نوازشریف۔۔۔اوباما ملاقات !

نوازشریف۔۔۔اوباما ملاقات !
نوازشریف۔۔۔اوباما ملاقات !

  



واشنگٹن سے کل جو خبریں آ رہی تھیں ان کے مطابق نوازشریف۔ اوباما ملاقات میں جن بڑے اور اہم موضوعات پر گفتگو متوقع ہے ان میں علاقائی سلامتی، جوہری سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی کے مسائل شامل ہوں گے۔ آسان لفظوں میں ان تینوں مسائل کا ’’ترجمہ‘‘ اگر زمینی حقائق کے تناظر میں کیا جائے تو امریکہ کا مقصود یہ ہوگا کہ ۔۔۔

(1) پاکستان یہ بتائے کہ اس خطے میں علاقائی سلامتی کے لئے کیا رول ادا کر سکتا ہے۔ یعنی افغانستان میں طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات میں کیا کچھ کر سکتا اور کہاں تک آگے جا سکتا ہے۔۔۔

(2) پاکستان جوہری سلامتی کے لئے جو اقدامات اٹھا سکتاہے ان میں اپنے سٹرٹیجک نیو کلیئر وارہیڈز اور ٹیکٹیکل نیوکلیئر وارہیڈز کے پھیلاؤ کو روکنا ، اپنی جوہری بم سازی کی رفتار کو کم کرنا اور چھوٹے جوہری ہتھیاروں کو میدانِ جنگ میں ڈیپلائے منٹ کے عمل کو بریک لگانا شامل کرے۔۔۔

(3) انسداد دہشت گردی کے موضوع پر قندوز پرطالبان کے حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کے الزام کی چھان بین کرے۔۔۔

اس ’’ترجمے ‘‘ کو اگر مزید سلیس کرنا چاہیں تو کہیں گے کہ امریکہ ، اپنے نئے اتحادی (بھارت) کے ہاتھ مضبوط کرنا چاہتا ہے اور چاہتا ہے کہ پاکستان ہاتھ پیر توڑ کر بیٹھا رہے۔ بھارت کو سرجیکل سٹرائیک اور کولڈ سٹارٹ اٹیک کو آزمانے دے، ٹیکٹکل جوہری ہتھیاروں کو بنانا ترک کر دے اور قندوز وغیرہ میں طالبان نے جو کامیابیاں حاصل کی ہیں، ان میں اپنے ملوث ہونے کا ویسا ہی اعتراف کرے جیسا امریکہ نے قندوز کے ہسپتال پر بمباری کرنے کے باب میں کیا ہے۔۔۔قارئین اگر چاہیں کہ اس سلیس ترجمے کی مزید ’’سلیس اردو‘‘کروں تو میں یہ کام قارئین پر ہی چھوڑتا ہوں کہ سورج نکلنے کا اعلان کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔وہ اپنا اعلان خود ہوتا ہے!

کالم نویس کی دو حیثیتیں بیک وقت بظاہر ایک دوسرے کی ضد ہوتی ہیں ۔۔۔ ایک حیثیت میں وہ اپنے معاشرے کا نقاد اور مورخ ہوتا ہے۔ اور دوسری حیثیت میں مشیر اور وکیل۔۔۔ اس کی اول الذکر حیثیت بہت مضبوط ہوتی ہے اور یہ اعزاز اس سے کوئی چھین نہیں سکتا ۔۔۔ وہ جو کچھ اپنے اردگرد وقوع پذیر ہوتا دیکھتا ہے اس کو ضبط تحریر میں لانے سے اسے کوئی ملکی یا بین الاقوامی دباؤ متاثر نہیں کرسکتا ۔اس حیثیت میں وہ جوکچھ قلم بند کرتا ہے، ضروری نہیں ہوتا کہ اس کا نتیجہ فوری طورپر نکل آئے۔ فوری نتائج دکھانے کی یہ کلید صرف صاحبانِ اختیار کے پاس ہوتی ہے۔ حکمران لوگ اپنی من مانیاں کرنے میں آزاد ہوتے ہیں ۔ وہ اگر کسی کالم نویس کا تبصرہ یا جائزہ کہیں دیکھتے اور پڑھتے بھی ہیں تو صرف اسی لائن کو TOWکرتے ہیں جو ان کی خود وضع کردہ ہوتی ہے۔ اگر کسی کالم نویس کا استدلال ، کسی صاحبِ اختیار کی سوچ کے مماثل نکل آئے تو یہ محض اتفاق ہوتا ہے۔ یہ اختیار ایک زبردست کیٹا لسٹ (قوتِ کار) بھی ہے۔ اور یہ قوت کسی مشورے یا نصیحت پر عمل کرنے یا اسے تسلیم کرنے کی پابند نہیں ہوتی۔ یہ جو بعض دانشور اور کالم نگار حضرات اپنے کالموں میں اربابِ اقتدار کو مخاطب کرکے حکم لگاتے رہتے ہیں کہ یہ کرو اور وہ نہ کرو تو یہ ان کی اپنی خوش فہمی ہوتی ہے جسے کوتاہ اندیشی کہنا زیادہ درست ہوگا ۔ میری رائے میں کالم نویس کو اپنی اس ’’اوقات‘‘ کا شعور ہونا چاہئے۔ وہ تاریخ ضرور رقم کرے لیکن یہ امید نہ رکھے کہ حکامِ وقت اس کی تاریخ نویسی سے کوئی ’’کیو‘‘(CUE) بھی لیں گے !

