مارک سیگل کی ’’جھوٹی گواہی‘‘

مارک سیگل کی ’’جھوٹی گواہی‘‘
مارک سیگل کی ’’جھوٹی گواہی‘‘

  



ٹھہرے ہوئے پانی میں کنکرپھینکنے کی غلطی کرنے والا اب ایک جھوٹ چھپانے کیلئے کئی اور جھوٹ بولنے پر مجبور ہے۔ پروگرام جرگہ کے میزبان کا ایک غیر متوازن کالم ہی تھا کہ جس کے بعد ہونے والی شدید تنقید کے باعث وہ پرویز الٰہی کا انٹرویو کرنے پرمجبور ہو گیا۔ خود کو پارسا ثابت کرنے کی جستجو میں لگا رہنے والا یہ اینکر اتنا بھی معصوم نہیں ،دوسروں کو مقتدر حلقوں کے تابعدار ہونے کے طعنے دینے والا مذکورہ اینکر موقع ملنے پر خوشامد کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ اپنے متنازعہ کالم میں اس نے بے نظیر بھٹو قتل کیس میں مشرف اینڈ کمپنی کو مکمل طور پر بے قصور قرار دینے کی کوشش کی تھی۔ یقیناً کسی نے اس سلسلے میں رابطہ کیا ہو گا۔ کالم نویس کو اندازہ نہیں تھا کہ اس کی تحریر کے جواب میں کتنا مخالفانہ ردعمل سامنے آئے گا۔ ایسا ہوا تو موصوف کوئی معقول جواب دینا بھی بھول گئے۔ راستہ ایک ہی سوجھا کہ مشرف کو 10بار وردی میں صدر منتخب کرانے کا دعویٰ کرنے والے پرویز الٰہی کے منہ سے بھی وہی الفاظ نکلوائے جائیں جو وہ ’’غلطی‘‘ سے لکھ بیٹھا تھا۔ سوچنے کی بات تو یہ بھی ہے کہ اب پرویز الٰہی اور ان کی جماعت کا کیا مقام باقی رہ گیا؟ کوسنے کے انداز میں گفتگو کرنے والوں کے دعوؤں کی ساکھ کیا ہے۔ اب تو پرویز الٰہی کی باتوں کا جواب دینے کیلئے ایک حکومتی ترجمان ہی کافی ہے۔مشرف پر الزامات کی صفائی میں پیش کیا جانے والا یہ انٹرویو تضادات سے بھرپور تھا۔ پرویز الٰہی نے اپنے سابق باس کو ایماندار اور نیک قرار دیتے ہوئے کہا کہ مشرف تو کسی کی جان لینے کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ سابق فوجی سربراہ کی ’’دیانتداری‘‘ پر یوں تو کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔ سردست ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا مختصراً سا حوالہ دینا ہی بہتر ہو گا۔اس رپورٹ میں اعداد و شمار کے ذریعے واضح کیا گیا ہے کہ پچھلے 15 سالوں کے دوران بدترین دور مشرف کا ہی تھا۔ آج سب زرداری دور کو کرپٹ ترین قرار دینے پر تلے ہیں تویہ محض ’’یرغمالی میڈیا‘‘ کی کرامات ہیں۔ کرپشن کے حوالے سے مشرف دور کا کسی اور حکومت سے مقابلہ ہی نہیں کیا جا سکتا۔ یہ الگ بات ہے کہ طے شدہ پالیسی کے تحت ارب پتی ریٹائرڈ جنرلوں کو چھوڑ کر ہر کوئی سیاستدانوں کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔

