ہندو کا نظریہ ’’رام راجی بھارت ماتا‘‘

ہندو کا نظریہ ’’رام راجی بھارت ماتا‘‘
ہندو کا نظریہ ’’رام راجی بھارت ماتا‘‘

  



دُنیا میں بہت کم لوگ ہیں جو ہندو کی موجودہ بے چینی اور ہنگامہ آرائی کے حقیقی سبب سے باخبر ہیں، حتی کہ پاکستان کے مسلمان بھی فسادی ہندو کی فطرت سے آگاہ نہیں ہیں خصوصاً پاکستانی مسلمانوں کے خود غرض اور دنیا پرست لیڈر تو ہندو کی اس فسادی فطرت کے حقیقی سبب پر بالکل توجہ ہی نہیں دے رہے، اگر یہ آگاہ ہوتے تو دنیا کو بتاتے کہ ہندو بنیادی طور پر مغرور برہمن کی طبقاتی تقسیم کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں جو انسانیت دشمن نسل پرستی کا قائل ہے، کیونکہ دنیا میں صرف دو مذہب ہیں جن کی بنیادہی نسل پرستی پر ہے ان میں سے ایک ہندو برہمن ہے جس نے مذہبی بنیاد پر انسانی معاشرے کو طبقات میں تقسیم کر رکھا ہے، اس تقسیم میں سب سے اونچا برہمن ہے اور سب سے نیچا اچھوت اور باقی تمام انسان ہیں، مغرور اور گھمنڈی برہمن دوسرے انسانوں اور اچھوتوں سے چھو جائے تو ناپاک ہو جاتا ہے، اسی مغرور برہمن نے ہندوؤں کو ’’رام راج بھارت ماتا‘‘ کا نظریہ دے رکھا ہے جس کی رو سے برصغیر میں صرف ہندو رہ سکتا ہے، باقی سب انسان یہاں زندگی گزارنے کا کوئی حق نہیں رکھتے مسلمان ہوں، عیسائی ہوں، سکھ ہوں یا پارسی ہوں، سب کو یہ سرزمین چھوڑنا پڑے گی یا ہندومت کے دائرہ میں داخل ہونا پڑے گا، یہ ہندو کا مذہبی عقیدہ ہے کہ غیر ہندو کے ساتھ پر امن بقائے باہمی نا ممکن ہے، ہندو کانگریس کا مسلم لیگ اور اس کے لیڈر سے یہی تو جھگڑا تھا ورنہ قائد اعظمؒ نے پر امن بقائے باہمی کی بنیاد پر ہندوستان کو متحد رکھنے کی بے حد کوشش کی تھی، وہ چاہتے تھے کہ برصغیر کے تمام انسانوں کو آئینی طور پر مذہبی آزادی ملنا چاہئے مگر ہندو کانگرس کا ارادہ رام راج اور اکھنڈ بھارت ماتا کا تھا!

ہندو برہمن کے اس غرور اور گھمنڈ کو انگریز سام راجیوں نے 1857ء کے بعد مزید تقویت دی جب ہندو کو یہ طعنہ دیا کہ تم مسلمان اقلیت کے ہزار سال تک غلام کیوں رہے؟ بلکہ برہمن کو ہندو اکثریت کی لوری بھی سنائی کہ اگر تم انگریز کا ساتھ دو تو اس ملک میں حکومت تمہاری ہندو اکثریت کی ہو گی جس میں کوئی بھی شریک نہیں ہوگا اگر تم چاہو گے تو اسے شریک کر لو گے مگر ہندو مزاج بنا کر یعنی اگر کوئی غیر ہندو تمہارے مذہب میں گھل مل جائے گا تو شریک ہو سکے گا، چنانچہ سو سال سے برہمن اسی پر عمل کر رہا ہے اور اسی ہندو مزاج ہونے کو ’’ہندو توا‘‘ کا نام دے رکھا ہے! اب یہاں سب کو ہندو مت میں گھل مل کر رہنا ہوگا ورنہ یہاں سے جانا ہوگا!انگریزنے ہندو کو اکثریت ہونے اور مسلمان کے اقلیت میں ہونے کی جو لوری سنائی تھی۔ ہندو برہمن آج تک اسی لوری سے مست ہے اور جھوم رہا ہے، مگر جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ وہ اس خطے کی غالب قوت تو نہیں ہے، تیس کروڑ مسلمان بھارت میں ہیں، کروڑوں مسلمان پاکستان میں ہیں( جو اب ایٹمی طاقت بھی بن چکا ہے) یا بنگلہ دیش میں ہیں، دوسری طرف خطے کی سپر طاقت تو چین بن چکا ہے۔ برہمن اب سپر طاقت کیسے بنے گا؟ مودی جیسا جنونی ہندو جب یہ دیکھتا ہے اور اسے انگریز کی سنائی ہوئی لوری یاد آتی ہے تو وہ تڑپ اٹھتا ہے، مگر اسے کوئی راستہ نظر نہیں آتا، اس لئے وہ بھارتی مسلمانوں پر غصہ نکالتا ہے اور پاکستان یا بنگلہ دیش اسے الگ چھبتے ہیں!