کالم نویس کی دوسری حیثیت جس کو میں نے مشاورت اور وکالت کہا ہے وہ محض مشاورتی ہی ہوتی ہے۔ چھوٹے سے چھوٹا حاکم، بڑے سے بڑے کالم نگار کا مشورہ ہنسی میں اڑا دے تو اسے روکنے والا کوئی نہیں ہوگا ۔۔۔ اختیار اور مشاورت میں بالترتیب عمل اور قول کا رشتہ استوار ہوتا ہے۔ قول کتنا بھی صادق کیوں نہ ہو، ضروری نہیں کہ عامل اس پر عمل بھی کرے بلکہ بعض صورتوں میں تو قول اور فعل کے تضادات کا اظہار ایک ہی شخصیت سے ’’سرزد‘‘ ہو جاتا ہے۔۔۔کیا ہم آئے روز اس کا مظاہرہ نہیں دیکھتے ؟

وزیراعظم نواز شریف آج امریکی صدر سے ملاقات کرنے والے ہیں ۔۔۔ اس ملاقات کے ایجنڈے پر میرے جیسے بہت سے لکھاری، اپنی اپنی سوجھ بوجھ کے مطابق چار پانچ روز سے تبصرے کررہے ہیں۔ لیکن ضروری نہیں کہ ان کے جائزے یا مشورے ، فریقین کے اپنے ایجنڈے سے بھی مطابقت رکھیں۔ امریکہ دنیا کا طاقتور ترین ملک ہے اور پاکستان کی جو حیثیت اور بین الاقوامی اہمیت ہے وہ بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ اگر ملاقات دو برابر کے حکمرانوں میں ہو تو اس کی وضع قطع کچھ اور ہوتی ہے لیکن جب ترازو کے پلڑے برابر نہ ہوں تو اسے ’’دوطرفہ‘‘ ملاقات کا لبادہ اڑھانا اپنے آپ کو دھوکا دینا ہے۔ امریکہ کے پاس کیا نہیں ہے اور پاکستان کے پاس کیا ہے، اس کا احساس دونوں فریقوں کو ہے۔ جب ایسی ’’انمل اور بے جوڑ‘‘ قسم کی ملاقاتیں ہوتی ہیں تو ستم یہاں تک بڑھ جاتا ہے کمزور فریق، دوران ملاقات ، طاقتور فریق کی طرف سے کئے جانے والے جارحانہ حملوں کا تذکرہ بھی کسی سے نہیں کرسکتا! اوبامہ ۔ نواز شریف ملاقات دو شخصیتوں کے درمیان نہیں، دو ممالک کے درمیان ہورہی ہے اس لئے کسی بھی راوی کو اس پر کچھ لکھتے ہوئے ان حقائق کا ادراک ہونا چاہئے۔

