سراج الحق کے اعلیٰ عدلیہ سے گلے ۔ کس حد تک جائز

سراج الحق کے اعلیٰ عدلیہ سے گلے ۔ کس حد تک جائز

  



جب سراج الحق یہ کہہ رہے تھے کہ لاہور میں 122 کا ضمنی انتخاب دراصل پیسے کا انتخاب تھا۔ اس میں دو امیدواروں یا دو سیاسی جماعتوں کے درمیان مقابلہ نہیں تھ بلکہ یہ پیسے کی لڑائی تھی۔ تحریک انصاف کے چودھری سرور سٹیج پر خاموش بیٹھے تھے۔ نہ وہ مسکرا رہے تھے نہ سنجیدہ تھے۔ بلکہ پریشان تھے۔ البتہ باقی سب مسکرا رہے تھے۔

سراج الحق جماعت اسلامی کے چاروں صوبوں کے نومنتخب امرا سے حلف لینے کے موقع پر خطاب کر رہے تھے۔ وہ عدلیہ سے بھی سخت نا لاں لگ رہے تھے۔ شائد وہ سیاسی جماعتوں سے زیادہ عدلیہ سے نا لاں لگ رہے تھے۔ لیکن ان کی نا راضگی کس حد تک جائز ہے۔ یہ بات قابل بحث ہے۔حیرانگی کی بات ہے کہ سراج الحق ممتاز قادری کی حمائت کر رہے ہیں۔ اور کہہ رہے ہیں کہ ممتاز قادری کا معاملہ عمل اورر د عمل کا ہے۔ تو ہین رسالت کا ہے۔

مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ سراج الحق معاشرہ میں کیا چاہتے ہیں۔ ایک طرف تو وہ کہہ رہے کہ تو ہین رسالت کا قانون ختم نہیں ہو نا چاہئے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب وہ ممتاز قادری کے عمل و ردعمل کی حمائت کر رہے ہیں۔ تو پھر توہین رسالت کے قانون کی کیا ضرورت ہے؟ اگر سراج الحق کی ممتاز قادری کی عمل ردعمل کی تھیوری کو مان لیا جائے تو پھر جہاں بھی تو ہین رسالت ہو گی کوئی نہ کوئی ممتاز قادری خود بخود عمل و ردعمل کی تھیوری کے تحت اس کا حساب کر لے گا۔ اس لئے توہین رسالت کا قانون تو اس منطق سے عمل رد عمل کی تھیوری کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ اس لئے اس کو ختم کر دینا چاہئے۔ کچھ لوگ ممتاز قادری کی حمائت میں دلیل دیتے ہوئے غازی علم دین شہید کے واقعہ کی مثال دیتے ہیں۔ لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ جب غازی علم دین شہید کا واقعہ ہوا تب ملک میں توہین رسالت کا کوئی قانون نہیں تھا۔ ملک میں انگریز کی حکمرانی تھی۔ اور کوئی اسلامی قانون نہیں تھا۔ اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ غازی علم دین شہید کے پاس کوئی قانونی راستہ موجود نہیں تھا۔ اس لئے اس نے خود قانون کو ہاتھ میں لینے کا عمل کیا۔

ملک میں قوانین اسی لئے بنائے جاتے ہیں تا کہ لوگ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی بجائے قانون کا دروازہ کھٹکھٹائیں۔ اسی کو قانون کی حکمرانی کہتے ہیں۔ اگر اس ملک میں تو ہین رسالت کے قانون کی بقا چاہتے ہیں۔ تو انہیں عوام کو تو ہین رسالت کے قانون پر اعتماد کرنے کا سبق دینا چاہئے۔ ورنہ جس قانون پر عوام کا اعتماد ختم ہو جائے ۔ وہ قانون بھی خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔ سراج الحق کی منطق سے تو ہین رسالت کا قانون مضبوط نہیں ہو گا بلکہ کمزور ہو گا۔ اس لئے ممتاز قادری کی حمائت کرنے والے دراصل تو ہین رسالت کے قانون کے دشمن ہیں۔

