پولیس،کرکٹ بورڈ:نفسیاتی تجزیئے کی ضرورت!

پولیس،کرکٹ بورڈ:نفسیاتی تجزیئے کی ضرورت!
پولیس،کرکٹ بورڈ:نفسیاتی تجزیئے کی ضرورت!

  



اسے اپنی بدقسمتی ہی کہا جا سکتا ہے کہ اب ہر شعبہ زندگی میں ماہرین نفسیات کی ضرورت پڑ گئی ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قوم کے ہر فرد کے لئے اب یہ ضرورت ہوگی کہ معاشی، اقتصادی اور سماجی دباؤ اس قدر ہیں کہ ہر شخص پاگل پن کی حدوں کو چھونے لگا، ہمارے وزیراعلیٰ خود تو انتھک ہیں وہ اپنے ساتھ کام کرنے والوں اور ان کے ماتحت اہل کاروں کو بھی ویسا ہی دیکھنا چاہتے ہیں، اس لئے مختلف اوقات میں الگ الگ محکموں اور شعبوں کے لئے ہدایات بھی جاری کرتے رہتے ہیں، ان کی تازہ ترین ہدایت ٹریفک وارڈنز کے حوالے سے ہے۔

اگر ٹریفک وارڈنز بھائی بُرا نہ منائیں تو ان سب کو نفسیاتی مریض قرار دے دیا گیا ہے اور یہ ہم نہیں کہہ رہے یہ انکشاف تو ان کے چیف نے روزنامہ پاکستان کے پینل سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ہے۔طیب حفیظ چیمہ لاہور ٹریفک پولیس کے چیف ہیں۔ وہ مقابلے کا امتحان دے کر اس سروس میں آئے یوں وہ پی ایس پی کیڈر سے ہیں، وہ پڑھے لکھے اور اب تو ان کی دانشوری بھی ثابت ہو رہی ہے، ایک ذوالفقار چیمہ پہلے ہی ہیں جنہوں نے اپنی سروس کے ساتھ ساتھ لکھاری ہونے کا بھی ثبوت دیا اور ریٹائرمنٹ کے بعد اب تو باقاعدگی سے کالم لکھنے لگ گئے ہیں اور اب یہ دوسرے چیمہ ہیں جو ویسی ہی دانش کا مظاہرہ کررہے ہیں، ایک گزشتہ کالم میں بھی ہم عرض کر چکے کہ ان کے پاس بڑی اچھی اچھی اور بہترین تجاویز ہیں جن کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں، رہ گئی عمل کی بات تو اس کے بارے میں عرض کیا تھا کہ اب اگر اہلکار اور عوام ٹھیک ہی نہ ہوں تو ان کا کیا قصور؟

اب تازہ ترین اطلاع تو یہی ہے جو انہوں نے روزنامہ پاکستان کے پینل کو بتائی وہ کہتے ہیں کہ ٹریفک وارڈنز اور شہریوں کے درمیان لڑائی جھگڑے کے واقعات بڑھ گئے ہیں، اس کا وزیراعلیٰ نے نوٹس لیا اور ان وارڈنز کی تحلیل نفسی کا فیصلہ کرکے ان کے لئے ماہر نفسیات کا تقرر کر دیا ہے، جو ہر ماہ ان کو پولیس اور شہریوں کے تعلقات کے حوالے سے لیکچر دیتا اور بتاتا ہے کہ ڈیوٹی پر مامور اہل کار کو شہریوں سے کس طرح پیش آنا اور جھگڑے سے کیسے بچنا چاہیے، اس سلسلے میں یہ بھی کہا گیا کہ اس لیکجر اور اس کے اثرات کے بارے میں انسپکٹر جنرل پولیس اور وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا جائے گا، جس کا مطلب یہ ہے کہ اب یہ تربیت اور اس کے نتائج بھی ٹریفک وارڈنز کی سالانہ رپورٹ کا حصہ ہوں گے۔

ہم تو اسے اچھا اقدام کہیں گے لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بھی گزارش کریں گے کہ صرف اسی شعبہ کے اہل کاروں کے لئے یہ خصوصی اہتمام کافی نہیں۔ پولیس کے دوسرے شعبوں سے متعلق اہل کاروں کو بھی اس تربیت سے گزارنا چاہیے، جن کے بارے میں شکایات عام ہیں اور خصوصی طور پر پُرتشدد تفتیش والوں کا تو حال احوال ہی مختلف ہے، پولیس کے تھانیداروں کی تحلیل نفسی ایک اور مقصد کے لئے بھی ضروری ہے اور وہ ہے توند کو قابو رکھنے کی ہدایت کہ فٹنس کا معیار اچھا رہے ورنہ ملزم بھاگے تو ماسوا گولی کے یہ حضرات تو اس کو بھاگ کر نہیں پکڑ سکتے۔

