سرخ مرچ کا پراسیسنگ سنٹر ، کنری آئند ہ دسمبر میں کام کا آغاز کر دے گا، محمد عالمگیر چوہدری

سرخ مرچ کا پراسیسنگ سنٹر ، کنری آئند ہ دسمبر میں کام کا آغاز کر دے گا، محمد ...

  



لاہور(کامرس رپورٹر)سمال اینڈ میڈیم انٹر پرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی ’’سمیڈا‘‘ کے تحت سرخ مرچ کے پراسیسنگ سنٹر ، کنری کی تعمیر مکمل ہو گئی ہے اور آئندہ دسمبر میں وہ باقاعدہ اپنے کام کا آغاز کر دے گا ۔اس بات کا انکشاف سمیڈا کے چیف ایگزیکٹو آفیسرمحمد عالمگیر چوہدری نے مذکورہ سنٹر کے تجرباتی آپریشن کے معائنہ کے بعد ہیڈ آفس واپس پہنچنے پر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا منصوبہ ہے جہاں سرخ مرچ کے مقامی کاشتکاروں، تاجروں اور برآمد کنندگان کو پہلی بار مکینیکل طریقے سے سرخ مرچوں کو خشک کرنیکی سہولت میسر ہوگی۔

منصوبے کے بارے بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان چونکہ ایک زرعی ملک ہے اس لئے یہاں زراعت پر مبنی صنعتوں کے فروغ کی وسیع تر گنجائش موجود ہے۔لیکن افسوس کہ بعد از کاشت ’’پوسٹ ہارویسٹ ‘‘ کی جدید سہولتوں کے فقدان کی وجہ سے مختلف شعبوں میں ہماری 30فیصد سے زائد زرعی پیداوارہر سال ضائع ہو جاتی ہے۔ سرخ مرچ کی فصل کے ساتھ بھی یہی صورتحال تھی جس سے نبردآزما ہونے کیلئے سمیڈا نے کچھ برس پہلے عمر کوٹ کے علاقہ کنری میں ’’ریڈ چلی پراسیسنگ پلانٹ نصب کرنے کا منصوبہ تشکیل دیاجسے حکومت کی مدد سے مکمل کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ پلانٹ عمر کوٹ میں لگانے کی وجہ یہ تھی کہ سرخ مرچوں کی پچاس فیصد سے زائد فصل اسی علاقے میں کاشت کی جاتی ہے جوکہ ہر برس مون سون کے موسم میں کاٹی جاتی ہے اور انہیں فروخت سے پہلے خشک کرنا پڑتا ہے اور خشک کرنے کے روائتی طریقوں میں نہ سرخ مرچوں کا بیشتر حصہ ضائع ہو جاتا ہے اور جو بچ جاتا ہے اسکو پھپھوندی سے پیدا شدہ کیمیکل ’’افلاٹاکسن‘‘ لگ جاتا ہے جو کینسر جیسی موذی امراض کا موجب ہو سکتا ہے۔ سمیڈا کے چیف ایگزیٹو آفیسر نے کہا کہ سمیڈا کے تحت لگنے والے مذکورہ پلانٹ سے ان تمام مسائل کا ازالہ ہوجائے گا اور نہ صرف سرخ مرچوں کے مقامی کاشتکاروں اور تاجروں کے منافع میں اضافہ ہوگا بلکہ پاکستان کی سرخ مرچ برآمد ی منڈ ی کے معیار پر بھی پورا اتر سکے گی اور پاکستان سے سرخ مرچ کی برآمدات کو خاطر خواہ فروغ ملے گا۔ نیز مذکورہ پلانٹ آف سیزن کے دوران پیاز، ادرک اور دیگر زرعی اجناس کو خشک کرنے کیلئے بھی استعمال کیا جائے گا۔محمد عالمگیر چوہدری نے بتا یا کہ سمیڈا کا مذکورہ منصوبہ ایک کامن فیسلٹی سنٹر کے طور پر روزانہ30 ٹن سرخ مرچ پراسیس کرنے کی استعداد رکھتا ہے اور اس کو چلانے کیلئے 13 ملازمین بھرتی کئے گئے ہیں جنہیں پلانٹ کے ریگولر آپریشن کے دوران تیس سے سترکے لگ بھگ ہیلپرز کی مدد درکار ہوگی جو کہ ڈیلی ویجز پر کام کریں گے۔انہوں نے کہا کہ وہ پلانٹ کے ٹرائل آپریشن سے مطمئن ہیں اورانہوں نے پلانٹ کی انتظامیہ کو ہدائت کی ہے پلانٹ کو باقاعدہ آپریشن کیلئے دسمبر تک تیا ر کر دیاجائے ۔ انہوں بتا یا کہ مذکورہ منصوبے کے افتتاح کیلئے وفاقی وزیر صنعت و پیداوار غلام مرتضےٰ جتوئی کو درخواست پیش کی جاچکی ہے۔lh/mhn/ifa

مزید : کامرس


loading...