نادہندگان کیخلاف کرروائی نہ ہونے پر نیب اور ایف آئی اے کی سرزنش

نادہندگان کیخلاف کرروائی نہ ہونے پر نیب اور ایف آئی اے کی سرزنش

  



 اسلام آباد (آئی این پی) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس میں سال 2013-14میں 10کروڑ 40لاکھ روپے کے نقصان سمیت سٹیٹ انجینئرنگ کاپوریشن میں لیے ہوے قرضے 9لاکھ پر 1کروڑ 90لاکھ روپے سود لگنے کا انکشاف ہوا ، کمیٹی کا سندھ انجینئرنگ لمیٹڈ کے نادہندہ افسران کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر اظہار برہمی،نیب اور ایف آیی اے حکام کی سرزنش، 15دن کے اندر ملوث افسران کیخلاف کارروائی کرکے رپورٹ پی اے سی میں پیش کرنے کی ہدایت کی ۔اجلاس میں دو کروڑ تیس لاکھ روپے ٹھیکیداروں کو کام کی تکمیل نہ ہونے کے باوجود ادا کیے جانے کا انکشاف ہوا اور اب معاملہ عدالت میں ہے ۔کمیٹی نے کہا 25 سال کا عرصہ ہو گیا مقدمات کی پیروی نہیں کی جاتی ، ادارے ذاتی مقدمات سمجھ کر پیروی کریں ۔ پی ٹی سی ایل کی نجکاری ہوئی تو سندھ حکومت کیوں زمین دے گی ، زمینوں کی ملکیت صوبوں کے پاس ہے ، آڈٹ حکام نے جب کیسز کی پیروی نہ کرنے کا اعتراض اٹھا یا تو سیکرٹری صنعت و پیداوار نے کہا کہ ہم ہر کیس کی پیروی کر رہے ہیں اب ہم دیوار سے سر نہیں ما ر سکتے ۔ بدھ کو پی اے سی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس نوید قمر کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں سندھ انجینئرنگ لمیٹڈ کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔آڈٹ حکام کے مطابق سندھ انجینئرنگ لمیٹڈ کے ذمہ گزشتہ بارہ سال سے دو کروڑ اڑسٹھ لاکھ واجب الادا ہیں کو تاحال وصول نہیں کیے جاسکے۔وزارت صنعت و پیداوار کے حکام نے بتایا کہ اس کیس میں ملوث دو افسران کیخلاف کارروائی نیب کے ذریعے کی گئی تاہم یہ دونوں افسران منظر عام سے غائب ہیں۔ نادرا کے ذریعے ان کا پتہ چلانے کی کوشش کی جارہی ہے جس پر پی اے سی نے اظہار برہمی کرتے ہویے 15 دن میں رپورٹ طلب کرلی۔ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس کے حوالے سے سیکرٹری صنعت و پیداوار نے کمیٹی کو بتایا کہ پیداوار میں اضافہ ہوا ہے اور حالات پہلے سے بہتر ہیں حکومت سے درخواست کرینگے کہ اس کو نجکاری لسٹ سے خارج کردیں جبکہ پاکستان سٹیل ملز کے حوالے سے کنونیئرکمیٹی نوید قمر کا کہا کہ 15 دسمبر تک پاکستان سٹیل کی نجکاری سمجھ سے بالا تر ہے کیونکہ ابھی تک سٹیل ملز کے معاملات ہی حل نہیں ہوسکے جبکہ وزارت مذہبی امور کے تین مختلف آڈٹ اعتراضات کو نمٹا دیا گیا۔

مزید : علاقائی


loading...