بات ٹریفک وارڈن کی نفسیاتی تربیت کی تھی اس کی وجہ ظاہر ہے کہ شہریوں اور وارڈنز کے درمیان جھگڑوں کی وارداتیں بڑھ گئی ہیں اور شہری احتجاج بھی کرتے ہیں، دیکھنا یہ بھی ہوگا کہ جب یہ نیا نظام متعارف کرایا گیا تو اس وقت صورت حال کیا تھی، یہ سب کو معلوم ہے کہ ابتداء میں یہ بھی چوکس تھے اور عوام نے بھی ان کے ساتھ بھرپور تعاون کیا تھا، پھر یکایک کیا ہوا کہ وارڈنز فرائض سے جی چرانے لگے اور شہریوں سے جھگڑے بھی شروع ہو گئے اب صورت حال یہ ہے کہ یہ حضرات ٹریفک کو کم کنٹرول کرتے اور جھگڑے زیادہ کرتے ہیں کہ چالان پر چالان کئے جا رہے ہوتے ہیں، اعلیٰ حکام اور وزیراعلیٰ کو ان کے مسائل پر بھی توجہ دینا چاہیے، پہلا مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب وارڈنز میں سے جعلی ڈگری والے برآمد ہوگئے یوں ڈگری ہولڈروں کو صدمہ پہنچا اور یہ شعبہ بھرتی کے حوالے سے بدنام ہوا، اس کے بعد یوں ہوا کہ ان کو دی گئی سہولتیں واپس لی گئیں، موبائل کینٹین سے چائے کی سپلائی بند ہوئی تو واش روم والی گاڑی کے چکر بھی بند ہو گئے یوں یہ ان سہولتوں سے محروم ہوئے ہی تھے کہ ان کے علم میں یہ بھی آیا کہ ان کا کوئی کیڈر ہی نہیں، ان کی حیثیت ایک کنٹریکٹ ورکر والی ہے کہ ان کے لئے ترقی کے مواقع ہی نہیں ہیں کہ وہ کسی سروس کا حصہ نہیں، حالانکہ وہ خود کو پولیس سروس کا حصہ جانتے ہیں، اب اگر پڑھے لکھے اور صحیح ڈگری والوں کا یہ عالم ہو جائے کہ ان کو کسی دوسرے کیڈر میں بھیجا نہیں جا سکتا اور ٹریفک وارڈنز کا شعبہ تاحال پولیس سروس کا حصہ نہیں اور نہ ہی ترقیاں اس حوالے سے ہوں گی، ان حالات میں تو پالیسی سازوں، سمری والوں اور منظور نامنظور کی سفارش اور اس پر فیصلہ کرنے والوں سمیت سب کو ماہر نفسیات سے تربیت دلانا چاہیے اور محترم چیف ٹریفک آفیسر سے ہماری پھر گزارش ہے کہ جو فرماتے اور احکام جاری کرتے ہیں ان پر عملدرآمد تو لازمی ہے۔

یہ تو ٹریفک پولیس کا معاملہ ہے لیکن یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے اب اپنے کرکٹ بورڈ کے صدر شہریار خان اور بورڈ کی مجلس عاملہ کے سربراہ اور پاکستان سپر لیگ کے انچارج نجم سیٹھی ہی کا معاملہ لے لیں، یہ جس کھیل کے بورڈ کے مدارالمہام ہیں، اس میں کئی پستیاں اور کئی عروج آئے اور ٹیم کے لئے ماہر نفسیات کی خدمات مستقل طور پر حاصل کر لی گئیں۔ وہ کھلاڑیوں کو لیکجر دیتے ہیں، افسوس تو یہ ہے کہ بورڈ کے پاس ماہر نفسیات تو ہو لیکن ان دونوں حضرات سمیت بورڈ آفیشلز کا نفسیاتی تجزیہ نہ ہو یہ حیرت کی بات ہے، محترم شہریار خان اور جناب نجم سیٹھی نے جس طرح بھارتی انتہا پسندوں کے ہاتھوں خود کو اپنی ٹیم کے علاوہ کھیل سے متعلق سابق کھلاڑیوں سمیت علیم ڈار جیسے امپائر کو شرمندہ کرایا وہ ان دونوں کی نفسیاتی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے۔ دونوں ہی حضرات بھارت سے کھیلنے کے لئے بے چین اور نجم سیٹھی تو پاکستان سپر لیگ کے لئے بھارتی کھلاڑیوں کو اجازت دلانے کا زعم رکھتے تھے۔ ہر دو صاحبان کی جو درگت ممبئی اور دلی میں بنی اس پر پوری قوم شرمند ہوگئی ہے اور ان کو ویسے ہی گلہ نہیں کہ ان دونوں حضرات نے تو ملک کے وقار کی خاطر بھارتی روپے کی مذمت بھی نہیں کی شہریار خان کو تو صرف افسوس ہوا ہے اور نجم سیٹھی سیانے ہیں کچھ بولتے ہی نہیں کہ وہ کیوں بُرا بنیں، اب شہریار خان کہتے ہیں، ٹی 20ورلڈکپ کے بائیکاٹ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، درست بیان لیکن یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ کھلاڑیوں کی سیکیورٹی کا مسئلہ آئی سی سی کے علاوہ بھارتی حکومت کے سامنے بھی اٹھایا جا سکتا ہے۔شہریارخان کو ورلڈکپ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اپنی ٹیم کے کھلاڑیوں اور متعلقہ حکام کے لئے سیکیورٹی کا مسئلہ تو اٹھانا چاہیے وہ تو بھارت کو بھی ناراض نہ کرنے کی قسم کھائے بیٹھے ہیں، اللہ رحم کرے تاہم نفسیاتی تجزیہ لازم ہے۔

مزید : کالم