سراج الحق کو عدلیہ سے یہ بھی گلہ ہے کہ اعلیٰ عدلیہ نے سود کے حوالہ سے ایک ایسا فیصلہ دیا ہے۔ جس سے ملک میں سود کے خاتمہ کی کوششوں کو تقصان ہوا ہے۔ یہ بات اپنی جگہ حقیقت ہے کہ اسلام میں سود حرام ہے۔ لیکن یہ بات بھی حقیقت ہے کہ ملک میں سودی نظام رائج ہے۔ ملک میں اسلامی بنکنگ کا نظام بھی موجود ہے۔ گو کہ اس پر ابھی اعتراضات ہیں۔ کہ اس میں سود ایک دوسرے طریقہ سے لیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ سراج الحق کیا چاہتے ہیں۔ کیا وہ یہ چاہتے ہیں کہ اعلیٰ عدلیہ ملک میں سود کو ختم کرنے کا اعلان کر دیتی۔ جس سے ملک میں موجود تمام معمول کے بنک بند ہو جاتے ۔ ان کا کاروبار بند ہو جا تا۔ اسی فیصلہ کی روشنی میں جن لوگوں نے بنکوں سے اربوں روپے قرضہ لیا ہوا تھا وہ بھی اس قرضہ کا سود دینے سے انکار کر دیتے۔ اور اصل رقم بیس سال میں قسطوں میں واپس کرتے۔ اور تمام بنک دیوالیہ ہو جاتے۔ اسی طرح سپریم کورٹ کے ایسے فیصلے کے بعد حکومت پاکستان عالمی اداروں سے لئے گئے قرضوں پر بھی سود نہ دینے کی پابند ہو جاتی۔ عالمی ادارے ہمیں ڈایفالٹر قرار دے دیتے۔اور پاکستان ڈیفالت کر جاتا۔ یا یہ ہو جا تا کہ پاکستان کے عوام تو بنکوں سے لئے گئے قرضوں پر سود دینے سے انکار کر دیتے ۔ لیکن حکومت پاکستان عالمی مجبوریوں کی وجہ سے قرضوں پر سود دیتی رہتی۔ اس ساری بحث کا یہ مطلب نہیں کہ سود حلال یا جائز ہے۔ یا ہم سود کے حوالہ سے احکام الہیٰ کی خلاف ورزی کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن اس وقت دنیا ایک گلوبل ویلج بن چکی ہے۔ اور اس ویلج پر جو معیشت حاوی ہے وہ اسلامی نہیں۔اس لئے مجبوریوں کو سامنے رکھتے ہوئے کیا اعلیٰ عدلیہ نے ٹھیک فیصلہ نہیں کیا۔

سراج الحق کی یہ بات تو ٹھیک ہے کہ جماعت اسلامی ایک جمہوری جماعت ہے ۔ یہاں کسی فرد واحد کی حکومت نہیں۔ انتخاب کے ذریعے کوئی بھی اوپر آسکتا ہے۔ اس میں مڈل کلاس کی حکومت ہے۔ اگر جماعت اسلامی بر سر اقتدار آجائے گی تو ملک میں مڈل کلاس کی حکومت ہو گی۔ لیکن اس کے ساتھ جماعت اسلامی جن غیر ضروری معاملات میں الجھ جاتی ہے ۔ وہ اس کو عام آدمی سے دور کر دیتے ہیں۔ شائد ممتاز قادری ۔ سود عوام کا مسئلہ نہیں ہیں۔ عوام کو تعلیم صحت انصاف چاہئے۔ جماعت اسلامی کو بھی ان پر فوکس کرنا چاہئے۔ تب ہی جماعت اسلامی کی سیاست کا کوئی چانس ہے۔

مزید : کالم


loading...