افغانستان میں امن ، پاکستان میں امن

افغانستان میں امن ، پاکستان میں امن

  



بری فوج کے سر براہ جنرل راحیل شریف نے منگل کو ایف سی ہیڈکوارٹرپشاورکے دورے کے موقع پر افسروں اور جوانوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ قوم کو پاک فوج پر مکمل اعتماد ہے اور وہ قوم کی توقعات پر ہمیشہ پورااتریں گے، انہیں اپنی قوم کے اس ناقابل تسخیر عقیدے کا محافظ ہونے پر فخر ہے۔پاک فوج کی کارکردگی حقیقتاً قابل دادہے، لوگ اس پر بھروسہ کرتے ہیں اور آپریشن ضربِ عضب کے باعث نجات دہندہ بھی تصور کرتے ہیں۔ پلڈاٹ کے عوامی سروے کے مطابق بھی پاک فوج کو عوام نے مُلک کے سب سے قابل اعتماد ادارے کا درجہ دیا۔آرمی چیف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاک افغان سرحد پر تعاون کو مربوط بنانے اورمستقبل میں سرحد پار سے دہشت گردی کی کسی بھی کوشش اور حملے کو ناکام بنانے کے لئے زیادہ چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے پاک افغان سرحد کے دونوں اطراف بہتر سرحدی رابطہ پر بھی زور دیا جو خطے میں پائیدار امن و استحکام کا بنیادی تقاضا ہے۔جنرل راحیل شریف نے کہا کہ آپریشن ضربِ عضب میں ایف سی کی بہادری، قربانیاں اور کامیابیاں قابل تحسین ہیں۔ پاک فوج اور ایف سی کے جوانوں کی جرات اور بہادری، آپریشن ضربِ عضب کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ آرمی چیف نے ایف سی میں بھرتیوں میں میرٹ یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ موثر تربیت سے ہی ایف سی باصلاحیت ادارہ بن سکتا ہے۔آرمی چیف نے اس سے قبل بھی متعدد بار پاک افغان تعاون اور سرحد کی حفاظت پر زور دیا ہے، کیونکہ پاکستان اس حقیقت سے واقف ہے کہ آپریشن ضربِ عضب کو نتیجہ خیز بنانے کے لئے پاک افغان سرحد کو محفوظ بنانااز حد ضروری ہے اور اس کے لئے دونوں ممالک کو مل کر کام کرنا ہو گا۔ پاکستان تو پاک افغان دو طرفہ تعلقات کا حامی ہے اور افغانستان میں امن کے لئے کوشاں بھی ہے۔اس سلسلے میں وہ ہمیشہ ہر طرح کے تعاون کی یقین دہانی بھی کراتا رہا ہے۔

گزشتہ برس افغانستان میں جمہوری حکومت قائم ہوئی، صدر اشرف غنی نے اقتدار سنبھالا اور سابق افغان صدر حامد کرزئی کے برعکس انہوں نے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا، دونوں ملکوں کے درمیان دوستی اور تعاون کی باتیں ہونے لگیں۔ انٹیلی جنس شےئرنگ پر اتفاق رائے ہوا،اپنی زمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے دشمن کو اپنا دشمن بھی قرار دیا۔سانحہ پشاور کے فوراًبعد جب آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی افغانستان گئے اور انہوں نے دہشت گردی کے اس بدترین واقعے کے پیچھے افغانستان میں موجود شدت پسندوں کے ملوث ہونے کے ثبوت فراہم کئے تو افغانستان نے اپنے سرحدی علاقوں میں آپریشن کر کے متعدد دہشت گردوں کو ہلاک و گرفتار کیا۔پھر افغانستان میں طالبان کی کارروائیاں زور پکڑنے لگیں ، انہوں نے کابل میں افغان پارلیمنٹ پر حملہ کیا تو دبے الفاظ میں اس کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالنے کو شش کی گئی ، لیکن جب گزشتہ ماہ دہشت گردی کی بد ترین لہر اُٹھی ، ایک ہی دن میں تین حملے ہوئے اور کابل کے ہوائی اڈے کو بھی نشانہ بنایا گیا تواچانک ہی افغان صدر کی نظریں بدل گئیں، وہ تو سابق صدر حامد کرزئی کی ہی زبان بولنے لگے ۔ایک دن پہلے وہ پاکستان کی کوششوں کو سراہ رہے تھے، لیکن اگلے ہی دن انہوں نے کھلے الفاظ میں براہ راست پاکستان کو مورد الزام ٹھہرا دیا۔اور تو اور بغیر سوچے سمجھے افغان میڈیا نے قندوز پر طالبان کے حملے میں پاکستان سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے ملوث ہونے کا دعویٰ کرنا بھی شروع کر دیا۔

اقتدار سنبھالنے کا ایک سال پورا ہونے پرافغان صدر نے برطانوی نشریاتی ادارے کوانٹرویو دیتے ہوئے اِسی بات پر اصرار کیا کہ پاکستان غیر اعلانیہ طور پر گزشتہ 13 برس سے ان کی ریاست کے خلاف جارحانہ کارروائیاں کر رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ایک ہی موقف اپنائے،اس سے قطع نظر کہ دہشت گردی میں کون سا گروہ ملوث ہے۔ایسا نہیں ہو سکتا کہ اپنے مُلک میں تو دہشت گردی کے خلاف سخت موقف اپنائیں، لیکن جو افغانستان کو برباد کر رہے ہیں ان کے لئے الگ موقف ہو۔جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بھی افغانستان نے پاکستان کے خلاف سخت موقف اپنایا، عبداﷲ عبداﷲ نے اقوام متحدہ سے اپیل کی کہ وہ پاکستان پر زور دے کہ وہ اپنا وعدہ پورا کرے اور ان شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرے جو افغانستان میں کارروائیاں کر رہے ہیں۔افغانستان ، پاکستان کو شک کی نگاہ سے تو دیکھتا ہے، لیکن آج تک کوئی ثبوت فراہم نہیں کر سکا ، در حقیقت پاکستان سرحد پار دہشت گردی کا شکا ر ہے، بھارت افغانستان کے ذریعے پاکستان میں دخل اندازی کر رہا ہے، سانحہ بڈھ بیر کی کڑیاں بھی افغانستان میں مقیم دہشت گردوں سے جا ملتی ہیں،شواہد یہی کہتے ہیں کہ حملہ آور افغانستان سے آئے تھے اور حملے کو وہیں سے مانیٹر کیا جا رہا تھا۔اس کے علاوہ بھی بیشتر ایسے واقعات ہیں، جن کے تانے بانے افغانستان میں موجود شدت پسندوں سے جا ملتے ہیں۔پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف ہے، عسکری و سیاسی قیادت بارہا واضح کر چکی ہے کہ پاکستان میں بلا تفریق دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری ہے۔افغان حکومت کو بھی یہ بات سمجھنی اور تسلیم کرنی چاہئے، بھارت کے رنگ میں رنگنے سے پرہیز کرنا چاہئے۔ پاکستان یہ مانتا ہے کہ اس کے اور افغانستا ن کے تعلقات برادرانہ ہیں، دونوں کے درمیان تاریخی اورخون کا رشتہ ہے۔قیام امن کے لئے پاکستان کی کوششیں مخلصانہ ہیں ، دشمن اس کو نقصان پہنچانے کی تاک میں ہے، لیکن وہ اپنے ناپاک ارادے میں کبھی کامیاب نہیں ہو گا۔اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہو سکتیں کہ پاکستان افغانستان کا خیر خواہ ہے اورخطے میں امن افغانستان میں امن سے مشروط ہے۔

مزید : اداریہ