آئندہ ربیع سیزن کیلئے گندم کی پیداوار کا ہدف 2 کروڑ 60 لاکھ ٹن مقرر

آئندہ ربیع سیزن کیلئے گندم کی پیداوار کا ہدف 2 کروڑ 60 لاکھ ٹن مقرر

  



اسلام آباد (اے پی پی) وفاقی زرعی کمیٹی (ایف سی اے) نے ربیع سیزن 2015-16ء کیلئے گندم کی پیداوار کا ہدف 2 کروڑ 60 لاکھ ٹن مقرر کیا ہے، گندم، چاول، گنے سمیت دالوں اور دیگر زرعی اجناس کی کاشت اور پیداوار میں اضافے کیلئے موثر حکمت عملی اپنائی جائے گی، نیشنل فوڈ سیکورٹی پالیسی کا اعلان آئندہ ایک دو ماہ میں کر دیا جائے گا، کاشتکاروں کو ان کی فصل کا پورا معاوضہ دینے کیلئے منڈی کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے اور مڈل مین کے کردار کو کم کرنا ہو گا، رواں سیزن کے دوران مختلف وجوہات کی بناء پر کپاس کی پیداوار کم ہو گی۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ سکندر حیات خان بوسن نے وفاقی زرعی کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ایف سی اے کا اجلاس وفاقی وزیر سکندر حیات خان بوسن کی زیر صدارت ہوا جس میں خریف کی فصل کا جائزہ لیا گیا اور ربیع سیزن کی فصلوں کی پیداوار کے اہداف مقرر کئے گئے۔ وفاقی وزیر سک ندر حیات خان بوسن نے کہا کہ ربیع سیزن کے دوران گندم کی پیداوار کا ہدف 2 کروڑ 60 لاکھ ٹن مقرر کیا گیا ہے۔

89 لاکھ 80 ہزار ہیکڑ رقبے پر گندم کاشت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی زرعی محکمہ جات سے کہا ہے کہ گندم کی پیداوار کا ہدف یقینی بنانے کیلئے دسمبر 2015ء اور جنوری 2016ء کے دوران زرعی مداخل کی فراہمی کو پورا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ 68 لاکھ ٹن اضافی گندم موجود ہے جو ملکی ضروریات سے زائد ہے تاہم صوبہ سندھ اور پنجاب نے کچھ گندم ریلیز کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خریف سیزن کے دوران 6 کروڑ 54 لاکھ 35 ہزار ٹن گنا، 66 لاکھ 6 ہزار ٹن چاول کی پیداوار حاصل ہونے کے امکانات روشن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ربیع سیزن کے دوران پانی کی دستیابی تسلی بخش رہے گی اور ضرورت کے مطابق پانی مہیا ہو سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ موسمیات کے نمائندوں نے بتایا ہے کہ ربیع سیزن کے دوران بارش معمول کے مطابق ہو گی۔ انہوں نے بتایا کہ کاشتکاروں کی سہولت کیلئے زرعی قرضوں کا حصول آسان بنایا جا راہ ہے اور مالی سال 2015-16ء کے دوران قرضوں کی مد میں 600 ارب روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ربیع سیزن کے دوران کھاد، تصدیق شدہ بیج، کیڑے مار ادویات کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ منڈی کے نظام میں خرابی کے باعث کاشتکار کو ان کی فصل کا معاوضہ مناسب نہیں ملتا ہے۔ اس سلسلے میں اقدامات اٹھائے جائیں گے تاکہ کاشتکاروں کو ان کی فصل کا پورا معاوضہ مل سکے۔

مزید : کامرس