پنجاب بار کونسل الیکشن‘ امیدواروں کو ریٹرننگ  آفیسر کی طرف سے وارننگ‘ حاضری کی  ہدایت‘ ہائی کورٹ میں درخواست پر سماعت  داد رسی کے پیش نظر رٹ پٹیشن واپس

 پنجاب بار کونسل الیکشن‘ امیدواروں کو ریٹرننگ  آفیسر کی طرف سے وارننگ‘ ...

  

 ملتان (خصو صی رپورٹر) ہائیکورٹ ملتان بنچ کے جج جسٹس رسال حسن سید نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب و ریٹرننگ آفیسر پنجاب بار کونسل انتخابات کی جانب سے امیدواران ممبر پنجاب بار کونسل کا اجلاس بلانے کے خلاف درخواست(بقیہ نمبر40صفحہ 6پر)

 پر سماعت کی۔امیدوار ممبر پنجاب بار کونسل محمد نواز ملک نے درخواست میں موقف اختیار کیا کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کی غیر ضروری اجلاس کال اور دیئے گئے احکامات کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔ 17/18 نومبر کی آدھی رات کو ویڈیو پیغام کے ذریعے پنجاب بار کے تمام امیدواران کو اس وارننگ کے ساتھ لاہور طلب کیا گیا کہ تمام امیدواران صبح 9 بجے حاضری لگائیں اور حاضر نہ ہونے والے امیدوار نتائج کے خود ذمہ دار ہونگے، پنجاب بھر کے دور دراز سے کئی امیدواران رات بھر سفر کی صعوبت اور کم وبیش دس سے بارہ ہزار فی کس خرچ کرکے لاہور پہنچے،جہاں ریٹرننگ آفیسر نے صرف دو منٹ کی تقریر کے دوران حکم دیا کہ امیدواران پنجاب بار کونسل ایکٹ دفعہ10b/aکی سختی سے تعمیل کریں، اور ایک بیان حلفی داخل کریں، پوسٹر وغیرہ اتاریں اور ووٹروں کی دعوتیں نہ کریں اور اس کے ساتھ ہی اجلاس ختم ہوگیا، اس معاملے سے امیدواران کی سخت دل آزاری ہوئی۔ مزید موقف اختیار کیا کہ نصف صدی سے شعبہ وکالت سے منسلک وکلا کی اسناد متعدد بار تصدیق ہوچکی ہیں،پھر بھی اسناد کی بار بار تصدیق کرنا بے معنی اور غیر قانونی ہے نیز جب امیدواران پہلے اپنے کاغذات نامزدگی داخل کرتے وقت ایکٹ کی دفعہ10a/b کی تعمیل کرنے کے حوالے سے بیان حلفی دے چکے ہیں،تو ان کو رات کے وقت میں ویڈیو کال کے ذریعے وارننگ دیتے ہوئے صوبہ پنجاب کے دور درا علاقوں سے صرف دو منٹ کی تقریر کے لئے بلانا غیر ضروری و غیر قانونی ہے۔ اجلاس میں 110 ممبران شریک ہوئے، اے جی پنجاب کو صوبہ بھر کے امیدواران کو شارٹ نوٹس کرنا بار کونسل ایکٹ کی خلاف ہے۔رٹ کی سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور حکومت پنجاب کی طرف سے لاء آفیسر احمد ندیم گھیلا پیش ہوئے اور رٹ قابل سماعت ہونے کا سوال اٹھایا تو پٹشنر نے داد رسی کے حصول کے تناظر میں رٹ درخواست واپس لے لی۔ پٹشنر نے میڈیا کو بتایا کہ رٹ پت اعتراض عائد ہوا ہے اس وجہ سے وہ دیگر فورم پر رجوع کریں گے اور پنجاب بار کونسل میں قرار داد بھی پیش کی جائے گی۔

واپس

مزید :

ملتان صفحہ آخر -