اگلے سال: انگلینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان   پاکستان سپر لیگ کا تاج  پہلی بار کراچی کنگز کے سر سج گیا

اگلے سال: انگلینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان   پاکستان سپر لیگ کا تاج  پہلی ...

  

افضل افتخار

 پاکستان سپر لیگ کا تاج پہلی بار کراچی کنگز کے سر سج گیا، لاہور قلندرز کا پاکستان سپر لیگ جیتنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔سپر اسٹاربابر اعظم کی شاندار بیٹنگ نے کراچی کنگز کو پہلی بار پی ایس ایل کا ٹائٹل جتوا دیا۔ فائنل میں کراچی نے لاہور قلندرز کو پانچ وکٹ سے شکست دی۔فاتح ٹیم کو ٹرافی کے علاوہ پانچ لاکھ ڈالرز کی انعامی رقم ملی۔اس نے ہدف 8گیندیں پہلے عبور کیا۔بابر اعظم کو مین آف دی میچ،بہترین بیٹسمین اور مین آف دی ٹورنامنٹ کے ایوارڈ ملے بابر اعظم نے49گیندوں پر63نا قابل شکست رنز بنائے۔ان کی اننگز میں سات چوکے شامل تھے۔ پاکستان سپر لیگ 2020 کی چیمپئن کراچی کنگز کے اوپنر بابراعظم کو ٹورنامنٹ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا ہے۔ٹورنامنٹ کے 12 میچوں میں 473 رنز بنانے والے بابراعظم کو ایونٹ کا بہترین بیٹسمین بھی قرار دیا گیا ہے، انہوں نے اس دوران تین میچوں میں بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ حاصل کیا۔بابراعظم کراچی کنگز کے دوسرے بلے باز جو اب تک یہ ایوارڈ حاصل کرسکیں گے۔ اس سے قبل روی بوپارہ نے سال 2016 میں ایونٹ کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ حاصل کیا تھا۔ انہوں نے ٹورنامنٹ میں 329 رنز بنانے کے ساتھ ساتھ 11 وکٹیں بھی حاصل کی تھیں۔دوسری جانب ٹورنامنٹ کے بہترین باؤلر کا اعزاز لاہور قلندرز کے شاہین شاہ آفریدی نے حاصل کیا۔ انہوں نے ٹورنامنٹ میں 7.11 اکانومی ریٹ کے ساتھ17 وکٹیں حاصل کرکے یہ ایوارڈ اپنے نام کیا۔شاہین شاہ آفریدی کے ساتھی کھلاڑی  بین ڈنک کو وکٹوں کے پیچھیسب سے زیادہ شکار کرنے پر ٹورنامنٹ کا بہترین وکٹ کیپر قرار دیا گیا۔ انہوں نے ٹورنامنٹ کے دوران وکٹوں کے پیچھے9 شکار کیے۔پشاور زلمی کے حیدر علی کو ایمرجنگ پلیئر آف دی ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ 2020  قرار دیا گیا۔ بیس سالہ کرکٹر نے ٹورنامنٹ کے پہلے حصے میں شاندار انفرادی کارکردگی کی بدولت قومی کرکٹ ٹیم میں جگہ بنالی تھی۔ انہوں نے ایونٹ میں 26.56 کی اوسط سے239 رنز بنائے۔ٹورنامنٹ کے بہترین فیلڈر کا ایورڈ بھی لاہور قلندرز کے کھلاڑی نے حاصل کیا۔ فخر زمان نے ٹورنامنٹ میں 10 کیچز پکڑ کر بہترین فیلڈر کا ایوراڈ حاصل کیا۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ سال وعدہ کیا تھا کہ ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ 2020 اپنے آغاز سے اختتام تک پاکستان میں ہی ہوگی،ایونٹ کے تعطل کے دوران بھی انہوں نے اسی وعدے کو دہرایاتھا اورانہیں خوشی ہے کہ ہر طرح کے چیلنجز اور مسائل سے نمٹنے کے بعد وہ ملک میں کرکٹ کے مداحوں کے لیے ایک مکمل اور کامیاب ایونٹ کے انعقاد کو یقینی بناسکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ کھیل فینز کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں  لاہور اور کراچی کے مابین کھیلا گیاایونٹ کا سب سے بڑا ٹاکرا تماشائیوں کے بغیر کھیلا گیا اور ہمیں اس دوران ان کی کمی شدت سے محسوس ہوئی ، ہم یہ تصور کرسکتے ہیں کہ اگر حالات معمول پر ہوتے  تو اس ایونٹ کی فاتح ٹیم اپنی جیت کا جشن تماشائیوں کے سامنے کس شاندار انداز سے مناتی۔