مسلم دنیا پر مسلط فرقہ پرستی اور دہشت گردی

مسلم دنیا پر مسلط فرقہ پرستی اور دہشت گردی
مسلم دنیا پر مسلط فرقہ پرستی اور دہشت گردی

  

یوں تو آج اسلامی دنیا کا ہر گوشہ بد امنی اور فساد کی زد میں ہے ،مگر فرقہ پرستی اور وہشت گردی کے دو عفریت ایسے ہیں جو مسلم دنیا پر بہت بری طرح مسلط ہیں اور ان سے چھٹکارے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی ،لیکن عجیب المیہ یہ ہے کہ دشمنانِ اسلام تو ان دونوں آفتوں کو خفیہ اور علانیہ بڑھا وادے ہی رہے ہیں ،مگر مسلمان خود بھی اس کار بد میں،، غیروں سے کسی طرح پیچھے نہیں ہیں ،بلکہ ان پر بازی لے جانے میں کوشاں ہیں، مسلمان اپنی پسماندگی اور نادانی میں ایسے ڈوبے ہوئے ہیں کہ اپنے دوست اور دشمن میں تمیز کرنے سے عاجز ہیں، اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اسلامی دنیا پر قیادت اور حکمرانی کے نام سے جو لوگ چھائے ہوئے ہیں۔ وہ نہ تو خود کچھ کرتے ہیں اور نہ دوسروں کو کچھ کرنے دے رہے ہیں یا یوں سمجھ لیجئے کہ یہ لوگ نہ تو مسلمانوں اور اسلام کے لئے کچھ کرنے کے قابل ہیں اور نہ انہیں دشمنوں سے بچانا چاہتے ہیں۔ انہیں صرف اپنے مفادات سے غرض ہے اور اس کے علاوہ اپنی کھلڑی بچانے کے لئے مسلمانوں کے دشمنوں سے بھی ملے ہوئے ہیں!!لیکن مسلمان چونکہ دشمن اور دوست کو پہچاننے سے عاجز ہیں اس لئے وہ اپنے بھائیوں سے لڑنے پر مجبور ہیں، ایک مسلمان گروہ دوسرے کو اپنا دشمن سمجھتا ہے اس لئے یہ سب باہم بر سرپیکار ہیں اور دشمن کا کام خود سنبھالے ہوئے ہیں اور اپنے دشمن کے کام آ رہے ہیں! مسلمان فرقوں اور گروہوں میں کوئی بنیادی اور اصولی اختلاف بھی نہیں ہے صرف فروعات پر لڑ رہے ہیں، حالانکہ فروعات کو ایک طرف رکھ کر اصولوں پر متفق ہو سکتے ہیں۔!تصویر کا عجیب اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ دشمنان اسلام تو بنیادی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر فروعی اور وقتی مسائل پر بھی ایک ہو چکے ہیں، مگرمسلمان فرقے اصولوں کو پس پشت ڈال کر فروعی باتوں پر لڑ رہے ہیں اس کی واضح مثال صلیبی مغرب اور عالمی صہیونیت کا نا پاک اتحاد ہے۔ اس فروعی اتحاد کا سبب صرف اسلام دشمنی اور مسلمانوں کی بیخ کنی ہے یہودیت اور مسیحیت کا ہولناک اصولی اختلاف، بلکہ عداوت ہے ،مگر یہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف وقتی طور ایک ہو چکے ہیں اور مسلمانوں کو فروعات پر لڑا رہے ہیں!! اس میں مالی وسائل اور خفیہ سازشیں کام میں لا رہے ہیں! مسلمان سے مسلمان کا گلا کٹوا رہے ہیں! ایک فرقے کو دوسرے سے لڑوانے کے لئے خفیہ سازشیں بھی کرتے ہیں اور پیسہ بھی خرچ کرتے ہیں! مسلمان اپنی پسماندگی اور جہالت کے باعث ان سازشوں اور سازشیوں کو پہچان نہیں پا رہے! شیعہ سنی اختلاف بھی فروعی اختلاف ہے، مگر نادانی سے اسے اصولی بنا لیا گیا ہے یا دشمنوں نے اسے بنوا دیا ہے! مسلمانوں کے خلاف وقتی اتحاد میں صرف صلیبی مغرب اور عالمی صہیونیت شریک تھے، مگر اب ایک عرصہ سے تیسرا مذہب۔ جن سنگھی ہندو مت۔ بھی اسلام دشمن اور مسلم بیخ کنی کی خاطر شامل ہو چکا ہے ،مگر مسلمان اس نایاک اتحاد سے غافل باہم فروعات پر ایک دوسرے کے گلے کاٹ رہے ہیں اور بد قسمتی یہ ہے کہ مسلمان حقیقت حال کو سمجھنے سے قاصر ہیں!

ایک مدت ہوئی میں ایک عرب ملک میں تھاجہاں کے ایک با اثر اخبار نے ایک یہود نواز اور اسلام دشمن امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے ساتھ یہ معاہدہ کر رکھا تھا کہ اس کے کالم نگار(تھامس فریڈمین)کے کالم کا عربی ترجمہ شائع کیا کریں گے۔ اس تھامس فریڈمین کے ایک کالم کا عنوان تھا:the war within islam یعنی اسلامی دنیا میں ہرحال میں جنگ اور بد امنی جاری رہے! ہمارے عرب بھائی نے اس کا عربی ترجمہ بھی چھاپ دیا اور کہا کہ ہم معاہدہ کی خلاف ورزی نہیں کریں گے! اس صہبونی کالم نگار کی تجویز پر عمل کرتے ہوئے یہ اسلام دشمن اتحاد مسلمانوں کو لڑا رہے ہیں اور جہاں مسلمانوں کو باہم لڑانا مشکل ہو وہاں خود انکل سام پہنچ جاتے ہیں اور نہیں تو ڈرون حملے تو معمول کی بات ہے!!

