میٹرو فوبیا

میٹرو فوبیا

  



فوبیا ایک نفسیاتی بیماری کا نام ہے۔۔۔جب کوئی انسان کسی ایسی چیز سے خوامخواہ ڈرنا شروع ہو جائے جو اس کے لئے در حقیقت نقصان دہ نہیں ہوتی،لیکن وہ ایک مخصوص نفسیاتی کیفیت کا شکار ہوکر اس سے ڈرنا شروع ہوجائے تو اسے فوبیا کہا جاتا ہے۔ طبی لحاظ سے یہ بے چینی کی وہ قسم ہے جو اسے شدید نفسیاتی بیماری میں مبتلا کردیتی ہے۔ایسا نفسیاتی مریض چوبیس گھنٹے اس سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اور بسا اوقات اس چیز کے ذکر سے ہی ہذیانی کیفیت میں مبتلا ہوجاتا ہے ،جس سے اسے فوبیا ہوتا ہے۔ ننانوے فیصد فوبیا غیر ضروری ہوتے ہیں ،کیونکہ جس چیز سے وہ ڈررہا ہوتا ہے ،وہ اس کے لئے غلط یا نقصان دہ ہوتی ہی نہیں ،لیکن نفسیاتی مرض اس مریض کو کسی کام کا نہیں چھوڑتا۔یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ اگر کسی کو پاگل کتا کاٹ لے تو اسے پانی سے فوبیا ہوجاتا ہے۔پانی دیکھتے ہی اس کی حالت غیر ہوجاتی ہے اور وہ چیخنا چلانا شروع کر دیتا ہے، اگر اس کا درست علاج نہ کیا جائے تو چیختے چلاتے موت کے منہ میں اتر جاتا ہے۔

فوبیا کسی عام چیز سے بھی ہوسکتا ہے، لیکن اس کے بہت سے مریض ایسے بھی ہیں، جن کی حالت اس وقت غیر ہوتی ہے، جب کسی مخصوص چیز کا ان سے تذکرہ کیا جائے۔فوبیا کے ایسے مریض کسی ایسی چیز کا نام سنتے ہی چیخنا چلانا شروع کردیتے ہیں،اس کے منہ سے جھاگ اور گالیاں نکلنا شروع ہوجاتی ہیں اور جلدہی وہ مرنے مارنے پر اتر آتے ہیں۔فوبیا کی بہت ساری اقسام کا تذکرہ کسی اور کالم میں کروں گا ،لیکن ایک نئے فوبیا کا ذکر آج کروں گا جو حالیہ برسوں میں پاکستان میں دیکھا جا رہا ہے۔نفسیاتی امراض کے ماہرین نے اسے میٹرو فوبیا کا نام دیا ہے جو ان لوگوں کو ہو جاتا ہے جن کے سامنے میٹرو بس یا میٹرو ٹرین اور نج لائن کا نام لیا جائے۔خوش قسمتی سے میٹرو فوبیا میں مبتلا افراد کی تعداد دزیادہ نہیں ،لیکن پھر بھی یہ کہیں نہ کہیں نظر آجاتے ہیں۔دوسرے فوبیاؤں کی طرح میٹروفوبیا میں مبتلا مریض بھی میٹروبس کا نام سنتے ہی چیخنا چلانا شروع کر دیتے ہیں،ان کے منہ سے جھاگ اور گالیاں نکلنا شروع ہوجاتی ہیں اور وہ مرنے مارنے پر اترآتے ہیں۔

وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں قوم کو موٹر وے اور کمیونی کیشن میں انقلاب کا تحفہ دیا تھا۔1990ء کی دہائی کے اوائل میں جب میاں نواز شریف نے موٹروے کی تعمیر شروع کی تھی تو اس وقت بھی کچھ لوگوں کو موٹر وے فوبیا ہوگیا تھا اور اس میں مبتلا مریضوں کی موٹروے کا نام سنتے ہی حالت غیر ہوجاتی تھی۔آج وہی لوگ سفر کے لئے جب موٹر وے کا استعمال کرتے ہیں تو اس کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے۔اسی طرح اس دور میں جب میاں نواز شریف کی قیادت میں کمیونیکیشن میں انقلاب آیا تو چوبیس گھنٹے کے اندر ٹیلی فون کنکشن لگنا شروع ہوگیا تھا، ورنہ اس سے پہلے تو صورتِ حال یہ تھی کہ دادا کی دی ہوئی درخواست پر کہیں پوتے کو ٹٰیلی فون کنکشن نصیب ہوتا تھا۔ میاں نواز شریف کے دوسرے دور میں پاکستان ایٹمی طاقت بن کر ہمیشہ کے لئے ناقابلِ تسخیر ہوگیا تھا۔بدقسمتی سے ان کے پہلے دونوں ادوار فوجی جرنیلوں کی کو تاہ اندیشی کے سبب اڑھائی اڑھائی سال میں ختم کردیئے گئے، ورنہ میاں نواز شریف آج سے دو دہائیاں قبل ہی پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنا چکے ہوتے۔

