فوج سمیت تمام اداروں کو سیاسی معاملات میں مداخلت سے گریز کرنا چاہیے ، مجیب الرحمان شامی

فوج سمیت تمام اداروں کو سیاسی معاملات میں مداخلت سے گریز کرنا چاہیے ، مجیب ...

  



 لاہور(خبر نگار)ملک میں معاشی ترقی کیلئے سیاسی مستقل مزاجی انتہائی ضروری ہے۔نظریہ پاکستان ایک تحریر نہیں بلکہ حقیقت ہے ،تمام اداروں کی آئینی حدود قائم ہونی چاہئیں۔تمام اداروں کو آئینی حدود قائم اوراداروں کو سیاسی معاملات میں سیاست سے گریز کرنا چاہئے۔سیاست میں مستقل مزاجی ہوگی تو ملک معاشی طور پر مضبوط اورترقی پائے گا۔مسئلہ کشمیر کیلئے حکمت عملی طے کرنے کی ضرورت ہے۔ان خیالات کا اظہارمعروف تجزیہ نگار اورروزنامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمان شامی نے یونیورسٹی آف انجیئنرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبہ بزنس منیجمنٹ میں ڈبیٹنگ سوسائٹی کے زیراہتمام سیاسی مستقل مزاجی اورمعاشی بہتری کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے مہمان خصوصی کے طورپر خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ نظریہ پاکستان تحریر نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے اورہندوستان کے مسلمانوں کی اکثریت نے پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے وقت پاکستان کے حق میں ووٹ دیا تھا۔انہوں نے کہا کہ یہ کہنا کہ پاکستان کا معرض وجود میں آنا ایک حادثاتی معاملہ ہے ، ذہنی تناؤ پیدا کرنے کے مترادف ہے۔پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد پاکستان کی حکومت نے جو معاشی اقدامات کیے وہ انتہائی ناگزیر تھے۔اس میں پاکستان نے اپنے تشخص کو بحال رکھنے کیلئے کمیونسٹ بلاک یعنی اشتراکی انقلاب کی مخالفت کی ۔اس موقع پر مجیب الرحمان شامی نے پاکستان کی فوج کے حوالے سے کہا کہ پاکستان کی فوج ایک ادارہ ہے۔افواج پاکستان کو ملٹری بیوروکریسی کہنا غلط ہے ،کیونکہ بیوروکریسی خون نہیں دیتی اورپاک فوج خون دیتی ہے۔انہوں نے کہا کہ فوج سمیت تمام اداروں کی آئینی حدود قائم ہونی چاہئیں اوراداروں کو سیاسی معاملات میں مداخلت سے گریز کرنا چاہئے۔کیونکہ جب کسی بھی ملک میں پولیٹیکل سٹیبیلیٹی ہوگی تو سسٹم آگے چلے گااورسسٹم آگے چلے گا تو ملک کی معاشی بہتری کیلئے پہلا قدم ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ملک کی معاشی ترقی کیلئے سیاسی مستقل مزاجی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔اسی سے معیشیت میں بہتری اورملک مضبوط ہوگا۔ انہوں نے ملک کے داخلی وخارجی مسائل کے حوالے سے اپنی تقریر میں کہا کہ مسئلہ کشمیر ایک قومی مسئلہ ہے ۔اس کا کوئی نہ کوئی حل نکلنا چاہئے۔اس میں ضروری نہیں کہ اس کا100فیصد حل ہماری مرضی ہو ،اس کیلئے حکمت عملی کی ضرورت ہے۔اوراس کا مل بیٹھ کر حل نکالنا چاہئے۔انہوں نے آج کی نوجوان نسل اوربالخصوص تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبا وطالبات کے حوالے سے کہا کہ استاد کا احترام انتہائی واجب ہے۔اساتذہ کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے اس میں حکومت کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔اس موقع پر طلبا وطالبات کے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ استاد اس قوم کی بنیاد ہے۔استاد کو تنخواہ پر کم انحصار کرنا چاہئے کیونکہ استاد پیغمبروں کا پیشہ ہے۔ انہوں نے طلبا وطالبات کو تلقین کرتے ہوئے کہا کہ آج کے نوجوان کا سب سے زیادہ فوکس علم پر ہونا چاہئے اورنوجوان جس طبقہ میں بھی ہو اسے اپنے اپنے دائرے میں مثال بننا چاہئے۔اورآنے والے وقت میں ملک کی تعمیر وترقی کیلئے اپنا کردار اداکر لینا چاہئے۔۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...