انسانی نعشوں کا غلط استعمال روکنے کیلئے قانون سازی کرنے کا حکم 

   انسانی نعشوں کا غلط استعمال روکنے کیلئے قانون سازی کرنے کا حکم 

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس شجاعت علی خان نے انسانی نعشوں کا غلط استعمال روکنے کے لئے قانون سازی کرنے کا حکم جاری کردیا فاضل جج نے دو صفحات پر مشتمل تحریری حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی حکم کی روشنی میں قانون سازی کی جائے۔عدالت نے وائس چانسلر یو ایچ ایس، نشتر میڈیکل کالج اٹانومی ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ، پنجاب یونیورسٹی اسلامک ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ، سیکرٹری قانون اور عدالتی معاون ایڈوکیٹ نوشاب (بقیہ نمبر48صفحہ 7پر)

اے کو بھی کمیٹی میں شامل کرنے کا حکم دے دیا،درخواست گزار شہری کا موقف ہے کہ میڈیکل کالجوں میں انسانی نعشوں کو پریکٹیکل کے لئے استعمال کیا جاتاہے،مختلف ہسپتال لاوارث انسانی نعشیں ان کالجوں کو فراہم کرتے ہیں جو کہ اسلامی تعلیمات،آئین اور انسانی حرمت کے منافی اقدام ہے،اس کیس میں سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ نے عدالت کویقین دہانی کروائی ہے کہ اس بابت دو ہفتے میں قانون سازی کرلی جائے گی۔

قانون سازی حکم

مزید :

ملتان صفحہ آخر -