خیر مشیت ایزدی یہ تھی کہ انہیں تیسری بار پاکستان کی قیادت کرنا تھی ،جس میں وہ پاکستان کو اقتصادی سپر پاور بناتے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں جب یہ موقع دیا تو انہوں نے ایک لمحہ ضائع کئے بغیر ملک کے اندھیرے دور کرنے کے لئے رات دن بجلی کے منصوبوں پر کام شروع کر دیا ،جس کی وجہ سے اگلے دو اڑھائی سال میں پاکستان سے لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔عوام کو بہترین سفری سہولتیں بہم پہنچانے کے لئے میٹروبس اور اورنج لائن ٹرین کے منصوبے شروع کئے گئے ہیں۔لاہور اور راولپنڈی میں میٹروبس انہتائی کا میابی کے ساتھ رواں دواں ہے اور یہی وہ کامیابی ہے جس نے مخالفین کو میٹرو فوبیا جیسی نفسیاتی بیماری میں مبتلا کرکے ان کی نیند یں حرام کردی ہیں ،اب وہ جاگتے میں گالیاں دیتے ہیں اور سوتے میں چیخیں مارتے ہوئے اٹھ جاتے ہیں۔

کچھ عرصہ قبل میٹروبس کی افادیت جاننے کے لئے اس میں سفر کا ارادہ کیا تاکہ اپنی آنکھوں سے اس کے فوائد اور نقصانات دیکھ سکوں ،اس مقصد کے لئے لاہور اور راولپنڈی دونوں شہروں میں میٹروبس پر سفر کرچکا ہوں۔دونوں شہروں میں میٹرو سسٹم عالمی معیار سے کسی طور کم نہیں، بلکہ جب کوئی شخص میٹروسٹیشن میں داخل ہوتا ہے تو وہاں موجود سہولتیں دیکھ کر اسے محسوس ہوتا ہے، جیسے وہ کسی ترقی یافتہ ملک کے ٹرانسپورٹ سسٹم پر سفر کر رہا ہے۔پلیٹ فارم پر جانے کے لئے برقی زینے اور تیز رفتار لفٹیں ،ٹکٹ کے حصول کا الیکٹرانک نظام،سیکیورٹی کا جدید ترین انفراسٹرکچر،عالمی معیار کی تعمیرات اور صفائی،غرض تمام کا تمام سسٹم اتنا ہی جدید ہے ،جتنا دنیا کے کسی بھی ترقی یافتہ ملک میں ہوتا ہے۔

