کلیفٹ سرجری کی اہمیت

کلیفٹ سرجری کی اہمیت

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


راشد کا پوتا پیدا ہوتے ہی تالو کے نا مکمل ہونے کے اہم مسئلہ کا شکار تھا جس کی وجہ سے دودھ پیتے ہوئے وہ تمام دودھ ناک کے راستے باہر نکال دیتا تھا اور اس طرح وہ پیدائش ہی سے غذائی کمی کا شکار نظر آرہا تھا اس کی پیدائش گھر میں دائی کے ہاتھوں ہوئی جس کے باعث تالو کے مسئلہ کا پتہ نہیں چل سکا گھر کے قریب ہسپتال میں دکھایا تو اصل صورتحال واضح ہوئی ابھی بچہ کی پیدائش پر مبارک بادوں کا سلسلہ تھما نہیں تھا کہ ڈاکٹروں نے نومولود کی سرجری کا عندیہ دے دیا جو پورے خاندان پر بم بن کرگرا مگر اس کے علاوہ دوسرا کوئی حل نہیں تھا۔بچوں کی سرجری کے ماہر اس کی کلیفٹ سرجری کرنا چاہتے تھے،کلیفٹ سرجری میرے لیے نیا لفظ تھا اور میں کئی عرصے تک سرجری کے اس عمل کو بچوں کے ٹیڑھے ناک،کٹے ہونٹ اور تالو کو ٹھیک کرنے کی سرجری سمجھتا رہا مگر ایک دن مجھے اسسٹنٹ پروفیسر آف پلاسٹک اینڈ کاسمیٹکس سرجری کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی ڈاکٹر افضال باجواہ نے سمجھایا کہ کلیفٹ سرجری دراصل کسی بھی جسمانی اعضاء کے درمیان پیدا ہوئے گیپ یعنی خلاء کو پر کرنے اور اعضاء کے حصوں کو آپس میں ملانے کے لیے کی جاتی ہے جو کافی محنت طلب کام ہے۔اعضاء یا جسم کے کسی بھی حصے میں دراڑ اور ٹوٹ پھوٹ قدرتی بھی ہوتی ہے جسے بچہ ماں کے پیٹ سے لے کر دنیا میں آتا ہے یاں پھر حادثاتی طور پر جسم کے کسی بھی حصے میں دراڑ کےء باعث اس کا شکار ہوجاتا ہے ا س کی ایک وجہ شوگر کی بیماری بھی ہے جس کی وجہ سے کئی جسمانی زخم ٹھیک نہیں ہوتے اور مریض کو طویل سرجری کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے مگر پلاسٹک سرجن اپنی محنت اور اللہ کے کرم سے متعلقہ مریض کو زندگی کی طرف واپس لانے میں اپنا کردا ر ادا کرتا ہے۔


ڈاکٹر افضال باجواہ کی گفتگو کے بعد کلیفٹ سرجری کی اہمیت کے بارے میں آگاہ تو ہوگیا مگر ابھی ذہن میں سوال گردش کررہا تھا کہ چھوٹے بچے،نومولود کیسے اس سرجری کے عمل سے گزتے ہوں گے جو یہ بیماری قدرتی طور پر اپنے ساتھ لے کر دنیا میں آتے ہیں آپ یقین کریں اس ماں،باپ پر کیا بیتی ہو گی جن کے بچے تالو کے نامکمل یا کٹے پھٹے ہونٹ اور ٹیڑھی ناک لیے پیدا ہوتے ہیں اس ضمن میں بچوں کی کلیفٹ سرجری کے ماہر کنسلٹنٹ پلاسٹک سرجن ڈاکٹر وسیم ہمایوں سے مفصل گفتگو ہوئی جس میں ان کا کہنا تھا  بچوں کی کلیفٹ سرجری بڑ ا پیچیدہ عمل ہے جس کے لیے انتہائی مہارت کی ضرور ت ہوئی ہے اس طریقہ جراحت میں ہم ایسے بچوں کی سرجری کرتے ہیں جو پیدائشی طور پر اعضاء کے گیپ یا پھر نقائص کا شکار ہوتے ہیں جن میں گلا، ہونٹ،کان،ناک اور تالو کا مکمل نہ ہونے جیسے مسائل ہوسکتے ہیں یہ مسائل ماں کے پیٹ میں دوران حمل مختلف ادویات کے استعمال اور خصوصی طور پر ایسی ادویات کے استعمال سے ہوتے ہیں جن کا سالٹ مرکری پر مشتمل ہوتا ہے،ایسے بچوں کی پیدائش کے بعد فوری طور پر والدین کی کونسلنگ کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ بہتر طریقے سے نومولود کی حفاظت کریں۔ گلا،ہونٹ اور ناک کی سرجری کے لیے بچوں کی عمر 3ماہ،وزن 5کلو اور ایچ بی 10 ہونی چاہیے جبکہ تالو کی سرجری کے لیے عمر 9ماہ،وزن 10 کلو اور ایچ بی 10 سے زائد ہونی ضروری ہے کیونکہ اس عمر کے بعد بچہ بولنا شروع کرتا ہے اور یہی ضروری ہے کہ اس کے بولنے سے قبل ہی تالو کی سرجری کا عمل مکمل کردیا جائے تاکہ الفاظ کی ادائیگی کے لیے اعضاء اپنا کردار ادا کریں اس سرجری کے بعد بچہ 3ہفتوں تک تکلیف کا شکار رہتا ہے جس کے بعد آہستہ آہستہ درد کی شدت کم اور  بعد میں ختم ہوجاتی ہے۔