احسان مانی نے کہا کہ وہ ان تمام مداحوں کے مشکور ہیں جو بھرپور انداز سے ٹی وی اسکرین، لائیو اسٹریمنگ اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر  متحرک رہے، ان فینز نے ایک منظم انداز سے لیگ کے برانڈ کی قدر و منزلت بڑھانے کے ساتھ ساتھ ایسے پلیٹ فارمز پر دنیا کے سامنے پاکستان کا ایک مثبت تشخص اجاگر کرنے میں بھی  اپنا حصہ ڈالا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم ملک میں ہر لمحہ بدلتی کورونا وائرس کی صورتحال پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہیں اور اسے پیش نظر رکھتے ہوئے ہم متعلقہ اداروں سے رابطہ کرکے کوئی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کریں گے کہ جس سے آئندہ سال ایچ بی ایل پی ایس ایل اور دیگر انٹرنیشنل میچوں میں فینز کو اسٹیڈیم میں داخلے کی اجازت مل سکے۔چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ وہ اس موقع پر حکومت سندھ اور مقامی سیکورٹی ایجنسیز کی جانب سے بھرپور تعاون پر ان کے شکرگزار ہیں کہ جنہوں نے پاکستان کرکٹ کو ایک کامیاب ایونٹ کے انعقاد کو ممکن  بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ احسان مانی نے کہا کہ اس دوران پی سی بی کے اسٹاف نے کورونا وائرس کی وجہ سے درپیش کئی چیلنجز کے باوجود دن رات ایک کرکے اس ایونٹ کوکامیاب بنایا، یہی نہیں ان کی انتھک محنت اور کاوش سے  پاکستان کیڈومیسٹک سیزن 21-2020 کے 55 فیصد مقابلے بھی کامیاب انداز میں منعقد ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ڈومیسٹک سیزن 21-2020 کے کامیاب انعقاد کے لیے پرامید ہیں، ہم آئند سال  21-2020 کے جنوری فروری میں شیڈول اپنے فیوچر ٹور پروگرام میں شامل جنوبی افریقہ کرکٹ ٹیم کی میزبانی کے منتظر ہیں۔دوسری جانب انگلینڈ کرکٹ ٹیم نے 16 سال بعد پہلی مرتبہ دورہ پاکستان کی تصدیق کردی ہے۔انگلینڈ کرکٹ ٹیم پاکستان میں 2 ٹی ٹونٹی میچز کھیلے گی۔ یہ میچز 14 اور 15 اکتوبر کوکراچی میں کھیلے جائیں گے۔انگلینڈ کرکٹ ٹیم 12 اکتوبر کو کراچی پہنچے گی۔ دورے کے اختتام پر دونوں ٹیمیں آئی سی سی مینز ٹی ٹونٹی کرکٹ ورلڈکپ میں شرکت کیلیے16 اکتوبر کو اکٹھے بھارت روانہ ہوجائیں گی۔انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈنے  دورہ پاکستان کی تصدیق کردی تھی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے گزشتہ ہفتے انگلینڈ کو جنوری 2021 میں مختصر دورانیے کے لیے دورہ پاکستان کی دعوت دی تھی۔جنوری میں اپنے اسٹار کھلاڑیوں کی مصروفیات کے باعث انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے  اس دعوت نامہ کے جواب میں آئندہ سال آئی سی سی مینز ٹی ٹونٹی ورلڈکپ سے قبل اکتوبر میں دورہ کی تجویز پیش کی،جسے پی سی بی نے قبول کرلیا۔انگلینڈ کرکٹ ٹیم نے اس سے قبل آخری مرتبہ سال 2005 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔مہمان ٹیم نے یہاں 3 ٹیسٹ اور 5 ون ڈے انٹرنیشنل میچز کھیلے تھے۔اس کے بعد پاکستان نے سال 2012 اور 2015 میں متحدہ عرب امارات کے میدانوں پر انگلینڈ کی میزبانی کی تھی۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ انگلینڈ نیآئندہ سال اکتوبر میں دورہ پاکستان کی تصدیق کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انگلینڈ کرکٹ ٹیم کا 16 سال بعد پہلا دورہ پاکستان ہوگا،جو سیزن 23-2022 میں دونوں ممالک کے مابین وائیٹ اور ریڈ بال کرکٹ سیریز کے انعقاد میں بھی معاون ثابت ہوگا۔