منشیات کی دنیا کا شہنشاہ سمجھا جانے والا وہ شخص جس نے گرفتاری کےلئے شرط رکھی کہ اپنے لئے جیل خود بنائے گا، پھر کیا ہوا؟ انتہائی حیرت انگیز کہانی

منشیات کی دنیا کا شہنشاہ سمجھا جانے والا وہ شخص جس نے گرفتاری کےلئے شرط رکھی ...
منشیات کی دنیا کا شہنشاہ سمجھا جانے والا وہ شخص جس نے گرفتاری کےلئے شرط رکھی کہ اپنے لئے جیل خود بنائے گا، پھر کیا ہوا؟ انتہائی حیرت انگیز کہانی

  



بگوٹا (نیوز ڈیسک) پیبلو ایسکو بار کا نام جرائم کی تاریخ کے طاقتور ترین کردار کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ وہ کولمبیا میں منشیات، کرائے کے قتل، اغواءاور دیگر جرائم کے درجنوں گینگز کا کا بلا شرکت غیرے سربراہ تھا ۔ 1991ءتک صورتحال یہ ہوچکی تھی کہ پیبلو ایسکو بار کے جرائم کی وجہ سے میڈلین شہر کو ’قتل کا عالمی دارالحکومت‘ کہا جانے لگا۔اس موقع پر امریکی سی آئی اے اور کولمبیا کی حکومت نے مل کر ایسکو بار پر ہاتھ ڈالنے کے لئے ایک مہم کا آغاز کیا۔

مزید جانئے: عمر بھر کیلئے قید تنہائی کاٹنے والے مجرموں کو ایک تصویر کی فرمائش کرنے کی پیشکش، زیادہ مجرموں نے کس چیز کی تصویر مانگی؟ جواب کسی کو بھی افسردہ کر دے

جب ملکی اور غیر ملکی طاقتوں نے مل کر ایسکو بار کا گھیراﺅ کیا تو اس نے بھی اس بات پر غور کرنا شروع کردیا کہ ہتھیار ڈال دئیے جائیں۔ہتھیار ڈالنے کے لئے ایسکو بار نے کچھ انتہائی دلچسپ شرائط رکھیں جن میں سے سرفہرست یہ تھی کہ اسے کسی جیل میں نہیں ڈالا جائے گا، بلکہ وہ اپنے لئے سینکڑوں مربع میل پرمشتمل ایک جیل خود تعمیر کروائے گا اور کسی حکومتی اہلکار کو اس جیل کے آس پاس کے 12 میل کے علاقے میں بھی داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملک کے آئین میں تبدیلی کی جائے تاکہ اسے کسی دوسرے ملک، اور خصوصاً امریکا کے حوالے نہ کیا جاسکے، جبکہ ایک جرنیل کی سبک دوشی کا مطالبہ بھی شامل تھا۔

مزید پڑھیں: وہ آدمی جسے خواتین کی جیل میں بند کر دیا گیاکیونکہ۔۔۔

ایسکو بار نے حکومت کے ساتھ جاری مذاکرات کے دوران ہی مونٹ کتھیڈرل کے پہاڑی علاقے میں اپنی جیل کے لئے جگہ کا انتخاب کیا اور پھر اپنی اربوں ڈالر کی دولت میں سے کچھ حصہ اس کی تعمیر کے لئے وقف کردیا اور زور و شور سے اس کی تعمیر بھی شروع ہو گئی۔ جون 1991ءمیں حکومت نے آئین میں ترمیم کردی تو ایسکو بار نے اپنی زاتی جیل کے بارے میں حکومت کو باضابطہ طور پر مطلع کردیا۔

اس جیل کے گرد 10فٹ اونچی باڑ لگائی گئی اور اس کے کمپاﺅنڈ کے گرد بجلی والی خاردار تار کی 15 تہیں بچھائی گئیں۔ اس کی نگرانی کے لئے باہری فصیل پر سات ٹاور تعمیر کئے گئے جنہیں ایسکو بار کے گارڈ چوکیوں کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ حکومت سے معاہدہ ہونے کے بعد ایسکو بار اپنی جیل میں داخل ہوگیا اور اپنے سینکڑوں ساتھیوں کے ساتھ یہاں پر مزے کی زندگی گزارنے لگا۔ اس جیل میں دنیا بھر کی تمام سہولتیں اور تفریحات دستیاب تھیں اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ 1994ءکے فٹ بال ورلڈ کپ میں شرکت کے لئے جانے والی کولمبیا کی ٹیم نے بھی روانگی سے پہلے ایسکو بار کی جیل کا دورہ کیا، اور کھلاڑیوں کو یہاں فائیو سٹار ہوٹل جیسی آسائشیں فراہم کی گئیں۔ یہاں کولمبیا کی حسین ترین ماڈلز اور اداکاراﺅں کا بھی باقاعدگی سے آنا جانا تھا۔

مزید پڑھیں: ترکی نے ملک میں داعش کے کارکنوں کی آمد روکنے کیلئے سب سے بڑے منصوبے پر کام شروع کر دیا

ایسکو بار کی ذاتی جیل میں عیاشی کی خبریں عام ہونے لگیں تو بالآخر حکومت نے اس کے لئے ایک سرکاری جیل کی تعمیر پر غور شروع کر دیا، لیکن ایسکو بار کو سرکاری جیل قبول نہ تھی۔ جب حالات سخت کشیدہ ہو گئے تو آخر کار حکومت نے بھرپور قوت سے ایسکو بار کی جیل پر دھاوا بول دیا، لیکن شدید لڑائی کے دوران وہ اپنے قریبی ساتھیوں کے ہمراہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ یہ بدنام زمانہ مجرم بالآخر ایک گنجان آباد علاقے میں پولیس کمانڈوز سے تنہا مقابلہ کرتے ہوئے گولی کا نشانہ بن گیا۔ اس کی زاتی جیل آج بھی موجود ہے ، لیکن اب اسے لاوارث معمر افراد کی رہائش گاہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس