ظفر قریشی کو دھمکیاں ، نیب کی ایف آئی اے کے 4افسروں کیخلاف تحقیقات شروع

ظفر قریشی کو دھمکیاں ، نیب کی ایف آئی اے کے 4افسروں کیخلاف تحقیقات شروع

  



لاہور(زاہد علی خان) نیب نے ایف آئی اے کے ایک اعلیٰ افسر ظفر احمد قریشی کو دھمکیاں دینے اورسرکاری فرائض میں رکاوٹیں ڈالنے کے الزامات کے تحت ایف آئی اے کے چارافسروں کے خلاف تحقیقات شروع کر دی ہیں ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق ڈائریکٹر ایف آئی اے پنجاب ظفر احمد قریشی کو دوران تعیناتی ان افسروں نے سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں اورکہا کہ وہ دفتر نہ آیا کریں۔دھمکیاں دینے والوں نے یہ بھی کہا کہ آپ جن افسران کی پشت پناہی کررہے ہیں وہ بھی اپنے عہدوں پر نہیں رہ سکیں گے۔دھمکیاں دینے والوں نے یہ بھی کہا کہ وہ بااثر ہیں ان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ظفر احمد قریشی کو دفتر آنے سے روکنے کی دھمکی دی گئی کہ اگر وہ دفتر آئے تو وہ خود ہی ذمہ دارہوں گے۔بلکہ ایف آئی کے ایک اعلیٰ افسر نے ان کیلئے مین گیٹ بھی بند کروادیا۔جبکہ ان کے ماتحت ایک ڈپٹی ڈائریکٹر کو دھمکی دی گئی کہ وہ بھی دفتر نہ آئے اس طرح ظفر احمد قریشی دوروز تک دفتر نہ آسکے۔جس کی تحریری رپورٹ انہوں نے ڈی جی ایف آئی اے کو بھجوادی جبکہ رپورٹ کی ایک کاپی آئی جی پولیس پنجاب کو بھی بھجوادی ۔ بتا یا گیا ہے کہ آئی جی پولیس پنجاب نے بھی وفاقی وزیر داخلہ کو ایک خط لکھا جس میں کہا گیا کہ اس معاملے کی تحقیقات ضرور ہونی چاہئیں۔رابطہ کرنے پر ظفر احمد قریشی نے بتایا کہ ان کو واقعی سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔اورانہیں جان کا بھی خطرہ لاحق ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ سرکاری عہدے پر فائز ہیں اورایسے افسران کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ذرائع نے بتایا کہ نیب نے اس حوالے سے ایف آئی اے کے اعلیٰ افسر کو شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ تفتیشی رپورٹ ڈی جی ایف آئی اے اورآئی جی پولیس پنجاب کو بھجوائی جائی گی۔واضح رہے دھمکیاں دینے والوں میں سابق ڈائریکٹر پنجاب ایف آئی اے وقار بھٹی سرفہرست ہیں۔

مزید : صفحہ اول


loading...