فیصل آباد پولیس نے فائرنگ کے ملزم گرفتارکئے، عدالت نے رہائی کا حکم دیدیا 

فیصل آباد پولیس نے فائرنگ کے ملزم گرفتارکئے، عدالت نے رہائی کا حکم دیدیا 

  

 فیصل آباد(جنرل رپورٹر) تھانہ مدینہ ٹاؤن پولیس نے کینال روڈ پر واقع ایک شادی ہال میں جان لیوا فائرنگ اور عوام الناس میں خوف و ہراس پھیلانے کے الزام میں سابق ایم این اے چوہدری محمدا لیاس مرحوم کی بھتیجی سدرہ بندیشہ،ان کے 5محافظوں،شادی ہال کے تین مالکان اور پانچ نامعلوم ملزموں کے خلاف مقدمہ درج کرکے سدرہ سعید کو گرفتار اور ان کے چار محافظوں و کرم،علی رضا،محمد سلمان،اصغر اور شادی ہال کے ایک مالک کو حراست میں لے لیا،تاہم علاقہ مجسٹریٹ نے پولیس کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے صرف اسلحہ کی نمائش کے الزام کے علاوہ باقی تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیکر سدرہ سعید کو فوری طور پررہا کرنے کا حکم دیدیا۔ایک پولیس افسر کے مطابق پولیس عدالت میں بروقت ملزمان کے خلاف گواہ پیش نہ کرسکی جس کے باعث ملزمہ کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ جس شادی کی تقریب کا حوالہ دے کر پولیس نے مقدمہ درج کرکے گرفتاریاں کیں وہ جھوٹ پر مبنی ہے،نہ تو وہاں کوئی فائرنگ ہوئی اور نہ ہی اس مبینہ فائرنگ سے کوئی زخمی ہوا اور نہ ہی خوف و ہراس پھیلا یا گیا بلکہ یہ ایک سیاسی نوعیت کا کیس ہے اور محافظوں کے پاس موجود اسلحہ قبضہ میں لے لیا گیا اور ملزمان و اسلحہ پولیس کی تحویل میں ہیں۔ماضی میں چوہدری محمد الیاس اور وڑائچ فیملی کی دشمنی سے عوام کی اکثریت واقف تھی پھر ایک وقت آیا کہ دونوں گروپوں نے خاموشی اختیار کرلی مگر چوہدری الیاس مرحوم کے اپنے خاندان میں نہ صرف گروپنگ بلکہ دشمنی شروع ہوگئی،کچھ عرصہ قبل سدر ہ سعید کا بھائی عبدالرحمن بھی اسی دشمنی کی بھینٹ چڑھ گیا جس میں چوہدری محمد الیاس کے داماد و سابق ایم این اے ڈاکٹر نثار چوہدری کو بھی ملزم نامزد کیا گیا تھا مگر وہ بعدازاں تفتیش کے دوران بے قصور قرار دے دیے گئے،عبدالرحمن کی موت کے بعد اب اس گروپ کی قیادت اس کی بہن سدرہ سعید کے پاس ہے۔

رہائی حکم

مزید :

صفحہ آخر -