رہ گئی بات مشرف کی نرم دلی کی تو اکبر بگٹی کا کیس سب کے سامنے ہے۔ 12 مئی 2007 ء کو لڑکھڑاتی ٹانگوں کے ساتھ کراچی میں ہونے والے قتل عام کو عوامی طاقت کا مظاہرہ کس نے قرار دیا تھا۔ لال مسجد کا واقعہ ہی دیکھ لیں کہ جہاں محض پانی اور بجلی بند کر کے اندر چھپے تمام افراد کو بآسانی باہر آنے پر مجبور کیا جاسکتا تھا وہاں بارود کی بارش کر دی گئی۔ لوگوں کا حافظہ ابھی اتنا بھی کمزور نہیں ہوا کہ پرویز الٰہی کی جانب سے بار ہا دہرایا جانے والا یہ دعویٰ نظرانداز کر دیں کہ سابق فوجی آمر نے اس وقت کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے قافلے کو نشانہ بنانے کا حکم دیا تھا۔ اس حوالے سے باقاعدہ منصوبہ بندی بھی کر لی گئی تھی۔ بقول پرویز الٰہی معاملے کی سنگینی کا اندازہ ہونے پر حکومت پنجاب نے اس خونیں کھیل کا حصہ بننے سے معذرت کر لی۔ اب وہ خود ہی بتائیں کہ اگر وہاں گولیاں چل جاتیں تو اسکا شکار کس نے ہونا تھا؟

یہ امر تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ پاکستان کا نظام انصاف ابھی اس مقام پر نہیں پہنچا کہ جرائم میں ملوث بڑے لوگوں پر ہاتھ ڈالا جا سکے۔ اسی لئے مشرف آئین سے غداری اور قتل و غارت کے کئی مقدمات میں ملوث ہونے کے باوجود اپنے گھر میں ’’آزاد‘‘بیٹھے ہیں ۔ان کے جرائم کے خلاف پاکستان میں تو کوئی کھل کر بولنے کی جرأت نہیں کرپایا ،اگر کسی نے کوشش کی بھی تو اسے ’’سمجھا ‘‘دیا گیالیکن امریکی صحافی مارک سیگل کو کون روک سکتا تھا ان کے بیان سے، وقتی طور پر ہی سہی لیکن معاملہ ایک بار پھر اجاگر ہو گیا ہے۔ مشرف اپنے گھر کے اندر بیٹھ کر نعرے لگارہے ہیں کہ مارک سیگل جھوٹا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ امریکی صحافی کا عدالت کے روبروبیان سابق فوجی آمر کی ’’طبع نازک‘‘ پر گراں گزرا ہے۔ مارک سیگل نے بے نظیر بھٹو کے قتل کی ذمہ داری براہ راست مشرف پر عائد کرتے ہوئے ایک تہلکہ خیز انکشاف بھی کیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس قتل کی منصوبہ بندی کیلئے مشرف کے 3قریبی ساتھیوں کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو ایک خلیجی ملک کی خفیہ ایجنسی نے ریکارڈ کر لی تھی۔ ہو سکتا ہے کہ اس گفتگو کی ٹیپ کبھی بھی منظر عام پر نہ آئے کیونکہ وسیع تر قومی مفاد کا تقاضا یہی ہے کہ اس کیس کو مزید کریدانہ جائے، اگر ایسا کیا گیا تو تب بھی طاقتوروں کا کچھ نہیں بگڑے گا۔ ٹیپ سے یاد آیا کہ اس حوالے سے مشرف قسمت کے دھنی نہیں۔ کارگل لڑائی کے عین بیچ مشرف نے چین جا کر جنرل عزیز سے بذریعہ فون جو گفتگو کی تھی وہ فوراً ہی ریکارڈ کر کے نشر کر دی گئی۔ یہ الگ بات ہے کہ ’’جذبہ حب الوطنی سے سرشار‘‘ پاکستانی میڈیا اسے بھارت کی گھناؤنی سازش قرار دینے پر لگ گیا تھا۔بے نظیر قتل کیس طالبان پر ڈالا گیا تو حیران کن طور پر انہوں نے فوری تردید کر کے واضح کیا کہ اس واردات سے کوئی تعلق نہیں اور تو اور خود بیت اللہ محسود کا یہ کہنا تھا کہ قاتلوں کی تلاش کرنی ہے تو خود حکومتی صفوں کا جائزہ لیا جائے۔ اس کے باوجود یہ کیس طالبان پر ہی ڈال دیا گیا۔ آئیے ایک بار پھر تسلیم کر لیں کہ پاکستان میں طاقتور کیلئے قانون محض مکڑی کا جالا ہے۔

