شورش کاشمیری اور تحریکِ ختم نبوت

شورش کاشمیری اور تحریکِ ختم نبوت
شورش کاشمیری اور تحریکِ ختم نبوت

  



شورش کاشمیری کو ہم سے رخصت ہوئے40سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ ان کا تعلق کسی جاگیردار یا سرمایہ دار گھرانے سے نہیں تھا۔ وہ ایک غریب خاندان کے چشم و چراغ تھے، لیکن اپنی بے پناہ جرأت، قلم اور زبان کی بے مثال صلاحیتوں اور جابر حکمرانوں کے سامنے اپنے کلمۂ حق کہنے کے مسلسل جہاد کے باعث شورش کاشمیری اپنے ہم عصر صحافیوں میں سب سے منفرد اور سب سے مختلف تھے۔ قیام پاکستان سے پہلے انگریز سامراج کے خلاف تحریک آزادی میں شورش کاشمیری نے جس بہادری اور بے خوفی کے ساتھ اپنا کردار ادا کیا تھا اور ان کو قید و بند کے دوران جن روح فرسا مصائب اور حکومتی جبرو تشدد کا سامنا کرنا پڑا، ایسی مثالیں جدوجہۂ آزادی کی تاریخ میں خال خال ہی ہوں گی۔ قیام پاکستان کے بعد بھی ہر دور میں شورش کاشمیری نے تقاریر اور تحریروں کے ذریعے سچ کہنے کی اپنی روایات کو برقرار رکھا اور اس کی پاداش میں کئی مرتبہ قیدو بند کی آزمائشوں سے گزرے۔ اُن کے ہفت روزہ ’’چٹان‘‘ کو کئی بار ضبط کیا گیا، لیکن حق گوئی اور بیباکی کے پیکر شورش کاشمیری نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر بھی حق و صداقت کے پرچم کو بلند رکھا۔۔۔ مسئلہ ناموسِ رسالت کے تحفظ کا ہو یا عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت کی خاطر جدوجہد کا ہو تو پھر شورش کاشمیری تیغ بدست اور کفن بردوش ہو کر میدان میں نکل آتے تھے۔ رسول پاکؐ کی محبت میں ہر سچے مسلمان کی طرح شورش کاشمیری کا بھی پوری زندگی یہ نصب العین رہا کہ:

نہ جب تک کٹ مروں مَیں خواجۂ یثرب کی حرمت پر

خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا

یہ عشقِ رسولؐ ہی تھا، جس نے شورش کاشمیری کو ان کی زندگی کے آخری سانس تک ایک جھوٹے مدعئ نبوت کے پیروکار قادیانیوں کے خلاف سرگرم عمل رکھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں پارلیمنٹ کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلانے میں شورش کاشمیری کی مسلسل اور پیہم جدوجہد تحریک ختم نبوت کی تاریخ کا ایک روشن ترین باب ہے۔ شورش کاشمیری کے ساتھ تحریک ختم نبوت کے دوران(1974ء) میری اکثر ملاقاتیں ہوتی تھیں۔ قادیانیوں کے آئینی طور پر غیر مسلم قرار دیئے جانے کے بعد وہ اپنے ساتھ ملنے والوں سے انتہائی مسرت اور فخر سے یہ گفتگو کیا کرتے کہ مجھ میں بے شمار کوتاہیاں ہوں گی،میرے گناہ بھی حد و شمار میں نہیں ہوں گے، لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اور میرے ساتھیوں کو قادیانیت کے خلاف جہاد کرنے کی جو توفیق دی، اس کے انعام کے طور پر میرا یقین ہے کہ ہمارا رب ہمیں آخرت میں اپنے محبوب اور آخری نبیؐ کے قدموں میں ضرور جگہ دے گا۔ سچی بات بھی یہ ہے کہ عقیدۂ ختم نبوت کے منکرین اسلام کے غداروں اور انگریزوں کے خود کاشتہ جھوٹے نبی کے گمراہ پیرو کاروں کے خلاف شورش کاشمیری کا زندگی بھر کا جہاد ان کے لئے سب سے بہتر سامانِ آخرت ثابت ہو گا۔

ایک ادیب کے بقول شورش کاشمیری کی زندگی کے دو ہی نصب العین تھے۔ ایک انگریز سامراج سے آزادی حاصل کرنا اور دوسرا عقیدۂ ختم نبوت کے منکروں کو قرآن و سنت کی روشنی میں پارلیمنٹ کے ذریعے غیر مسلم قرار دلوانا۔ اللہ تعالیٰ نے شورش کاشمیری کو جتنی بھی صلاحیتوں سے نواز رکھا تھا، وہ سب انہوں نے ان ہی دو مقاصد کے لئے وقف کر دی تھیں۔ قدرت حق نے شورش کاشمیری کو ان کے دونوں ہی مقاصد میں کامیابی اور کامرانی عطاء فرمائی۔شورش کاشمیری قادیانیت کے خلاف علامہ محمد اقبالؒ کی تحریروں اور مضامین سے بہت متاثر تھے۔ انہوں نے عقیدۂ ختم نبوت کے موضوع پر علامہ اقبالؒ کی تمام تحریروں کو مرتب کر کے ایک کتاب کی صورت میں بھی شائع کیا تھا۔ علامہ اقبالؒ نے انگریز حکمرانوں سے بھی قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن انگریز سامراج، کیونکہ خود قادیانی فتنے کو جنم دینے والے تھے، اس لئے علامہ اقبالؒ کے سو فیصد درست مطالبے کو بھی کوئی پذیرائی حاصل نہ ہوئی۔ شورش کاشمیری نے علامہ اقبالؒ کے افکار و تعلیمات کی روشنی میں قادیانیت کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھی۔

