کیاپاکستان کو ٹونٹی 20ورلڈ کپ سے باہر کرنے کی سازش کی جارہی ہے ْ۔

کیاپاکستان کو ٹونٹی 20ورلڈ کپ سے باہر کرنے کی سازش کی جارہی ہے ْ۔

  



تجزیہ:۔ قدرت اللہ چودھری

ممبئی میں شیوسینا نے جس طرح پی سی بی کے چیئرمین شہر یار احمد خان اور نجم سیٹھی کا ’’استقبال‘‘ کیا اور جس طرح بھارتی کرکٹ بورڈ، بال ٹھاکرے کے پیروکاروں کے دباؤ میں آیا ہوا محسوس ہوتا ہے، اس سے تو لگتا ہے کہ یہ سارا میلہ اس لئے سجایا گیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو مجبور کر دیا جائے کہ وہ ٹونٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کر دے۔ اگرچہ شہر یار احمد خان نے کل نئی دہلی میں کہا تھا کہ بھارتی بورڈ کے مایوس کن رویئے کے باوجود ٹی ٹونٹی کا بائیکاٹ نہیں کریں گے لیکن آج انہوں نے جو پریس کانفرنس کی اس سے لگتا ہے کہ شاید پاکستان کو بائیکاٹ کی جانب دھکیلا جا رہا ہے۔ انہوں نے بائیکاٹ کا آپشن کھلا رکھنے کی بات کی ہے، پھر آئی سی سی کے سربراہ ظہیر عباس کے بیان سے بھی لگتا ہے کہ وہ بھی کسی نہ کسی طرح خود کو بھارتی کرکٹ بورڈ کے دباؤ میں محسوس کرتے ہیں ۔ انہوں نے پاکستان کو جو مشورہ دیا ہے وہ یہ ہے کہ چونکہ بھارت میں پاکستانی ٹیم کو سیکیورٹی کا مسئلہ درپیش ہے ۔ اس لئے وہ وہاں کھیلنے کے بارے میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کرے، ظہیر عباس کا تعلق اگرچہ پاکستان سے ہے لیکن آئی سی سی کے سربراہ ہونے کے ناطے سے ان کا بنیادی فرض عالمی کرکٹ کا فروغ ہے۔ انہیں خود آگے بڑھ کر انڈین کرکٹ بورڈ کے حکام سے بات کرنی چاہئے تھی کہ وہ اس ضمن میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرے لیکن ایسے لگتا ہے شیوسینا نے چند دن میں غنڈہ گردی کے جو مظاہرے کئے ہیں کرکٹ کے متعلق سارے لوگ درجہ بدرجہ اس کے دباؤ میں آ گئے ہیں۔ بھارتی کرکٹ بورڈ کا رویہ تو سمجھ میں آتا ہے، لیکن یہ آئی سی سی کو کیا ہوگیا ہے، وہ ٹیموں کی حفاظت کے ضمن میں بیک فٹ پر کیوں چلا گیا ہے؟

شیوسینا کا وجود صرف مہاراشٹر میں ہے اور اس کے ارکان زیادہ سے زیادہ اپنے صوبے میں غنڈہ گردی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں۔ اگرچہ بھارتی کرکٹ بورڈ چاہے تو اس کا یہ حل بھی نکل سکتا ہے کہ ممبئی میں میچ نہ رکھا جائے اور اسے کسی دوسرے شہر میں منتقل کر دیا جائے۔ باقی ریاستوں میں نہ تو شیوسینا کی حکومت ہے اور نہ ہی اس کے پاس ایسے متشدد ورکر ہیں جو ہر کسی کو ہر جگہ دھمکاتے پھریں، خورشید محمود قصوری کی کتاب کے افتتاح کی تقریب بھی ممبئی میں متاثر ہوئی تھی اور وہاں صحافی کلکرنی کے منہ پر کالک ملی گئی تھی، اسی طرح غلام علی کا کنسرٹ بھی ممبئی میں ہی منسوخ ہوا تھا۔

امپائر علیم ڈار کا تعلق اگرچہ پاکستان سے ہے، لیکن وہ انٹرنیشنل کرکٹ کے ایسے امپائروں میں شامل ہیں جن کا عزت و احترام پوری دنیا میں مسلم ہے۔ وہ ایلیٹ امپائروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے ساتھ جو سلوک کیا گیا ہے، آئی سی سی نے اس پر بھی معذرت خواہانہ رویہ اختیار کیا ہے، حالانکہ آئی سی سی کو اس سلسلے میں بھارت کے کرکٹ بورڈ کی جواب طلبی کرنی چاہئے تھی، چونکہ علیم ڈار بھارت میں پاکستانی شہری کی حیثیت سے نہیں گئے ہوئے تھے بلکہ آئی سی سی کے نمائندے اور انٹرنیشنل امپائر کی حیثیت سے گئے تھے، اس لحاظ سے یہ آئی سی سی کی توہین ہے، اس معاملے کو بھارتی کرکٹ بورڈ کے حکام کے ساتھ اٹھانا چاہئے، اس سلسلے میں آئی سی سی جس نرم روئے کا مظاہرہ کر رہا ہے وہ نااہلی کے مترادف ہے۔ آئی سی سی اگر بھارت جنوبی افریقہ کی سیریز میں اپنے حکام کو تحفظ نہیں دے سکتی تو وہ آئندہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2016ء میں ان کو کیا تحفظ دے گی؟

دہلی سے واپسی پر لاہور میں شہریار خان نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ وہ بھارت سے یہ جواب لینے گئے تھے کہ کیا وہ پاکستان کے ساتھ سیریز کھیلنا چاہتا ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا بھارتی کرکٹ حکام کا موقف ہے کہ معاہدہ ہماری سابق حکومت نے کیا تھا، اب نئی حکومت سے اجازت لینا ضروری ہے۔ شہریار خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے بھارت سے کہا کہ آپ ٹال مٹول چھوڑ کر واضح موقف اختیار کریں اور ہاں یا ناں میں جواب دیں، ایسے محسوس ہوتا ہے کہ جب تک شیو سینا کا ردعمل سامنے نہیں آیا تھا شہریار کو امید تھی کہ بھارت سیریز کھیلنے کے لئے ہاں کر دے گا لیکن اب وہ بھی مایوس نظر آتے ہیں۔

مزید : تجزیہ