بچوں کی کلیفٹ سرجری کا عمل پلاسٹک سرجن،پیڈز سرجن،ای این ٹی سرجن،میگزوفیشلا سرجن،اسپیچ تھراپسٹ  اور آئی سی یو ایکسپرٹ ڈاکٹر کی زیر نگرانی مکمل ہوتا ہے یعنی یہ ایک ٹیم ورک ہے جس میں متعلقہ افراد اپنا کرادار ادا کرتے ہیں جس کے بعد متعلقہ بچہ 16 سال کی عمر تک ہمارے سرکل میں رہتا ہے تاکہ اس کی دیکھ بھال اور تربیت ہو ان کا کہنا تھا کہ بچے ہمارا مسقبل ہیں کلیفٹ سرجری ے قبل ماں اور باپ دونوں بچہ کی حالت دیکھ کر گبھراتے ہیں مگر سرجری کے بعد ان کی آنکھوں میں خوشی کی نمی ہمارا سب سے بڑا ایوارڈ ہے، گلاب دیوی ہسپتال میں بچوں کی کلیفٹ سرجری کے حوالے سے جو یونٹ قائم ہے اس میں میرے سمیت آئی سی یو ا، ای این ٹی،سپیچ تھراپسٹ اور پیڈز سرجنز کی ٹیم کام کررہی ہے جس نے ایک سال کے دوران ملک بھر سے ریفر ہوئے  200بچوں کے کلیفٹ آپریشنز بلامعاوضہ کیے ہیں یہ وہ بچے تھے جو ہمیں ملک بھر سے ریفر ہوئے جبکہ ایک بچہ افغانستان سے تھا آج یہ تمام بچے اپنی زندگی میں مشغول ہیں اور تعلیم حاصل کرکے ملک کی تعمیر وترقی میں اہم کردار ادا کرنے کا عزم رکھتے ہیں اور ہم آج بھی عوامی خدمت کا جزبہ لے کر روزانہ اوپی ڈی میں بچوں کو چیک کرکے ان کے آپریشنز کا بندوبست کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے میں مصروف ہیں اس موقع پرڈاکٹر وسیم ہمایوں  نے عوام سے اپیل کی کہ اگر ایسا کوئی بھی نومولود جسے کلیفٹ سرجری کی ضرورت ہو اسے فوری طور پر ہمارے  پاس ریفر کرنے میں دیر نہ کریں یا پھر ہمارے ٹیلی فون نمبرز 03357006005 اور 03054359034 پر رابطہ کریں ہم اس بچے کا علاج بلامعاوضہ کریں گے تاکہ ہمارا مستقبل بحالی کی طرف گامزن رہے۔


ڈاکٹر وسیم ہمایوں کی گفتگو سے اس امر کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بچوں کے متعلقہ اعضاء کی کلیفٹ سرجری کرکے ان کی جلد بحالی کس قدر اہم کام ہے اور یہ واقعی اس ضمن میں اپنا کردار  بخوبی ادا کر کے لوگوں کے چہروں پر اس مشکل حالات میں جہاں مہنگائی اور بے روز گاری کا عفریت دن بدن بڑھتا جارہا ہے وہاں خوشیاں بانٹنے میں مصروف ہیں۔ 

مزید :

رائے -کالم -