مسلمان مجموعی طور پر بھی عقیدۂ ختم نبوت کے حوالے سے بہت حساس ہیں، کیونکہ عقیدۂ ختم نبوت اسلام کی بنیاد ہے۔1974ء میں جب پورے پاکستان میں تحریک ختم نبوت کا ایک نئے جوش و جذبے سے آغاز ہوُا تو تمام اسلامی جماعتوں کے مشترکہ پلیٹ فارم سے مسلمانوں کا ایمان افروز کردار لائق صد تحسین تھا، لیکن تحریک ختم نبوت میں اکیلے شورش کاشمیری کا جو حصہ تھا، وہ ہمیشہ کے لئے اسلام کی تاریخ میں سنہرے حروف میں محفوظ ہو چکا ہے۔ 1974ء کی تحریک ختم نبوت میں شورش کاشمیری نے سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور مولانا ظفر علی خاں کی جانشینی کا صحیح معنوں میں حق ادا کر دیا تھا۔ انہوں نے قادیان کے جھوٹے مدعئ نبوت کی اصل حقیقت کو بے نقاب کرنے کے لئے ’’قادیانی محاسبہ کمیٹی‘‘ کے نام سے جو تنظیم قائم کی تھی، اس کے پلیٹ فارم سے مجھے بھی ضلع سیالکوٹ میں کام کرنے کا موقع میسر آیا تھا۔ شورش کاشمیری کی تحریروں اور تقاریر سے متاثر ہو کر پورے پاکستان میں ہزاروں، بلکہ لاکھوں نوجوان تحریک ختم نبوت کے جانباز اور جان فروش سپاہی بن چکے تھے۔ مَیں ذاتی طور پر اپنی زندگی کے آخری سانس تک شورش کاشمیری کا احسان مند رہوں گا کہ انہوں نے مجھے بھی منکرین ختم نبوت کے خلاف عمر بھر جہاد کرنے والے قافلے میں شامل کر کے اس قابل بنا دیا ہے کہ ہم آج بھی قادیانی فتنے کے خلاف اُسی طرح سرگرم عمل ہیں، جس طرح40سال پہلے شورش کاشمیری کی قیادت میں ہم نے تحریک ختم نبوتؐ میں اپنے حصے کا کردار ادا کیا تھا۔

قادیانی گروہ کے پس منظر کو صحیح طور پر سمجھنے کے لئے آج کی نوجوان نسل کو بھی شورش کاشمیری اور ان کے روحانی مرشد علامہ اقبال ؒ کی تحریروں کا مطالعہ کرنا چاہئے۔ قادیانیت کے حوالے سے شورش کاشمیری کا یہ نقطۂ نظر ہمیں اپنے دل و دماغ پر ہمیشہ کے لئے نقش کر لینا چاہئے کہ قادیانیت کوئی مذہب نہیں ہے، یہ ایک سیاسی گروہ ہے، جو انگریز سامراج نے اپنی ایک ضرورت کے تحت ایجاد کیا تھا۔ قادیانیت کا اصل بانی مرزا غلام احمد قادیانی نہیں تھا، بلکہ خود انگریز حکمران تھے،جنہوں نے مسلمانوں کے دِلوں سے جذبۂ جہاد ختم کرنے کے لئے قادیانی فتنے کی بنیاد رکھی تھی۔ مرزا قادیانی نے خود اپنی تحریروں میں بھی اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ وہ انگریزوں کا خود کاشتہ پودا ہے۔ قادیانی گروہ کا ایک ہی مقصد تھا کہ مسلمانوں کی صفوں میں انتشار پیدا کر کے حکومت برطانیہ کے ہندوستان میں اقتدار کو دوام اور استحکام بخشا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ علامہ اقبالؒ نے قادیانیوں کو ملت اسلامیہ کا غدار قرار دیا تھا۔۔۔یوں تو قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دِلانے کے لئے پیر مہر علی شاہ، سید عطاء اللہ شاہ بخاری، علامہ اقبالؒ اور مولانا ظفر علی خان جیسے اکابرین نے اپنے اپنے دائرے میں تاریخ ساز کردار ادا کیا تھا، مگر تحریک ختم نبوت کے آخری دور میں شورش کاشمیری کے قلم اور زبان کی آتش فشانی نے قادیانیت کے خوفناک چہرے کو بے نقاب کرنے کا حق ادا کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں قادیانیوں کا سیاسی خرمن راکھ کا ڈھیر بن گیا۔

مزید : کالم


loading...