اسلامی فرقوں میں شیعہ سنی اختلاف بڑا سمجھا جاتا ہے، مگر یہ اختلاف بھی فروعی ہے ،جسے اصولی سمجھ لیا گیا ہے۔ اساسیاتِ دین کا اختلاف نہیں اللہ، رسول، قرآن ، کعبہ، اور آخرت پر ایمان شیعہ اور سنی میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اس سے دشمنوں نے فائدہ بھی اٹھایا ہے اور اسلام اور مسلمانوں کو نقصان بھی بہت پہنچایا گیا ہے، بغداد کی تباہی ہو، عباسی خلافت کا خاتمہ ہو، صفوی۔ عثمانی تصادم اور مخالفت ہو یا عرب۔ ایران یا ترک عرب دشمنیاں ہوں سب کے پس منظر میں شیعہ۔ سنی فروعی اختلاف ہی رہا ہے، جو بالکل بے فائدہ اور بے معنی بات ہے! اس اختلاف کی اگر کوئی بنیاد ہوتی تو دونوں میں سے کوئی ایک گروہ ختم ہو چکا ہوتا چونکہ یہ اختلاف باقی ہے اور دونوں گروہ۔ شیعہ سنی بھی اسی طرح ہیں اگر کوئی ایک فرقہ اساسیات دین میں سے کسی ایک اساس یا بنیاد میں کمزور ہوتا تو وہ اب تک ختم ہو چکا ہوتا۔ جیسا کہ بے شمار بے بنیاد اور بے اساس فرقے پیدا ہوئے اور ختم ہو گئے، اب صرف وہ برائے نام یا صرف ان کے نام رہ گئے ہیں!چونکہ دونوں کی اساسیات ایک اور متفق ہیں۔ اس لئے ڈیڑھ ہزارسال سے شیعہ سنی اسی طرح باقی ہیں اور مزید ایک ڈیڑھ ہزار سال اسی طرح باقی رہیں گے۔ فروعی اختلاف تلخیاں پیدا کرتا رہتا ہے اور اگر جاری رہا تو پیدا کرتا رہے گا! اگر ہمارے دینی پیشوا تلخی اور دل آزاری کی باتیں چھوڑ دیں تو یہ فروعی اختلاف بھی ختم ہو جائے گا!آخر بنیادی اختلاف والے مذاہب۔ یہودیت مسیحیت اور اب ہندو بت پرست۔ بھی تو ایک فروعی اور وقتی مقصد اسلام دشمنی کے لئے بنیادی اختلاف کو بالائے طاق رکھ کر ایک ہو گئے ہیں، اللہ، رسول، قرآن کریم اور بیت اللہ کے مالک اسلام کو ماننے والے شیعہ اور سنی اسلام دشمنوں کے نا پاک اتحاد کے مقابلے میں پاک اتحاد بھی نہیں بنا سکتے؟ اس پاک اتحاد کی بنیاد اسلام اور مسلمانوں کا دفاع اور تحفظ ہو گا! اس کے لئے ہم صرف چپ رہیں گے اور کسی مسلمان بھائی کی دل آزاری نہیں کریں گے یہ دل آزاری اور تلخی تو شرعاً، قانوناً اور اخلاقاً بھی بری بات ہے۔

کیا ہم اسلام دشمنوں کے مقابلے میں اتنا بھی نہیں کر سکتے؟ میں اپنے بھائیوں سے درخواست کروں گا کہ وہ پندرہ صدیوں سے فروعات پر باہم لڑتے رہے تو پندرہ سو سال میں کچھ بھی نہیں حاصل کر پائے ،مگر میری درخواست پر عمل کرتے ہوئے صرف پندرہ سالوں میں نہیں ،بلکہ صرف پندرہ مہینوں کے اندر اندر سب کچھ حاصل کر لیں گے! صرف پندرہ ماہ میں دل آزاری سے باز رہ کر یعنی یہ محرم اور اگلا محرم میں دل آزاری کے گناہ کے بجائے دل داری کرنے کا عزم بالجزم کر لیں! رستہ خدا و رسول نے بتا دیا ہے کہ غصہ پی جاﺅ اور عفو و درگذر کا صراط مستقیم اپنا لو، نفرت اور حقارت کا زہر تھوک دو اور دل آزاری کے نشتر پھینک دو اور دل داری کے پھول برسانے کا عزم کر لو بھائی بھائی بن جاﺅ گے تمہارے نایاک اتحاد کرنے والے دشمن ہارجائیں گے، تم خود کشی سے بچ جاﺅ گے ورنہ تو تم خود کشی بھی کر رہے ہو اور دشمن بھی تمہیں چن چن کر مار رہے ہیں، اس طرح تو تم مٹ جاﺅ گے!دشمن کی سازشوں میں آ کر برادر کشی خود کشی ہی تو ہے! یہ فنا کا رستہ چھوڑ دو، بقا کا رستہ اپنا لو زندہ قوم بن جاﺅ گے! پندرہ ماہ کا یہ ریاض تمہاری پندرہ صدیوں کا علاج ثابت ہو گا! آزما کر تو دیکھو! صرف اس محرم سے اگلے محرم تک!! اللہ کے بندو ہمت کرو!! دل آزاری نہیں ،دل داری!!

مزید :

کالم -