چیف ایگزیکٹو پی سی بی کا کہنا ہے کہ پاکستان  نیوزی لینڈ کے خلاف اپنی ہوم سیریز کے بعد انگلینڈ کے مکمل اسکواڈ کی میزبانی کرے گا، اس دوران ہم آسٹریلیا کی میزبانی کے بھی منتظر ہوں گے،جو کہ سیزن 22-2021 کے فیوچر ٹور پروگرام کا حصہ ہے، پھر انگلینڈ کرکٹ ٹیم سیزن 23-2022 میں ایک بار پھر ریڈ اور وائیٹ بال کرکٹ کھیلنے پاکستان کا دورہ کرے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ اکتوبر 2021 میں ٹی ٹونٹی سیریز کے لیے پاکستان آمد پر انگلینڈ کے کھلاڑی یہاں ہماری جانب سے اٹھائے گئے عالمی معیار کے اقدامات کا جائزہ لے سکیں گے جوانہیں سال 23-2022 میں  ایک مرتبہ پھر دورہ پاکستان کے لیے آنے اور ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ میں اپنی دلچسپی  ظاہر کرنیمیں معاونت کرے گا۔انہوں نے کہا کہ 14 اور 15 اکتوبر 2021 کو ٹی ٹونٹی میچز کے لیے  انگلینڈ کرکٹ ٹیم کی پاکستان آمد دراصل یہاں اور دنیا بھر میں موجود کرکٹ فینز کے لیے ایک پرجوش لمحہ ہوگا، عوام نے پاکستان میں کرکٹ کی واپسی کے لیے بہت انتظار کیا ہے، اب سال 2021 میں جنوبی  افریقہ،  نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کرکٹ ٹیموں  کے دورہ پاکستان سے آئندہ سال پا کستان میں بلا تعطل انٹر نیشنل کرکٹ کھیلی جا ئے گی۔  انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ دو سالوں میں جو اقدامات اٹھائے گئے ہیں ان سے مختلف بورڈز اور انٹرنیشنل کھلاڑیوں کے ساتھ تعلقات میں  بہتری کے ساتھ ساتھ ان کے یقین اور اعتماد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کی جانب سے اس دورے کی تصدیق ہمارے اس موقف کی تائید کرتی ہے کہ پاکستان کھیلوں کے لیے ایک محفوظ ملک ہے اور یہ دورہ اس امر کی بھی تصدیق کرتا ہے کہ ہمارے ای سی بی کے ساتھ اچھے تعلقات قائم ہیں۔ٹام ہیریسن نے کہا کہ وہ انگلینڈکرکٹ ٹیم کا آئندہ سال اکتوبر میں دورہ پاکستان کا اعلان کرتیہوئے خوشی محسوس کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2005 کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہوگا کہ انگلینڈ کرکٹ ٹیم پاکستان کا دورہ کرے گی۔انہوں نے کہا کہ پی  سی بی کے ساتھ ہمارے تعلقات مضبوط اور اچھے اور انہی کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم وہاں کے فینز کے لیے ان کے ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کی محفوظ واپسی میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔چیف ایگزیکٹو ای سی بی نے کہا کہ ہمیشہ کی طرح ہمارے لیے اپنے کھلاڑیوں اور آفیشلز کی حفاظت سب سے عزیز ہے، لہٰذا ہم پی سی بی کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور دونوں بورڈز مل کر سیکورٹی اور کوویڈ 19 کے پروٹوکولز کو پیش نظر رکھتے ہوئے مجوزہ پلانز ترتیب دے رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے خلاف یہ دو میچوں کی سیریز انگلینڈ کو آئی سی سی مینز ٹی ٹونٹی ورلڈکپ 2021 کی تیاریوں میں مدد کرے گی۔برٹش ہائی کمشنر آف پاکستان ڈاکٹر کرسٹن ٹرنر کاکہنا ہے کہ وہ جب سے پاکستان آئے ہیں انہوں نے پاکستان میں انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے استقبال کو اپنا ہدف بنایا ہوا تھا، اب 16 سال کا انتظار ختم ہوا اور انہیں خوشی ہے کہ 2021 میں انگلینڈ کی ٹیم یہاں پاکستان آکر کرکٹ کھیلے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ آج منظر  عام پر آنے والی اس خبر کے پیچھے بہت سخت محنت شامل ہے اور وہ اس موقع پر ان تمام افراد کے شکرگزار ہیں جو اس عمل میں شامل تھے۔ برٹش ہائی کمشنر نے کہا کہ بین الاقوامی کرکٹ پاکستان میں اسٹیڈیم کو دوبارہ سے آباد ہوتا دیکھنا چاہتی ہے اور یہ ٹور اس لحاظ سے اہم ثابت ہوگا۔یوکے پاکستان دوستی زندہ باد۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -