تجارت میں مفادات کیلئے مسلمانوں کے خون کی قربانی قبول نہیں: عبدالباسط

تجارت میں مفادات کیلئے مسلمانوں کے خون کی قربانی قبول نہیں: عبدالباسط

  



لاہور(کامرس رپورٹر)پاکستان کی بزنس کمیونٹی کا ہر فرد پہلے پاکستانی اور اس کے بعد تاجر یا صنعتکار ہے . پاکستان کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے سے گریز نہیں کرتا . تجارت میں مفادات کے لیے نریندر مودی سرکار کے کارندوں کے ہاتھوں مسلمانوں کے ناحق خون کی ارزانی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی . لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق سینئر نائب صدر عبد الباسط نے گزشتہ روز جاری کردہ اپنے بیان میں نریندر مودی سرکاری کی دھشت گردی . ہندوستان کے مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کرنے اور قتل و غارت گری کا بازار گرم کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے .

عبدالباسط نے کہا ہے کہ نام نہاد جمہوری حکومت اور سیکولر بھارت میں مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے رکن انجنئر راشد کے منہ پر اس لیے سیاہی مل دی کہ انہوں نے ادھم پور میں دھشت گردی کی مذمت کی تھی . عبدالباسط نے کہا ہے کہ پاکستان کے سابق وزیر خارجہ کی امن کے پس منظر میں تحر یر کردہ کتاب کی تقریب رونمائی کے اورگنائزر کے منہ پر سیاہی ڈال کر نریندر مودی سرکاری نے آزادی اظہار کا گلا دبانے کی کوشش کی ہے ان تمام اقدامات اور پاکستان کے رہائشی علاقوں میں بار بار گولہ باری کے ذریعے شہریوں اور ان کے مال مویشیوں کو مارنے کی مہذب دنیا جس قدر مذمت کرے کم ہوگا . عبدالباسط نے کہا ہے کہ اس طرح کے سینکڑوں انسانیت سوز واقعات ہندوستانی حکمرانوں کے خمیر میں شامل ہو چکے ہیں ۔لاہور چیمبر کے سابقہ سینئر نائب صدر نے کہا ہے کہ نریندر مودی پاکستان کے تعمیر و ترقی کے منصوبوں پاک چین اقتصادی راہداری اور گوادر بندرگاہ کی تعمیر و تکمیل اور انہیں اپریشنل کرنے پر سخت پریشان اور ان منصوبوں کو دنیا کی نظروں میں گرانے اور انہیں ناکا م ثابت کرنے کے لیے خواہ مخواہ ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں حالانکہ دنیا ان کی بلا وجہ کی سازشوں پر کان دھرنے کو تیار نہیں . عبدالباسط نے کہا ہے کہ ہندوستانی حکومت جب اپنے ملک میں مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کرتی ہے . ظلم و ستم کے پہاڑ ڈ ھاتی ہے تو اپنی پرانی روایت بغل میں چھری منہ میں رام رام کے مطابق دونوں ملکوں کے مابین تجارت بڑ ھانے کی باتیں کر تی ہے .عبدالباسط نے کہا ہے پاکستان کی بزنس کمیونٹی ہندوستان کے ظالم اور قاتل حکمرانوں کی موجودگی میں تجارتی تعلقات پر ضرور نظر ثانی کے لیے سوچے گی .

مزید : کامرس


loading...