حکمران اشرافیہ کیلئے قانون موم کی ناک ہے تو بگڑے ہوئے رئیس زادوں نے بھی کوئی کم اودھم نہیں مچا رکھا۔ دیگر کئی واقعات کی طرح اب یہ خبر آئی ہے کہ سابق وزیر مملکت صدیق کانجو کے بیٹے مصطفی کانجو کے ہاتھوں کیولری گراؤنڈ میں قتل ہونے والے 14سالہ زین کے کیس میں آخری سرکاری گواہ بھی منحرف ہو گیا۔یادرہے کہ اس امیرزادے نے اپنی گرل فرینڈ کی کسی دوسری راہگیر خاتون سے تلخ کلامی پر گارڈ سے بندوق لے کر اندھا دھند گولیاں چلانا شروع کر دی تھیں۔ اس وحشی کی فائرنگ سے بیوہ ماں کا اکلوتا بیٹا زین سر میں گولی لگنے سے جاں بحق ہو گیا۔ ایک اور راہگیر شدید زخمی بھی ہوا۔ ملزم کو تھانے لے جایا گیا تو وہ بھارتی فلموں کے ولن کی طرح سب سے بدزبانی کررہا تھا۔ وہ ایسا کیوں نہ کرتا اس نے چند سال قبل لاہور ہائیکورٹ کے اس وقت کے جج کے بیٹے کو معمولی بات پر حملہ کر کے شدید زخمی کر دیا تھا۔ اس وقت کے چیف جسٹس نے اس واقعہ کا سوموٹو نوٹس لیکر کارروائی بھی کی مگر مصطفیٰ کانجو بچ نکلا۔ لاہور کے کینٹ ایریا میں بھی ایک دلخراش واقعہ پیش آیا جب معمولی تکرار پر چند نوجوانوں نے اپنے دوست پر آہنی راڈوں سے حملہ کر دیا۔ بے چارہ ہسپتال میں سسک سسک کر دم توڑ گیا۔ واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج تمام چینلوں پر نشر ہوئی۔ اس دل دہلا دینے والی واردات کے بعد کیا ہوا؟ مجرم کہاں گئے؟ کسی کو معلوم نہیں۔ کراچی کے شاہ زیب کا واقعہ تو باقاعدہ قومی معاملہ بن گیا۔ ڈی ایس پی کے جواں سال اکلوتے بیٹے کو ایک وڈیرے کے بیٹے نے بہن کو چھیڑنے سے منع کرنے پر سرعام گولیوں کا نشانہ بنایا۔ فائرنگ اس قدر شدید تھی کہ مقتول کی گاڑی الٹ گئی۔ گولیوں سے چھلنی کار دیکھ کر ہی معلوم ہوتا تھا کہ یہ کسی عام قاتل کا نہیں کسی جنونی کا کام ہے۔ سول سوسائٹی اور میڈیا کے ایک حصے کے دباؤ پر کیس کو دبانے کی کوشش ناکام ہو گئی۔ اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے از خود نوٹس لیا تو پروٹوکول کے ساتھ دبئی فرار ہونے والے قاتل کو پکڑ کر پاکستان لایا گیا۔ پیشیوں پر پیشیاں پڑتی گئیں اور کیس وقت کی دھندلکوں میں گم ہونے لگا ۔ مقتول کے ڈرے سہمے اور تھکے ہارے والدین پر ہر طرف سے دباؤ آیا تو انہوں نے صلح کرنے میں ہی عافیت جانی۔ یوں ثابت ہو گیا کہ بگڑے ہوئے رئیس زادے کسی وقتی دباؤ کے تحت گرفتار ہو بھی جائیں تو انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑسکتا۔ عدالت آتے اور جاتے وقت وکٹری کا نشان بنا کر پوری سوسائٹی اور نظام کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔

