سپریم کورٹ کا کراچی میں واٹر ٹریٹمنٹ پلان مکمل نہ ہونے پر اظہار برہمی

سپریم کورٹ کا کراچی میں واٹر ٹریٹمنٹ پلان مکمل نہ ہونے پر اظہار برہمی

  



 کراچی(اے این این)سپریم کورٹ نے کراچی میں ٹریٹمنٹ پلان منصوبہ مکمل نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وفاق اور سندھ حکومت سے ایک ماہ میں رپورٹ طلب کرلی،عدالت نے ایم ڈی واٹر بورڈ سے استفسار کیاہے کہ کراچی میں اگر پانی کی قلت ہے تو بڑی تعداد میں ٹینکرزپانی کہاں سے لیکرآتے ہیں ، ڈیفنس والے تو پانی خرید لیتے ہیں غریب آبادی کے لوگ کیسے خریدیں گے؟۔چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بنچ نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں غیر قانونی واٹر ہائیڈرنٹ اور شہر میں پانی کی قلت کے معاملے کی سماعت کی۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے ٹریٹمنٹ پلان منصوبہ مکمل نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وفاق اور سندھ حکومت کوایک ماہ میں رپورٹ پیش کرنے ہدایت کی ہے۔سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے غیر قانونی واٹر ہائیڈرنٹ کیس میں چیف سیکرٹری سندھ اور ایم ڈی کراچی واٹر بورڈ سمیت دیگر اداروں کو رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ اگر شہر میں پانی کی قلت ہے تو ٹینکرز کو پانی کہاں سے مل رہا ہے۔ ایم ڈی واٹر بورڈ نے عدالت کو بتایا کہ کنٹریکٹرز کے واجبات کی عدم ادائیگی کے باعث غیرقانونی ہائیڈرنٹ کی بندش فوری ممکن نہیں،32 کروڑ روپے کے واجبات آئی ڈی پیز کیلئے بھیجے جانے والے ٹینکرز کے ہیں، جو نواب شاہ اور بدین تک حکومت سندھ کی ہدایت پر بھیجے جاتے رہے ۔ اس پر جسٹس امیرہانی مسلم نے استفسار کیا کہ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ واٹر ٹینکر آئی ڈی پیز تک پہنچے بھی ہیں یا نہیں۔ایم ڈی واٹر بورڈ کا کہنا تھا کہ تصدیق نہیں کرسکتا ۔ ایم ڈی واٹر بورڈ کے بیان پر جسٹس مقبول باقرنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ ٹینکرز کے80فیصد بل جعلی ہیں لیکن ہم مجبور ہیں کچھ کہہ نہیں سکتے، پہلے متاثرین کو بھیجے گئے ٹینکرز کی تصدیق کی جائے پھر ادائیگی کی جائے۔ ایم ڈی واٹر بورڈ نے کہاکہ کراچی میں یومیہ 60کروڑ گیلن پانی کا شارٹ فال ہے ارسا کو چاہیے کہ پانی کا کوٹہ بڑھائے۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ حکومتی اداروں کی کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے،ایم ڈی واٹر بورڈ کی گفتگو سے نہیں لگتا کہ شہر میں پانی کا مسئلہ حل ہوگا۔ جسٹس انورظہیرجمالی نے کہا کہ اگر پانی کی قلت ہے تو بڑی تعداد میں ٹینکرز پانی کہاں سے لیکر آتے ہیں ۔ایم ڈی واٹر بورڈ کہتے ہیں کہ ڈیفنس میں پانی کی قلت ہے۔ڈیفنس کے ہر گھر میں لان موجود ہے اور سب سے زیادہ پانی ڈیفنس میں استعمال ہوتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایسا حکم دینے پر مجبور نہ کریں کہ ڈی ایچ اے کیلئے کام کرنا مشکل ہوجائے،ڈی ایچ اے شہریوں سے 50،50 لاکھ روپے ڈویلپمنٹ چارج وصول کر رہی ہے، لیکن پانی نہیں دے رہی۔ عدالت نے کیس کی سماعت 10 روز کے لیے ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر چیف سیکریٹری سندھ اور ایم ڈی واٹر بورڈ سمیت دیگر اداروں کو رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

مزید : علاقائی