حکومت ایران سے پلاسٹک کے خام مال اور تیار مصنوعات کی سمگلنگ سختی سے روکے

حکومت ایران سے پلاسٹک کے خام مال اور تیار مصنوعات کی سمگلنگ سختی سے روکے

  



لاہور(کامرس رپورٹر)لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے حکومت پر زور دیا ہے کہ پلاسٹک انڈسٹری کو تحفظ دینے کے لیے ایران سے پلاسٹک کے خام مال اور تیار مصنوعات کی سمگلنگ سختی سے روکے کیونکہ ان کی وجہ سے مقامی صنعت بہت بْری طرح متاثر ہورہی ہے۔ لاہور چیمبر کے صدر شیخ محمد ارشد اور نائب صدر ناصر سعید نے لاہور چیمبر میں پلاسٹک انڈسٹری کے وفد سے ملاقات میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پلاسٹک انڈسٹری حکومت کو محاصل دینے والا تیسرا بڑا شعبہ ہے جو مسلسل زوال پذیر ہے، اس کے تحفظ کے لیے حکومت کو ٹھوس اقدامات اٹھانا ہونگے۔ لاہور چیمبر کے صدر شیخ محمد ارشد نے کہا کہ اگر پنجاب حکومت پلاسٹک انڈسٹری کے لیے کلسٹر بنا دے تو اس سے نہ صرف اس صنعت سے وابستہ تاجروں کو ریلیف ملے گا بلکہ حکومت کے محاصل بھی بڑھیں گے ۔ انہوں نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو پر بھی زور دیا کہ وہ پلاسٹک مصنوعات پر سیلز ٹیکس کم کرے جس سے سمگلنگ کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ شیخ محمد ارشدنے کہا کہ پلاسٹک کے خام مال کی سمگلنگ سے قومی خزانہ کو پچاس سے ساٹھ ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے لہذا سمگلنگ روکنے کے لیے انتہائی سخت اقدامات اٹھائے جائیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ پلاسٹک انڈسٹری کو بجلی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائے کیونکہ بار بار غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پلاسٹک خام مال ضائع ہوجاتا ہے۔ لاہور چیمبر کے نائب صدر ناصر سعید نے کہا کہ لاہور چیمبر جلد ہی معاشی بحالی کے لیے تجاویز مرتب کرکے حکومت کو بھجوائے گا، اس سلسلے میں پہلے ہی کام شروع کیا جاچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور محاصل کا 90فیصد سے زاود اسی سے حاصل ہوتا ہے لہذا انہیں ہر ممکن سہولیات ملنی چاہئیں، لاہور چیمبر اس سلسلے میں اپنا بہترین کردار ادا کرتا رہے گا۔ قبل ازیں وفد کے سربراہ خادم حسین نے لاہور چیمبرکے عہدیداروں کو اْن چیلنجز کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا جو پلاسٹک انڈسٹری کو درپیش ہیں۔ انہوں نے ملک کی معاشی ترقی و خوشحالی کے لیے کردار ادا کرنے پر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کو خراجِ تحسین بھی پیش کیا۔

مزید : کامرس


loading...