بیرون ملک ملازمت کا جھانسہ دے کر لڑکیاں سمگل کرنیوالے گروہ کیخلاف سیشن کورٹ میں درخواست دائر

بیرون ملک ملازمت کا جھانسہ دے کر لڑکیاں سمگل کرنیوالے گروہ کیخلاف سیشن کورٹ ...

  



لاہور (نامہ نگار خصوصی) سادہ لوح لڑکیوں کو ملازمت کاجھانسہ دے کردبئی اور ملائشیا بھجوانے کے بعد انہیں وہاں کلبوں میں ڈانس کرنے پرمجبورکرنے کے واقعات کا انکشاف ہوا ہے ، یہ انکشاف اس وقت ہوا جب گزشتہ روز متاثرہ افراد نے سیشن کورٹ لاہور میں پیش ہو کر گروہ کے ارکان کی گرفتاری کی درخواست دائر کی۔عدالت نے مبینہ متاثرہ افراد کی درخواست پر ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی ۔ پاکپتن کی ماریہ جبکہ جوہر ٹاؤن کی سمیرا کے شوہر محمدقاسم نے سیشن کورٹ پیش ہو کر لڑکیوں کو سمگل کرنے والے گروہ کا انکشاف کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ملتان روڈ شاہ نور سٹوڈیو کے بابر گجر ، عباس شاہد اورجاوید کاہلوں اس گھناؤنے دھندے میں ملوث ہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ ایف آئی اے کو ان کی گرفتاری کیلئے احکامات جاری کیے جائیں۔ عدالت میں بتایا گیا کہ دبئی ا ورملائشیا میں کافی تعدادمیں لڑکیاں ایسی ہیں جو حکومتی امداد کی منتظر ہیں، سادہ لوح لڑکیوں کو ملازمت کا جھانسہ دیکراوران سے رقم وصول کرنے کے بعد بیرون ملک بھجوا دیا جاتا ہے جہاں دفاتر میں کام کرانے کی بجائے ان سے کلبوں میں ڈانس کروایا جاتا ہے۔ جوہر ٹاؤن کے قاسم نے بتایا کہ اس کی بیوی سمیرا کو دبئی لے جایا گیاجہاں اس کو ڈانس کرنے پر مجبور کیا گیا ، اس کی بیوی بیماری کی وجہ سے عدالت نہ آ سکی آئندہ تاریخ کو وہ سمیرا کوبھی پیش کرے گا۔ ماریہ نے بتایا کہ اس کو دو لاکھ روپے لے کرملازمت کے لے بھجوایا گیالیکن وہاں جاکرعلم ہوا کہ اس کیساتھ فراڈ ہوگیا ہے۔عدالت سے استدعاہے کہ ایف آئی اے کوحکم دیاجائے کہ ملزمان کوگرفتار کرکے بیرون ملک بے بسی کی تصویر بنی متاثرہ لڑکیوں کو واپس لانے کا انتظام کیا جائے ۔

مزید : علاقائی