امریکہ میں صدارتی انتخابات کے قریب آتے ہی سیاستدان بیان بدلنے لگے

امریکہ میں صدارتی انتخابات کے قریب آتے ہی سیاستدان بیان بدلنے لگے

  



نیو یارک (این این آئی)امریکہ میں صدارتی انتخابات کا دور قریب آتے ہی امریکی سیاستدان بھی بیانات بدلنے لگے،2012 میں ایبٹ آباد آپریشن کی مخالفت کرنے والے امریکی نائب صدر جوبائیڈن اب اسکی حمایت کرنے لگے ہیں۔ابھی تک ڈیموکریٹک پارٹی میں صداوتی امیدواروں کی ریس میں ہلیری کلنٹن سب سے آگے ہیں۔الیکشن کا زمانہ کیا قریب آیا ،امریکی سیاستدان بھی اپنے بیانات بدلنے لگے ،امریکا کے نائب صدر جو بائیڈین نے اپنا پرانا موقف بدلتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کے خلاف اس آپریشن کی حمایت کی تھی جس میں وہ ہلاک کیے گئے تھے ۔جو بائیڈن آئندہ صدارتی انتخابات میں اترنے کی کوششوں میں ہیں اور اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن سے متعلق ان کا بدلتا موقف ان کی سیاسی مجبوری بنا ہوا ہے۔ 2012 میں انہوں نے کانگریس کے سامنے امریکی صدر کو یہ آپریشن نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔نائب امریکی صدر جو بائیڈن بھی آئندہ صدارتی انتخابات میں اترنے کی کوشش میں ہیں اور اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن سے متعلق ان کا ہچکچانے والا موقف ان کی سیاسی مجبوری بن گیا ہے۔امریکہ کے نائب صدر جو بائیڈین نے اپنا پرانا موقف بدلتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کے خلاف اس آپریشن کی حمایت کی تھی جس میں وہ ہلاک کیے گئے تھے۔جو بائیڈن بھی آئندہ صدارتی انتخابات میں اترنے کی کوششوں میں ہیں اور اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن سے متعلق ان کا متذبذب موقف ان کی سیاسی مجبوری بنا ہوا ہے۔2012 میں انہوں نے اس آپریشن سے متعلق کانگریس کو بتایا تھا کہ جناب صدر میری تجویز یہ ہے کہ آپ ایسانہ کریں۔یعنی انہوں نے صدر اوباما کو یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ پاکستان کے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ پر حملہ نہ کریں۔

لیکن اب انہوں نے بتایا کہ انہوں نے صدر اوبامہ سے ذاتی طور پر اس پر عمل کرنے کا مشورہ دیا تھا۔واشنگٹن میں ایک پروگرام میں انہوں نے کہاکہ جب ہم کمرے سے باہر نکلے اور اور سیڑھیوں پر چڑھنے لگے تب ہم نے ان سے اپنی رائے ظاہر کی اور کہا کہ میرے خیال سے انہیں اس پر عمل کرنا چاہیے لیکن وہ اپنی اندر کی آواز پر عمل کریں۔ہیلری کلنٹن اس زمانے میں امریکہ کی وزارت خاجہ تھیں اور انہوں نے یہ بات کھل کر کہی ہے کہ اسامہ بن لادن کے خلاف صدر کے فیصلے کی انہوں نے کھل کر حمایت کی تھی۔ان کا مزید کہنا تھاکہ جو بات میں حتمی پر سوچتا ہوں اسے میں کبھی اس وقت تک ان سے نہیں کہتا جب تک میں ان کے ساتھ اوپر اوؤل آفس میں نہیں جاتا۔مئی 2011 میں امریکی صدر نے اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کو منظوری دی تھی جس میں امریکہ کے خصوصی دستوں نے انہیں ایبٹ آباد کے ایک کمپاؤنڈ میں گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔حالیہ دنوں میں جو بائیڈن کے حامیوں نے ان کی اس بات کے لیے حوصلہ افزائی کی ہے کہ صدارتی امید وار کی نامزدگی کی ریس میں وہ ڈیموکریٹک پارٹی کی اپنی ساتھی ہیلری کلنٹن کو چیلنج کریں۔ہیلری کلنٹن اس زمانے میں امریکہ کی وزارت خاجہ تھیں اور انہوں نے یہ بات کھل کر کہی ہے کہ اسامہ بن لادن کے خلاف صدر کے فیصلے کی انہوں نے کھل کر حمایت کی تھی۔گذشتہ مئی میں جوبائیڈن کے بیٹے بیو کی موت ہوگئی تھی اور بائیڈن نے یہ سوال بھی رکھا ہے کہ وہ دیکھیں گے کہ اس واقعے کے بعد کیا ان میں اتنی جذباتی توانائی ہے کہ وہ انتخاب کی ریس میں آسکیں۔بعض دوسرے حلقوں کا کہنا ہے کہ اس دوڑ میں اتنی تاخیر سے شامل ہونے سے وہ اس قدر مالی حمایت نہیں حاصل کر پائیں گے جتنی ایک جارجانہ انتخابی مہم چلانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ابھی تک ڈیموکریٹک پارٹی میں صداوتی امیدواروں کی ریس میں ہلیری کلٹن سب سے آگے ہیں اور جو بائیڈین کو اس بارے میں جلد ہی فیصلہ کرنا ہوگا کیونکہ وقت بہت کم بچا ہے۔اس سے قبل 1988 اور 2008 میں جو بائیڈن صدارتی عہدے کے لیے ناکام کوششیں کر چے ہیں اور پھر بعد میں وہ اوباما کے نائب صدر بن گئے۔

مزید : عالمی منظر


loading...