پنجاب کے 16اضلاع کے مراکز صحت این جی اوز کوٹھیکے پر دینے کا منصوبہ لٹک گیا

پنجاب کے 16اضلاع کے مراکز صحت این جی اوز کوٹھیکے پر دینے کا منصوبہ لٹک گیا

  



لاہور(جیم الف) پنجاب کے 16اضلاع کے مراکز صحت کو پرائیویٹ این جی اوز کو ٹھیکے پر دینے کا منصوبہ لٹک گیا۔ان میں سے 10ہسپتال پہلے مرحلے میں یکم نومبر کو ٹھیکے پر دیے جانے تھے۔مگر غیر سرکاری تنظیموں کو عدم دلچسپی کے باعث اس منصوبہ پر عملدرآمد نہیں ہوسکا۔بتایا گیا ہے کہ 10اضلاع کے مراکز صحت کی پیش کش دینے پر صرف4این جی اوز نجی شعبہ سے میدان میں آئیں۔جن میں سے 3نااہل قرارپاگئیں۔ایک صرف فاطمہ میموریل ہسپتال ہی میدان میں رہ گیا۔بتایا گیا ہے کہ محکمہ صحت نے پنجاب کے 16اضلاع کو پرائیویٹ این جی اوز کو ٹھیکے پر دینا تھا ۔جس کیلئے پہلے مرحلے میں 31اکتوبر تک 10اضلاع کے تمام مراکز صحت جن میں ڈسٹرکٹ ،تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال ،بنیادی مراکز صحت اوردیہی مراکز صحت شامل تھے ۔این جی اوز کو ٹھیکے پر دینے تھے۔اس کیلئے محکمہ صحت نے بذریعہ اشتہار پیش کش طلب کیں۔جن میں 14اداروں نے دلچسپی ظاہر کی ۔ان 14میں سے 4اداروں کا تعلق نجی شعبہ سے تھا مگر چھان بین کے دوران ان میں سے 3کو نااہل قرار دے دیا گیا۔اب ایک ادارہ جو فاطمہ میموریل ہسپتال چلاتا ہے وہ اکیلا میدان میں باقی رہ گیا ہے۔جو صرف3اضلاع خوشاب،حافظ آباد اورچنیوٹ کے اضلاع ٹھیکے پر حاصل کرنا چاہتا ہے۔باقی 13اضلاع کے مراکز صحت کو ٹھیکے پر لینے کیلئے کوئی تیار نہیں ہے۔جس کے باعث محکمہ صحت کی طرف سے 16اضلاع کے مراکز صحت کو ٹھیکے پر دینے کا منصوبہ عملی طور پر ناکا م ہو گیا ہے۔محکمہ صحت کی عملاً ناکام حکمت عملی کے باعث وزیر اعلیٰ کا سرکاری ہسپتالوں کو پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کرنے کا منسوبہ عملاً ناکام ہوگیا ہے۔پہلے مرحلے میں 10دوسرے میں 16اورآخری مرحلے میں دیگر ہسپتال ٹھیکے پر دیے جانے تھے مگر آغاز میں ہی اس پر عملدرآمد ناکام ہو گیاہے۔

مزید : صفحہ اول