انگریز نے برہمن کو دو لوریاں اور دو سبق سنائے تھے جو دونوں غلط ہیں اور اس خطہ میں بدامنی کا باعث ہیں، اونچی ذات کا ہندو یا برہمن اکثریت نہیں ہے، اصل اکثریت تو اچھوت، مسلمان، سکھ اور مسیحی ہیں، اگر یہ متحد ہو جائیں، ہندو برہمن بھی یہ سوچ کر ’’ذہنی اقلیت‘‘ میں مبتلا ہو کر کانپنے لگتا ہے( اور اس وقت بھی کانپنے لگا تھا جب قائداعظم ؒ نے اچھوتوں اور سکھوں کو ساتھ ملانے کی کوشش کی تھی، بلکہ مَیں تو آج بھی برہمن کو یہ چیلنج دیا کرتا ہوں کہ قائداعظمؒ نے فرمایا تھا کہ ہندو برہمن ایک درندہ اکثریت ہوگی! تو کیا برہمن آج بھی یہ چیلنج قبول کر سکتا ہے کہ برصغیر کی غیر ہندو اقلیتوں سے یہ پوچھا جائے کہ قائداعظمؒ کا یہ قول سو فیصد درست نہیں نکلا؟ تمام غیر ہندو اقلیتیں ظالم اور سنگ دل برہمن کو مسترد کر دیں گی!) مگر گھمنڈی برہمن میں آج بھی یہ جرات نہیں ہے، قائداعظم نے بالکل ٹھیک فرمایا تھا کہ برہمن ایک وحشی اور درندہ اکثریت ثابت ہوگا!

گاندھی اور دوسرے ہندو لیڈر غلط کہتے تھے کہ مسلمان اقلیت کو آئینی حق نہیں مل سکتا اور نہ وہ الگ اور آزاد ملک لے سکتے ہیں،کیونکہ وہ تو ہندو اکثریت کا حصہ تھے۔ تاریخ میں کبھی نہیں ہوا کہ ایک گروہ مذہب تبدیل کرکے اکثریت سے الگ ہو کر آزاد ملک کا دعویٰ کر بیٹھے! حالانکہ یہ بھی غلط ہے ،مسلمان بے شک اقلیت سہی، مگر نہ تو وہ صرف ہندو مت سے الگ ہوئے، بلکہ بلاشرکت غیرے ایک ہزار سال سے زائد عرصہ تک پورے برصغیر کے حکمران بھی رہے، اس کے علاوہ ان کی غالب اکثریت تو عرب و عجم سے آئی یا خراساں اور سنٹرل ایشیا سے بہت تھوڑے ہندو سے مسلمان ہوئے تھے، اس لئے تمام مسلمان ہندو مت سے الگ ہونے والی اقلیت نہیں ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ مسلمان مطلق اکثریت نہیں ہیں، بالکل جیسے ہندو برہمن مطلق اکثریت ہرگز نہیں ہے، انگریز نے مسلمان دشمنی میں یہ لوری برہمن کو سنائی تھی کہ وہ غالب اکثریت ہوگا! غالب اکثریت تو ہندو برہمن آج بھی نہیں ہے یہ تو اس نے اچھوتوں کو فریب دے کر ساتھ ملایا تھا، وہ تو آج بھی ہندو معاشرے کی طبقاتی لعنت سے بیزار ہیں، وہ کسی وقت بھی مسلمانوں، سکھوں، عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں سے مل کر برہمن کا دھڑن تختہ کر سکتے ہیں،جمہوری ملکوں میں اکثریت ووٹوں سے بنتی ہے، مگر کوڑ مغز برہمن اسے ماننے کے قابل ہی نہیں۔۔۔ آج جو کچھ مودی کررہا ہے یا کروا رہا ہے اس سے وہ اصل میں ’’رام راجی بھارت ماتا‘‘ کے ٹکڑے کروانے پر تُلا ہوا ہے! بھارت کے عقلمندوں اور دنیا کو یہ سمجھانے اور بتانے کی ضرورت ہے ، ہم اپنا نظریہ بھولے ہیں تو بھولیں ،مگر ہندو اپنا نظریہ ’’رام راجی بھارت ماتا‘‘ نہیں بھولا!

مزید : کالم