امریکی پالیسیاں پاکستان میں سول ملٹری عدم توازن میں اضافہ کرتی ہیں ، فارن پالیسی

امریکی پالیسیاں پاکستان میں سول ملٹری عدم توازن میں اضافہ کرتی ہیں ، فارن ...

  



 واشنگٹن (اے این این ) امریکی پالیسیاں پاکستان میں سول ملٹری عدم توازن میں اضافہ کرتی ہیں ٗ وزیراعظم نواز شریف کا دورہ امریکہ پاکستان میں جمہوریت کو تقویت دینے میں بہت کم معاون ہوگا ٗ نواز شریف اور باراک اوبامہ کے درمیان ملاقات سے اہم نتائج کی توقع نہیں رکھنی چاہیے ٗ امریکہ کو سویلین اداروں اور پارلیمنٹ کو مضبوط کرنے میں پاکستان کی مدد کرنا ہوگی ۔امریکی جریدے فارن پالیسی نے اپنی حالیہ رپورٹ ’’واشنگٹن پاکستان میں جمہوریت کی مدد نہیں کرتا‘‘ میں لکھا ہے کہ اسلام آباد کی جانب امریکی پالیسیاں پاکستان میں سول ملٹری عدم توازن میں اضافہ کرتی ہیں۔وزیر اعظم نواز شریف کا دورہ واشنگٹن پاکستان میں جمہوریت کو تقویت دینے میں بہت کم معاون ہوگا۔ پاکستان میں امریکا کے زیادہ ترمفادات سیکورٹی سے متعلق ہیں ، اکثر سلامتی کے معاملات کیلئے امریکا کو پاکستانی فوجی حکام سے بات کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نوازشریف اور امریکی صدر اوباما کے درمیان ملاقات سے اہم نتائج کی توقع نہیں ہونی چاہئے ، یہی وجہ ہے کہ اہم ایجنڈے میں انسداد دہشت گردی تعاون، جوہری سلامتی، طالبان کے ساتھ افغانستان امن عمل شامل ہیں جن پر وزیر اعظم نہیں فوج حتمی فیصلہ کرتی ہے۔ اوباما نوازشریف ملاقات کے بعدآئندہ ماہ امریکی صدر اور جنرل راحیل شریف کے درمیان بھی اہم ملاقات ہونے والی ہے۔جریدے کے مطابق امریکا کو پارلیمنٹ اور پولیس جیسے سویلین اداروں کو مضبوط کرنے میں پاکستان کی مدد کرنی چاہیے۔ پاکستان میں جمہوریت ابھی بھی نامکمل ہے۔ امریکی حکومت نے2009 سے 2014کے درمیان پاکستان میں جمہوریت اور اسلوب حکمرانی کی امداد میں 40 کروڑ ڈالر امداد دی اور حال ہی میں پارلیمانی خدمات کے لئے بھی مدد دی۔

مزید : علاقائی


loading...