ابھی تو گھٹن اور بڑھے گی 

 ابھی تو گھٹن اور بڑھے گی 
 ابھی تو گھٹن اور بڑھے گی 

  

امید ہے آپ اور آپ کے اہل خانہ  کرونا اور ڈینگی سے محفوظ رہے ہونگے اللہ کریم آپ اور آپ کے اہل خانہ کو ہر آفت سے محفوظ رکھے آمین میرے آج کے کالم کا مقصد ہرگز آپ کو خوفزدہ کرنا نہیں، لیکن حقائق جو میں دیکھ رہا ہوں آپ تک پہنچانا میرا صحافتی فریضہ ہے تاکہ آپ آنے والے دور میں زندگی گزارنے کے لیے ابھی سے محتاط ہوجائیں ابھی ابھی ساری دنیا سمیت وطن عزیز بھی کرونا سے گزرا ہے میرے بہت سے ہم وطن اس وائرس کا شکار ہوئے بہت سوں کو میرے رب نے صحت کاملہ سے نوازا اور کچھ میرے بھائی بہن اپنے خالق حقیقی سے جا ملے  اللہ کریم انہیں اپنی رحمت میں جگہ عطا فرمائے آمین 

ابھی ہم کرونا کی آفت سے گزرے ہی تھے کہ میرے دیس کو ڈینگی نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے یہ بھی بہت تکلیف دہ بیماری ہے سابقہ حکومت ہر بدلتے موسم کے ساتھ سارے ملک میں ڈینگی کے سپرے کا اہتمام کیا کرتی تھی جس سے کافی حد تک مچھروں اور ان کے انڈوں کا خاتمہ کردیا جاتا تھا اس کے علاوہ ٹیلی ویڑن اور اخبارات کے ذریعے باقاعدہ آگاہی مہم چلائی جاتی تھی ہسپتالوں میں ڈینگی کے ٹیسٹ اور علاج کے لئے کاؤنٹر لگائے جاتے تھے جس سے کافی حد تک اس آفت   سے نمٹنا آسان ہو جاتا تھا لیکن افسوس کے ساتھ یہ بیان کرنا پڑ رہا ہے کہ جب سے یہ حکومت آئی ہے اس نے کہیں بھی سپر ے  کا اہتمام نہیں کیا کوئی آگاہی مہم نہیں چلائی اب خدانخواستہ کسی کو ڈینگی بخار ہو جائے تو اپنی مدد آپ کے تحت ٹیسٹ اور علاج کروا رہا ہے جس دور میں غریب  کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں اس دور میں علاج اور فروٹ جوس کے اخراجات برداشت کرنا قوم کے لیے بہت مشکل ہو گیا ہے۔

بدلتے موسم کے ساتھ قوم کو وبائی امراض  سے بچانا حکومتوں کے کام ہوا کرتے ہیں، لیکن ہمارے حکمران بے فکر ہیں۔گزشتہ دنوں میں نے اپنے ایک کالم میں اشیائے خورد و نوش کے حوالے سے ایک موازنہ پیش کیا تھا جس پر مختلف دوستوں اور  قارئین ا کرام نے مختلف رائے پیش کی میں ان کا تہہ دل  سے مشکور ہوں ان میں سے کچھ تعداد ایسے لوگوں کی تھی جنھوں نے اس مہنگائی کی تمام تر ذمہ داری سابقہ حکومت کے کیے جانے والے غیرملکی معاہدوں پر ڈال دی ان کی اس دماغی حالت پر افسوس کے ساتھ دعا گو ہوں کہ اللہ کریم ان کی حالت پر رحم فرمائے اور انہیں شفائے کاملہ سے نوازے اب یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے اگر آپ کا پالا اس طرح کی حکومت سے پڑ جائے جو اس وقت قوم  پر مسلط ہے تو کیا کرنا چاہیے۔

معزز قارئین کرام یہاں آپ کے پاس دو راستے ہیں یا تو ہاتھ پر ہاتھ دھرے حکومت کی طرف دیکھتے  رہیں  یا پھر خود ہی اپنی مدد آپ کے تحت اپنی فیملی کو بچانے کے لئے میدان عمل میں ا تر آئیں   یہ نسخہ زیادہ مہنگا نہیں ہے میں نے بھی ابھی ابھی اپنے گھر میں سپرے کروائی ہے آ پ خود بھی کر سکتے  ہیں ۔

کسی بھی زرعی ادویات بیچنے والی کی دکان پر جائیں وہاں سے فیندونا  یا کرنٹ سپر ے یا  جو  بھی آپ کو بہتر لگے اس کا ایک پیکٹ خرید لیں اس کی زیادہ سے زیادہ قیمت دو سے تین سو روپے ہو گی اس میں پانی ڈالیں اور شا ور  والی بوتل میں ڈال کر پورے گھر میں سپر ے کر دیں آپ کی ایک دفعہ کی سپر ے کے  اخراجات کل ملا کر تین چار سو روپے آئیں گے ساتھ میں ایک دن کی محنت لگے گی لیکن آپ کافی حد تک اپنی فیملی کو ڈینگی کے حملے سے محفوظ کر جائیں گے اگر دوبارہ کبھی بھی گھر میں کوئی مچھر نظر آے تو اسی عمل کو دوبارہ دہرائیں آپ کی ایک دن کی محنت آپ اور آپ کی فیملی کو ڈینگی کے عذاب سے محفوظ کر دے گی  اس کے ساتھ ساتھ گھر میں موجود کوڑا کرکٹ صفائی کر کے نکال دیں گھر میں کہیں بھی پانی کھڑا نہ ہونے دیں یاد رہے کہ ڈینگی مچھر اور اس کے لاروے صاف پانی میں افزائش پاتے ہیں اس لیے گھر میں مکمل دھیان رکھیں گملوں وغیرہ کا پانی نکال دیں۔

ایئر کولر جو آپ کے استعمال میں نہیں ہیں،  ان کا پانی نکال کر اس کو شاپر میں پیک کر دیں، پورے بازو والے کپڑے پہنیں گھر میں کسی صورت گندگی جمع نہ ہونے دیں ہر وقت سپرے کی بوتل تیار رکھیں جیسے ہی گھر میں کوئی مچھر نظر آئے آپ بلاتاخیر سپر ے کر دیں، کوشش کریں کہ آپ اپنی فیملی کے لئے ہمیشہ سہولت کار بنے رہیں آپ اپنے بجٹ میں رہتے ہوئے جہاں تک ہو سکے اپنی فیملی اور اپنے اہل و عیال کا خیال رکھیں آج کل موسم تبدیل ہو رہا ہے گلے خراب ہو رہے ہیں جو بعد میں بخار کا سبب بنتے ہیں اس لئے روزانہ صبح نمک والے نیم گرم پانی سے غرارے کرنا معمول بنا لیں ٹھنڈا پانی ہرگز استعمال نہ کریں ان تمام احتیاطوں کے ساتھ ایک اور احتیاط جو  بہت ضروری ہے کہ زندگی کے کسی معاملے میں حکومت کی طرف نہ دیکھیں وہ آپ کا کسی معاملے میں خیال نہیں رکھیں گے۔ ملکی معاملات میں حکومت کی عدم دلچسپی یہ ظاہر کررہی ہے کہ ابھی تو گھٹن اور بڑھے گی اللہ کریم آپ اور آپ کے اہل خانہ کو اپنی حفظ و امان میں رکھے،آمین۔

مزید :

رائے -کالم -