۔ پاکستان افغانستان میں قیام امن سمیت خطے کیاستحکام کیلئے کوششیں کررہاہے۔" افغان امن عمل" آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے دوحہ میں بھی بات چیت چل رہی ہے۔افغان امن کے حوالے سے پاکستان کا موقف پہلے دن سے یہی تھا کہ افغانستان میں امن طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ بات چیت کے ذریعے ہی حل ہو سکتا ہے۔ اس صورت حال میں وزیر اعظم عمران خان کے دورہ کابل کا مقصد اس پیغام کا اعادہ کرنا تھا کہ پاکستان افغان امن عمل کو منطقی انجام تک پہنچانے اور افغانستان میں مستقل اور دیرپا امن کے خواب کو شرمندہ تعبیر دیکھنے کیلئے پرعزم ہے اور پاکستان اس ضمن میں اپنی پوری معاونت جاری رکھے گا۔دورہ کابل کے ذریعے پاکستان اور افغانستان کے مابین دو طرفہ تعلقات کو وسعت دینا بھی ہمارے پیش نظر تھا۔ افغانستان کے ساتھ دو طرفہ اقتصادی تعاون کے فروغ کے حوالے سے بھی افغان قیادت کے ساتھ، ہماری اہم نشستیں ہوئیں۔ان نشستوں میں ہم نے ٹرانزٹ ٹریڈ، دو طرفہ تجارت اور علاقائی روابط کے فروغ کے ذریعے دو طرفہ کثیر الجہتی اقتصادی تعاونکو بڑھانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔قبل ازیں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ملتان میں مصروف دن گزارا۔ یونین کونسل 62 میں پی ٹی آئی رہنما ملک سلیم لدھر سے ملاقات کی۔ یونین کونسل 38 میں سابق چیئرمین ملک ساجد نواز کھوکھر سے ان کے خالو کی وفات پر اظہار تعزیت کیا۔ یوسی 37 میں سابق کونسلر رانا فرخ کو ان کی ہمشیرہ کی شادی پر مبارک باد دی۔ یوسی 45 میں سابق چیئرمین ملک شہزاد والوٹ کے استقبالیہ میں شرکت کی۔ یوسی 45 میں مقبول ارائیں کے اوپن ایئر شادی ہال کاافتتاح کیا۔ یوسی45 میں سابق کونسلر مشتاق کو ان کی صاحبزادی کی شادی پر مبارک باد پیش کی۔ پی ٹی آئی ورکر غلام حسین سے ان کی بھابی کی وفات پر تعزیت کی۔ یوسی 46 میں پی ٹی آئی رہنما رانا فاروق کی طرف سے استقبالیے میں شرکت کی۔ یوسی 45 رنگیل پور میں راناسجاد حمید کی رہائش گاہ پر ظہرانے میں شرکت کی۔ یوسی 14 میں سابق چیئرمین بابر شاہ کی رہائش گاہ پر معززین علاقہ سے ملے ان کے مسائل سنے اور ان کے حل کیلئے احکامات جاری کئے۔ اس موقع پر صوبائی معاون خصوصی حاجی جاوید اختر انصاری بھی موجود تھے۔دریں اثناء یونین کونسل 45تحریک انصاف کے سینئر رہنماء رانا سجاد حمید کی جانب سے دیے گئے استقبالیہ کے موقع پر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عوام حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایس او پیز پر عمل کرئے احتیاط نہ کرنے کی وجہ سے کرونا وائرس کے مریضوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔عوام نے اس سے پہلے جو کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے احتیاطیں کی تھیں وہ اب راہیگاں جا رہی ہیں۔موسم سرما کی وجہ سے بھی کروناوائرس کے مریضوں میں اضافہ ہورہا ہے اگر یہی حالات رہے تو ہسپتالوں میں پاؤں رکھنے کی جگہ بھی نہ ہوگی۔رنا سجاد حمید نے مزید کہا کہ اپوزیشن جلسے جلوس کر کے عوام کی جانوں کو خطرے میں نہ ڈالیں ایس پیز پر عمل نہ ہونے کہ وجہ سے جلوسے جلوسوں میں کرونا وائرس پھیلنے کا خطرہ زیادہ ہے۔استقبالیہ میں ملک سیف بھٹہ، شیخ طاہر، غلام سرور، ملک اسلم، شمشاد اختر، ماسٹر ارشاد، چوہدری اسلم، رانا کاشف، ملک اعجاز بھٹی، رانا حمزہ، راؤ نادر، رانا عاقب، رانا فیضان، رانا طارق، چوہدری مقبول، راؤ رشید، رانا محمد علی، چوہدری شفیع، رانا ارشد ودیگر نے شرکت کی۔

خطاب

 اسلام آباد (آن لائن) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ ہمارا اور خطے کا مستقبل سی پیک سے جڑا ہے، ہر ممکن حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے پر عزم ہیں،بھارتی ہتھکنڈوں پرپا کستا ن خاموش نہیں رہیگا،سی پیک کیخلاف سازش کرنے پربھارت کوناکامی ہوگی،ہم چین کیساتھ ملکر سی پیک کی حفاظت کریں گے اور ان منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔ہفتہ کو وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے سی پیک کے حوالے سے بیان میں کہا پچھلے دنوں ہم نے ڈی جی آئی ایس پی آر کیساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں ایک ڈوزیئر پیش کیا تھا جس میں ہم نے شواہد کیسا تھ واضح کیا تھا کہ کس طرح ہندوستان، پاکستان کے اندر دہشت گردانہ کارروائیوں کی پشت پناہی کر رہا ہے اور سی پیک کے تحت منصوبوں کو نشا نہ بنانے کے درپے ہے،ہم نے واضح کیا تھا ہندوستان نے اس مقصد کیلئے ایک سیل بنایا ہے جس کیلئے 80 ارب کے لگ بھگ رقم مختص کی گئی ہے۔ چین اقتصا دی راہداری کی اہمیت کو سمجھتا ہے اسلئے انہوں نے سی پیک کی سکیورٹی کے حوالے سے واضح پیغام دیا ہے۔ ڈوزئیر میں ظاہر کیے گئے خدشات کو ہم اقوام متحدہ، او آئی سی سمیت تمام اہم عالمی فورمز پر اٹھائیں گے،بھارت کا رویہ غیر ذمہ دارانہ ہے اس کو ہر محاذ پر ناکامی ہو گی۔ پاکستان افغانستان میں قیام امن سمیت خطے کے استحکام کیلئے کوششیں کررہاہے۔ 

شاہ محمود

مزید :

صفحہ اول -