عراق نے روس سے داعش پر حملوں کے لیے نہیں کہا،امریکا

عراق نے روس سے داعش پر حملوں کے لیے نہیں کہا،امریکا

  



واشنگٹن(کے پی آئی)امریکا کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف میرین جنرل جوزف ڈنفورڈ نے عراق میں مستقبل قریب میں روس کے فضائی حملوں کے امکان کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ عراق نے روس سے داعش کے خلاف فضائی حملوں کے لیے کوئی درخواست نہیں کی تھی۔انھوں نے یہ بات عراق کے اپنے پہلے دورے کے موقع پر کہی ہے۔انھوں نے یکم اکتوبر کو امریکا کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کا عہدہ سنبھالا تھا۔عین اسی روز عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے کہا تھا کہ وہ اپنے ملک میں داعش کے خلاف روس کے فضائی حملوں کا خیرمقدم کریں گے۔لیکن جنرل ڈنفورڈ نے اپنے ساتھ سفر کرنے والے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے بعد عراق کی جانب سے امریکی عہدے داروں کو یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ حیدرالعبادی نے ماسکو سے ایسی کوئی درخواست نہیں کی ہے۔روس 30 ستمبر سے پڑوسی ملک شام میں صدر بشارالاسد کے مخالف باغی گروپوں کے خلاف فضائی حملے کررہا ہے،اس کے بعد سے داعش مخالف جنگ کا نقشہ ہی تبدیل ہوچکا ہے اور اب امریکا اوراس کے اتحادی ممالک نے شام میں داعش کے خلاف فضائی حملے کم کردیے ہیں۔البتہ ان کے عراق میں داعش کے اہداف پر فضائی حملے جاری ہیں۔دوسری جانب عراق کی ایک سینیر پارلیمانی شخصیت نے گذشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کی فوج بغداد میں قائم کردہ ایک نئے انٹیلی جنس مرکز کی مدد سے داعش کے جہادیوں کے خلاف بمباری کررہی ہے۔اس انٹیلی جنس مرکز میں روسی ،عراقی ،ایرانی اور شامی عملہ تعینات ہے۔جنرل ڈنفورڈ کا طیارہ کردستان کے علاقائی دارالحکومت اربیل میں منگل کو طے شدہ وقت سے آدھا گھنٹا تاخیر سے اترا تھا۔

ان کے طیارے کا رخ بغداد کے ائیرٹریفک کنٹرولر نے اربیل کی جانب موڑ دیا تھا کیونکہ وہ اس کی پرواز کے منصوبے سے آگاہ نہیں تھے۔

مزید : عالمی منظر


loading...