بھارت میں ہنگامے پھیل گئے سکھ بری طرح مشتعل

بھارت میں ہنگامے پھیل گئے سکھ بری طرح مشتعل

  



تجزیہ:چودھری خادم حسین

وزیر اعظم محمد نواز شریف کے دورہ امریکہ اور ملاقاتیں شروع ہونے سے قبل پاکستان کے سیکریٹری خارجہ کی طرف سے پاکستانی موقف پر بریفنگ سے بہت کچھ واضح ہوتا ہے اور اس پر امریکہ ہی سے تجزیاتی رپورٹیں اور تبصرے بھی موصول ہو رہے ہیں۔ ہمیں تو اس وقت اس نکتہ پر بات کرنا ہے کہ جس وقت اور جن تاریخوں میں وزیر اعظم پاکستان کا دورہ امریکہ شروع ہونا تھا۔ انہی دنوں میں مودی سرکار کے عسکری ونگ نے بھارت میں دھماچوکڑی مچائی اس سے اسے کیا حاصل ہوا؟ ہمارے خیال میں ایک طرف تو بھارت، اسرائیل کے تعاون سے امریکہ کے اندر لابنگ کر رہا تھا اور دوسری طرف بھارت کے اندر اقلیتوں کا قافیہ تنگ کیا جا رہا تھا اور ایسے تمام پروگرام منسوخ کر دیئے گئے جن میں دونوں اطراف یا دنیا کے مختلف ممالک سے آئے لوگ دوستی اور بہتر تعلقات کی بات کرتے اور دو ہمسایہ ممالک کے درمیان جب تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے تجاویز آئیں تو یقیناً یہ بھی کہا جاتا کہ بھارتی حکومت کو مذاکرات سے گریز اور انکار نہیں کرنا چاہئے اس کے علاوہ مودی سرکار پاکستان کی طرف سے بھارتی مداخلت کے ثبوتوں کے جواب میں بھی پاکستان پر کوئی الزام دھرنا چاہتی تھی اس لئے بھارتی پنجاب میں سکھوں کی مقدس کتاب کی بے حرمتی جیسے منصوبے بنائے گئے لیکن مودی سرکار کی شہ پا کر شیو سینا اور انتہا پسند ہندوؤں نے کچھ اور ہی کام کر دکھایا۔ متعدد مسلمان شہید کر دیئے گئے اور پانچ سکھ مظاہرین بھی مار دیئے گئے اس کے بعد شیوسینا نے ممبئی میں جو کچھ کیا دہلی میں گائے کے ذبیحہ کی حمایت پر رشید انجینئر کشمیری کا منہ کالا کیا گیا۔ ان سب اقدامات کا نتیجہ الٹا نکلا اور خود مودی سرکار کے گلے پڑ گیا۔ اب تو بی بی سی نے بھی یہی تبصرہ کیا کہ یہ سب مودی حکومت کے گلے پڑ گیا ہے۔ بھارتی حکومت پاکستان کے خلاف مداخلت اور آئی ایس آئی پر سکھوں کو اکسانے کا الزام بھی نہ لگا سکی کہ گائے کے مسئلہ پر کئی مسلمان شہید کر دیئے گئے اور پھر گرو گرنتھ کی بے حرمتی والے معاملے کو بھی نہ سنبھالا جا سکا اور مظاہرین کی سیکیورٹی والوں کے ہاتھوں اموات نے کام خراب کر دیا یوں یہ منصوبہ تو ناکام ہو گیا اب بھارت میں ہونے والی کئی عالمی تقریبات منسوخ ہو گئی ہیں اور جن لوگوں کو ویزے مل چکے وہ بھی جانا نہیں چاہتے اور بھارتی دوست بھی ان کو نہ آنے کا مشورہ دے رہے ہیں یوں الٹی آفتیں گلے پڑ گئی ہیں اور اب انتہا پسندی کا جن بوتل میں واپس نہیں جا رہا۔

اس صورت حال کی وجہ سے بھارت کے اندر بہت زیادہ ہنگامہ آرائی ہو گئی اور وزیر اعظم پاکستان کے دورہ امریکہ کے دوران سبوتاژ کی کارروائی دھری کی دھری رہ گئی ہے اب سکھ اور کشمیری پوری دنیا میں احتجاج کر رہے ہیں۔

مزید : تجزیہ