وزیراعلیٰ کی طرف سے تادیبی کارروائی۔۔۔ یہی گڈ گورننس ہے!

وزیراعلیٰ کی طرف سے تادیبی کارروائی۔۔۔ یہی گڈ گورننس ہے!

  



وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے محکمہ صحت کی کارکردگی پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے اور چار اضلاع کے ای ڈی او صحت معطل کر دیئے ہیں،وزیراعلیٰ نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کے دوران مچھروں کی افزائش، ڈینگی کے خدشات اور علاقائی طبی مراکز کے علاوہ اضلاعی ہسپتالوں کی کارکردگی کو بھی ہدف تنقید بنایا ہے۔وزیراعلیٰ نے درست طور پر تادیبی کارروائی کی ہے، اور یہ ضروری بھی ہے ہم نے ایک سے زیادہ بار گزارش کی کہ گڈ گورننس یہ نہیں کہ خود وزیراعلیٰ صبح سے رات تک مارے مارے پھرتے رہیں اور خود کاموں کی نگرانی کریں، بلکہ گڈ گورننس تو یہ ہو گی کہ اُن کے ماتحت سے لے کر ایک ہیلپر تک اپنے اپنے محکمے اور اپنے اپنے شعبہ میں فرائض کی ادائیگی پوری دیانت داری سے کریں، لیکن ایسا نہیں ہو رہا، کسی بھی محکمے کے کسی بھی شعبہ میں سب لوگ اپنے فرائض پوری دیانتداری سے ادا نہیں کرتے اور اگر ان میں کوئی ایسا محنتی ہو تو اسے بھی نہیں چلنے دیا جاتا، کرپشن کی کہانیاں عام ہیں اور سب بڑے سکینڈل سامنے لا کر سیاست دانوں کے کھاتے میں ڈالتے ہیں، لیکن جو رشوت خوری اور خورد برد محکموں میں نچلی سطح پر ہوتی ہے اسے نظر انداز کیا جاتا ہے۔وزیراعلیٰ نے یہ انتہائی درست اقدام کیا اور چار افسر معطل کر کے پیغام دیا ہے کہ کام کرو یا تادیبی کارروائی کا سامنا کرو، وزیراعلیٰ کو یہ عمل مستقل طور پر اپنانا چاہئے اور تمام محکموں کی کارکردگی کا جائزہ لے کر ان کے سربراہوں سے باز پُرس کرنا چاہئے اور پھر ہر متعلقہ سیکرٹری کے ذمہ یہ لگایا جائے کہ وہ کارکردگی کی رپورٹیں حاصل کریں، جو اِن اجلاسوں میں سامنے لا کر دیکھی جائیں۔ اس سلسلے میں وزیراعلیٰ اپنے محکمہ اطلاعات کو ہدایت کریں کہ وہ نچلی سطح پر ہونے والی نااہلیت اور کرپشن کی خبریں الگ الگ محکموں کے حوالے سے ان کو مہیا کریں، جو ان اجلاسوں میں زیر غور آئیں، سب کو کام کرنا ہو گا اوپر سے نیچے تک اور یہی گڈ گورننس ہے۔

مزید : اداریہ


loading...