حکومت کا جی آئی ڈی سی کی مدد میں وصول 11ارب صارفین کو واپس کرنے سے انکار

حکومت کا جی آئی ڈی سی کی مدد میں وصول 11ارب صارفین کو واپس کرنے سے انکار

  



لاہور (نامہ نگار خصوصی ) لاہور ہائیکورٹ میں حکومت نے بجلی کے بلوں کے ذریعے گیس انفرا سٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (جی آئی ڈی سی ) کی مد میں گیارہ ارب روپے کی وصولی کا اعتراف کر لیا تا ہم یہ رقم صارفین کو واپس کرنے سے معذوری ظاہر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ یہ رقم بجلی پیدا کرنے والی نجی کمپنیوں ( آئی پی پیز) کو ادا کی جا چکی ہے جس پر عدالت نے آئی پی پیز کو 17 نومبر کے لئے نوٹس جاری کر دئیے ہیں ۔ عدالت نے یہ حکم جوڈیشل ایکٹو ازم پینل کی درخواست پر جاری کیا۔ عدالتی حکم پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ جی آئی ڈی سی کی مد میں صارفین سے گیارہ ارب روپے کی وصولی کی جا چکی ہے اور اب یہ رقم آئی پی پیز سے ہی وصول کی جا سکتی ہے ، حکومت کے خلاف یہ درخواست غیر موثر قرار دے کر مسترد کی جائے ۔ درخواست گزار کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ وفاقی حکومت اور نیپرا صارفین سے کھیل رہے ہیں اور گیارہ ارب روپے کی وصولی کو یقینی بنانے کے لئے تین ماہ تک کیس کو تاخیری حربوں کے ذریعے التواء کا شکار رکھا گیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ بھاری بلوں کی وجہ سے چار لوگ خودکشیاں کر چکے ہیں جن کی ذمہ دار وفاقی حکومت ہے ۔ انہوں نے استدعا کی کہ جی آئی ڈی سی کے نفاذ کو غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کیا جائے ۔

مزید : علاقائی


loading...