میں کہ ایک کالم نگار ہوں، سمجھتا ہوں کہ اس ملاقات کے Stakesکتنے اہم ہیں اور نواز شریف صاحب کو بوقت ملاقات کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ میری نظر میں امریکی صدر ، پاکستانی وزیراعظم سے جو مطالبات کریں گے ان کو اگر بے کم وکاست بیان کردوں تو ان کی فہرست اس طرح ہوگی :

1۔ اپنے میزائلوں کی رینج بڑھانے کی مزید کوئی کوشش نہ کرو۔

2۔ افزودہ یورینیم کی مقدار کم کرو اور جوہری وار ہیڈز بنانے کی دوڑ بھی ختم کرو۔

3۔ لشکرِ طیبہ جیسی تنظیموں کو لگام دو۔

4۔ حقانی گروپ کی پشت پناہی سے ہاتھ کھینچو ۔

5۔ چین کے ساتھ اس حدتک آگے نہ جاؤ کہ بعد میں پچھتانا پڑے۔

ہم سارے پاکستانیوں کے علم میں ہے کہ درجِ بالا مطالبات امریکہ کے کوئی نئے مطالبات نہیں۔ وہ ایک طویل عرصے سے یہی مطالبات دہرائے چلا جارہا ہے۔۔۔Do moreوالا منتر بھی تو یہی ہے ۔۔۔ اور چونکہ اسے اس عالمِ خاک وباد میں ہمہ مقتدر ہونے کا دعویٰ ہے اس لئے وہ کسی سفارتی ادب آداب اور تہذیب وشائستگی وغیرہ کا پابند بھی نہیں ۔ یکے بعد دیگرے کئی امریکی صدور، تقریباً اسی قسم کے مطالبے پاکستان سے کرتے آرہے ہیں۔ اور یکے بعد دیگرے ہمارے پاکستانی صدور یا وزرائے اعظم ان مطالبات کا وہی جواب دیتے آرہے ہیں جو آج کی ملاقات میں نواز شریف ، اوباما کو ایک نئے انداز سے دینا چاہیں گے۔

لیکن قارئین گرامی !اگر ایسی ہی بات تھی تو اس ملاقات کا تردد کرنے کی تُک کیا تھی کہ آزمائے ہوئے پاکستان کو پھر سے آزمایا جاتا۔ کیا ہماری تاریخ امریکہ کے سامنے اور امریکہ کی تاریخ ہمارے سامنے نہیں ہے ؟۔۔۔اگر ہے تو یہ تازہ جھک کیوں ماری جارہی ہے۔ اگر قاری کو اس سوال کا جواب چاہئے تو اسے ماضیء بعید کو بھول کر ماضی قریب میں جھانکنا چاہئے ۔۔۔گزشتہ دوچار برسوں میں گلوبل منظر نامے پر کچھ ایسی تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں یا ہونے جارہی ہیں جن کی وجہ سے سارا نظامِ عالم ایک عالمِ نو میں تبدیل ہوجائے گا۔ امریکہ اسی لئے اپنے سٹرٹیجک مفادات کا تحفظ کرنے کے لئے جو اقدامات اٹھا رہا یا اٹھانے والا ہے ان کی تکمیل کے لئے وہ چاہتا ہے کہ پاکستان اس کے کباب میں ہڈی نہ بنے۔ مستقبل قریب کے گلوبل منظر نامے کے جو خدوخال واضح تر ہوکر سامنے آتے جارہے ہیں وہ مختصراً یہ ہیں :

1۔ امریکہ کی موجودہ عالمی بساط لپیٹی جانے والی ہے ۔۔۔ ویت نام ، افغانستان ، عراق اورشام کی جنگوں نے یہ ثابت کردیا ہے کہ امریکہ، کسی قوم کا جغرافیہ تو بدل سکتا ہے، اس کے عوام کے عزائم تبدیل نہیں کرسکتا۔

2۔ محض جوہری صلاحیت کے بل بوتے پرعالمی قوت کا واحد ٹھیکیدار نہیں بنا جاسکتا ۔

3۔ مشرق وسطیٰ کا وہ نقشہ بدلنے کو ہے جو گزشتہ صدی کی دوعالمی جنگوں کے نتیجے میں وجود میں لایا گیا تھا اور جس میں مغربی بلاک نے مشرقی بلاک کو دیس نکالا دے دیاتھا۔