لاہور میں یہ نظام شہر کی دوبیرونی ترین حدوں گجومتہ اور شاہدرہ کو اس طرح ملاتا ہے کہ میٹرو بس شہر کے اہم ترین مقامات سے گذرتی ہوئی27کلومیٹر کا سفر طے کرتی ہے۔اس کے روٹ پر شہر کے تقریباً تمام اہم تعلیمی ادارے ، سیکریٹریٹ،کچہری اور ہسپتال موجود ہیں جس کی وجہ سے لاہور کے شہریوں کے لئے یہ انتہائی اہم ہے،خاص طور پر طلبہ وطالبات،سرکاری اور پرائیویٹ دفتروں کے ملازمین کے ساتھ ساتھ زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے لاکھوں شہری اس سے استفادہ کرتے ہیں۔میرے نزدیک لاہور میٹرو سے بھی زیادہ مفید منصوبہ راولپنڈی میٹرو کا ہے ،کیونکہ یہ دونوں جڑواں شہروں کو اس طرح ملاتی ہے کہ راولپنڈی صدر سے اسلام آباد پاک سیکریٹریٹ کے 24کلومیٹر طویل روٹ پر دونوں شہروں کا کوئی اہم مقام ایسا نہیں ہے جو اس کے روٹ پر نہ آتا ہو۔لاہور اور روالپنڈی دونوں شہروں کی میٹرو بس ہر ایک یا دومنٹ بعد آتی ہے اور ہر بس مسافروں سے کھچا کھچ بھرجاتی ہے جو اس با ت ثبوت ہے کہ ان شہروں میں عالمی معیار کی آرام دہ،سبک رفتار،قابل اعتبار اور ہر شخص کی عزت نفس کی ضامن ٹرانسپورٹ سسٹم کی کتنی اشد ضرورت تھی۔قبل ازیں ہماری بہنیں اور بچیاں سڑکوں پر دھکے کھانے پر مجبور تھیں،جس کی وجہ سے ان کی عزت نفس بار بار مجروح ہوتی تھی ،لیکن اب وہ انتہائی معززاورآرام دہ طریقے سے اپنے کالجوں،سکولوں اور دوسرے تعلیمی اداروں یا دفتروں میں جاتی ہیں اور یہی عزت افزائی ہمارے طلبہ اور مرد حضرات کو بھی میسر آگئی ہے۔حکومتِ پاکستان میٹرو کے ہر مسافر سے صرف بیس روپے کرایہ لیتی ہے، جبکہ باقی کا کرایہ سبسڈی کی شکل میں خودادا کرتی ہے۔لاہور اور راولپنڈی دونوں شہروں میں میٹروسفر کے دوران میں سوٹڈ بوٹڈ لوگ بھی دیکھے جو اپنی گاڑیوں کی بجائے اب میٹرو کے ذریعے سفر کرتے ہیں،اس طرح بہت سی گاڑیاں سڑک پر نہ آنے کی وجہ سے ٹریفک کے مسائل بھی پہلے سے بہتر انداز میں حل ہونا شروع ہوگئے ہیں اور تیل کا درآمدی بل بھی اسی طرح آہستہ آہستہ کم ہوگا۔ٹریفک کی روانی میں میٹرو کے ساتھ ساتھ دونوں شہروں میں اہم شاہرا ہوں کو سگنل فری کو ریڈ ورز میں بدلنے کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے جس کی وجہ سے لاہور اور راولپنڈی اسلام آباد میں ٹریفک کے سنگین مسائل بہت حد تک کم ہوجائیں گے ،اسی مقصد کے لئے لاہور کی رنگ روڈ کو بھی انتہائی تیزی سے مکمل کیا جارہا ہے۔

مَیں جب کچھ سیاست دانوں اور لوگوں کو میٹرو کے بارے میں عجیب و غریب پھبتیاں کستے سنتا تھا تو کبھی کبھی سوچتا تھا کہ میٹرو کا خود جائزہ لینے کے بعد ہی اس کی اصل تصویر جان سکوں گا، لیکن اب جبکہ مَیں دونوں شہروں کی میٹرو بس میں کئی بار بیٹھ کر ہر چیز کا جائزہ لے چکا ہوں اور اس نتیجے پر پہنچ چکا ہوں کہ ایسے لوگوں اور سیاست دانوں کو میٹرو فوبیا ہوچکا ہے۔میٹرو فوبیا کے شکار نفسیاتی مریضوں کا ایک ہی علاج ہے کہ وزیراعظم میاں نواز شریف پاکستان کے ہر اس شہر میں میٹرو بنائیں، جس کی آبادی پندرہ لاکھ سے زیادہ ہے۔لاہور اور راولپنڈی ،اسلام آباد کے بعد ملتان میٹرو کا کام بہت تیزی سے جاری ہے،اس کو بھی جلداز جلد مکمل کرنا چاہئے ۔میٹروفوبیا میں مبتلا لوگوں کے منہ سے جھاگ نکلے یا گالیاں،ہم اپنی بہنوں، بیٹیوں کو سڑکوں پر ذلیل ہوتا نہیں دیکھ سکتے اور یہ بات حقیقت ہے کہ میاں نواز شریف سے زیادہ بہنوں بیٹیوں کے لئے کسی نے کچھ نہیں کیا۔کاش عمران خان اور آصف علی زرداری بھی میٹرو فوبیا سے باہر نکلیں او ر اپنے اپنے صوبوں میں عوام کو جدید ترین سفری سہولتیں اور عزت نفس فراہم کریں۔

مزید : کالم


loading...