قتل کے مقدمات پورے معاشرے اور ریاست کیلئے ایک کڑا امتحان بن گئے ہیں۔ بڑے خاندانوں کے اوباش نوجوانوں کی وارداتیں اپنی جگہ، قتل کے عمومی مقدمات بھی مدعی پارٹی کیلئے جان لیوا سلسلے بن جاتے ہیں۔ قاتل پارٹی کی بھرپور کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح مقتول پارٹی کو صلح پر رضا مند کر لیا جائے۔ ایسا نہ ہو تو پھر مقدمے کی پیروی کرنے والے مقتول پارٹی کے دیگر افراد کی شامت آجاتی ہے۔ کئی واقعات میں قاتل پارٹی نے مدعیوں میں سے بھی کئی ایک کو قتل کرڈالا تاکہ مقدمات کی پیروی نہ کی جا سکے۔ بڑے گھرانوں سے تعلق رکھنے والے بگڑے سپوت معاشرے کیلئے دہرا عذاب ہیں۔ ایک تو وہ اپنے اثرورسوخ کی بنیاد پر رہا ہو جاتے ہیں اور پھر ان کا حوصلہ اتنا بڑھ جاتا ہے کہ وہ پوری سوسائٹی کیلئے مستقل خطرہ بن جاتے ہیں۔ ایسی ہی ایک قسم آجکل پروان چڑھ رہی ہے۔ بعض واقعات میں نوٹ کیا گیا ہے کہ گاڑی کے معمولی حادثہ یا خطرناک انداز میں کار چلانے سے روکنے پر امیرزادے بپھر جاتے ہیں۔ عام شہریوں کی گاڑیوں کو اپنی کار سے بار بار ٹکریں مار کر اپنی ’’خاندانی اصلیت ‘‘ظاہر کرتے ہیں۔ ایسے مواقع پر عموماً پولیس والوں کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔ شریف شہری اپنی جان بچانے کے لئے قصور نہ ہونے کے باوجود خود معافی مانگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ایمانداری کی بات تو یہ ہے کہ معاشرے کو بگڑے ہوئے رئیس زادوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ حکمران طبقات خدا کا خوف کھائیں۔ یہاں جنگل کا قانون نافذ کر کے وحشی درندے چھوڑنے کا سلسلہ روکا نہ گیا تو پھر ان کو شکار کرنے کے لئے متاثرہ فریق کون سا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں؟ شاید بتانے کی ضرورت نہیں۔ اتنا ہی کافی ہے کہ قانون کا یکساں اور بلاامتیاز نفاذ نہ کیا گیا تو لاقانونیت کا جواب اسی انداز میں دینے کا تباہ کن رجحان سامنے آسکتا ہے۔

بات مشرف سے شروع ہوئی تھی وہیں پر ختم کرتے ہیں۔ جنرل صاحب کو مارک سیگل کے عدالتی بیان سے شدید تکلیف ہوئی ہے۔ وہ پاکستان کے آمر مطلق رہ چکے ہیں۔ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ کوئی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ مارک سیگل کو مگر بولنے سے نہیں روکا جا سکتا کیونکہ وہ پاکستانی نہیں امریکی ہیں۔ مشرف صاحب آرام سے سگار کے کش لگائیں،پسندیدہ ’’مشروب‘‘ سے لطف اندوز ہوں، ہاں مگر گھر سے باہر نکلتے وقت ’’احتیاط لازم ہے‘‘ کے مشورے پر عمل کرتے رہنے میں بھلائی ہے۔

مزید : کالم