4۔ آج روس اور چین، شام میں اس لئے نہیں آئے کہ جلد واپس چلے جائیں گے۔

5۔ مستقبل قریب میں اگر NATOکے تاروپور نہ بھی بکھرے تو اس کی ایک ایسی حریف عسکری تنظیم سامنے آنے والی ہے جو وارساپیکٹ تنظیم سے مختلف ہوگی۔ اس تنظیم میں اب روس، چین اور پاکستان بھی شامل ہوں گے۔

6۔ امریکہ کچھ بھی کرلے، بھارت کو بحرہند کا واحد اجارہ دار نہیں بناسکتا۔ جس طرح بحرالکاہل اور بحر اوقیانوس بین الاقوامی سمندر ہیں اسی طرح بحرِہند بھی کھلا اور بین الاقوامی سمندر ہے جس کے بحری ٹریفک کو کوئی Contain نہیں کرسکتا۔

7۔ اگر مغربی بلاک نے ماضی کی طرح اپنی ہٹ دھرمی نہ چھوڑی تو تیسری عالمی جنگ شروع ہوسکتی ہے ۔اور ضروری نہیں کہ یہ جوہری جنگ ہی ہو اور یہ بھی ضروری نہیں کہ دنیا کی آخری جنگ ہو۔ انسان اپنے اندازے لگاتا ہے اور خدا اپنے فیصلے صادر فرماتا ہے ۔۔۔غیر جوہری یا روایتی تیسری عالمی جنگ کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ اس تیسری عالمی جنگ کے محاذوں میں اب تین نئے محاذ بھی شامل ہوں گے جن کے نام (1)امریکی محاذ ۔۔۔ (2) بحیرۂ روم کا محاذ ۔۔۔اور (3) بحرہند کا محاذ ہوں گے۔ یہ تینوں محاذ گزشتہ عالمی جنگوں میں غیرفعال اور مجہول کردار کے حامل محاذ تھے لیکن آئندہ کے کنونشنل ورلڈ آرڈر میں یہ ’’فعال ‘‘ محاذ ہوں گے۔ اور اگر دنیا نے باقی رہنا ہے اور جوہری قیامت کی طرف نہیں جانا تو ایک بالکل نیا عالمی نظام ابھرکر سامنے آنے والا ہے جس کا جغرافیہ موجودہ عالمی جغرافیائی نظام سے بالکل مختلف ہوگا۔

8۔ اس تیسری عالمی جنگ میں یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ جلد یا بدیر روایتی جنگ سے جوہری جنگ میں تبدیل ہوجائے گی ۔۔۔

نواز شریف ۔اوباما ملاقات میں آج افغانستان کا مسئلہ بھی ضرور زیر بحث لایا جائے گا اور شائد واشنگٹن اس بات کا احساس بھی کرے کہ اسلام آباد، کشمیر کو جنوبی ایشیا کے تمام ممکنہ جھگڑوں کی ’’ماں‘‘ کیوں قرار دیتا آ رہاہے۔ یہ بات امریکہ کے اپنے مفاد میں ہے کہ وہ کشمیر کے مسئلے کا کوئی ایسا حل اپنے نئے اتحادی (بھارت)پر مسلط کرسکے، جو کشمیریوں ، پاکستانیوں اور بھارتیوں کے لئے قابلِ قبول ہو۔

جوں جوں وقت آگے بڑھے گا، گوادر کی اہمیت زیادہ ہوتی چلی جائے گی، بحرہند کے بحری ٹریفک میں اضافہ ہوگا، آبنائے ملا کا سے آبنائے ہرمز تک کے پانیوں میں قاتل آبدوزوں کے کئی سکواڈرن خاموشی سے محوسفر ہوں گے، چین، اورروس کے طیارہ برداروں کی آمدورفت بڑھے گی، دبئی، جیسے تجارتی گڑھ (Hub)کوآہستہ آہستہ سورج گرہن لگے گا، قطر اور بحرین سے امریکی ٹاسک فورسز کی کسی اور جگہ منتقلی (مثلاً بحرالکاہل کے مغربی ساحل وغیرہ پر) نوشتہ دیوار بنے گی ۔۔۔

مزید : کالم