ذاتیات کی برتری کے لئے سیاست

ذاتیات کی برتری کے لئے سیاست

  



آج ہم ایسے دوراہے پر کھڑے ہو گئے ہیں کہ ایک راستہ مکمل تباہی و بربادی کی طرف اور دوسرا راستہ امن و آتشی و خوشحالی کی طرف جاتا ہے ہمیں انفرادی اور اجتماعی طور پر فیصلہ کرنا ہے کہ ہم کس راستے کا انتخاب کرتے ہیں۔ معاشرہ اس وقت کھل کر مفادات کی جنگ کرنے والوں نے تقسیم کر کے رکھ دیا ہے بڑے بڑے عہدوں پر براجمان خواتین و حضرات دن کی روشنی میں عوام سے جھوٹ بولنے میں شرم محسوس نہیں کرتے جھوٹے دعوے اور دوسروں پر الزامات لگانے میں اور اپنے ساتھیوں کی غلط حمایت کرنے پر بھی ندامت محسوس نہیں کرتے چونکہ ان تمام معزز خواتین حضرات کے مفادات وابستہ ہوتے میں تو پھر ان معزز خواتین و حضرات کے دعوؤں کے برعکس عام پاکستانی یا سیاسی مخالف پاکستان کی کیا حیثیت باقی رہ جاتی ہے انہی وجوہات کی وجہ سے عام آدمی بھی انتہا پسندی کی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے یعنی ذہنی انتہا پسندی کو فروغ حاصل ہو رہا ہے۔

عام طور پر کہا جاتا ہے کہ ملک اسلام کے نام پر وجود میں آیا تھا اس لئے یہاں اسلامی نظام نافذ ہونا چاہئے ایک طبقہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نظام لانے کا خواہش مند ہے لیکن پریشانی اور تباہی یہ ہو رہی ہے کہ 68 سال میں پاکستان نہ اسلامی بن سکا نہ جمہوری جو حکمران آیا اس نے اسلام بھی اپنی مرضی والا لانے کی کوشش کی اور جمہوریت بھی اپنی پسند اور خواہش کے مطابق چلانے کی کوشش کی۔ بدقسمتی سے قربانیوں سے حاصل ہونے والے ملک کا حلیہ ہی بگاڑ دیا گیا آدھا تیتر آدھا بٹیر والی کہاوت کا قانون نافذ ہے تحریک پاکستان کے دوران مسلم لیگی قیادت نے سنجیدگی سے کبھی یہ سوچنے کی ضرورت محسوس نہ کی کہ پاکستان بن جانے کے بعد نئی ریاست کی نوعیت کیا ہو گی اس کا سیاسی ڈھانچہ کن اصولوں پر بنے گا کیسا ہو گا،مسلم لیگ نوابوں، راجاؤں، خان بہادروں، سرداروں، جاگیرداروں کے بوجھ تلے اتنی دبی ہوئی تھی کہ خود رہنما بھی ریاست کے نقوش کی وضاحت کرتے ہوئے ہچکچاتے تھے کہ کہیں لیگ میں موجود اشرافیہ ناراض نہ ہو جائے اور پھوٹ پڑ جائے لیگی قیادت نے مسلمانوں کی سیاسی تعلیم کی طرف توجہ نہ دی، بلکہ ان کو سارا وقت جذباتی نعروں کا نشہ پلاتی رہی نتیجہ یہ ہوا کہ مسلم عوام ریاست کی تشکیل نو کے بارے میں اندھیرے میں رہے بلکہ دانستہ طور پر اندھیرے میں رکھا گیا۔

حقیقت یہ ہے کہ لیگی لیڈروں نے پاکستان کی تحریک مسلمانوں کی معاشرتی اصلاح و ترقی کی غرض سے نہیں شروع کی تھی بلکہ نئی ریاست میں حکومت کرنے کی خواہش ان کو ادھر لے گئی ۔یہی وجہ ہے کہ لیگی قیادت نے نئی ریاست کی سماجی اور اقتصادی ترقی کا کوئی پروگرام جان بوجھ کر وضع نہیں کیا عوام کو موجودہ حالات کی طرح طفل تسلیوں سے بہلاتی رہی۔ اس لئے تصور پاکستان اور ایک نئی ریاست کے تقاضوں کے مابین مصالحت نہ ہو سکی ساتھ ساتھ معاشی عدم مساوات کا بھی آغاز ہو گیا اور طبقاتی کشمکش تیز سے تیز تر ہو گئی۔ نو تشکیل شدہ پاکستان میں کئی طبقات ایسے تھے جن کی جمہوریت کے ساتھ وابستگی برائے نام تھی اور وہ قدامت پسند اور عام طور پر غیر سیاسی لوگ تھے مذہبی جماعتوں نے اپنے آپ کو تحریک پاکستان کا سب سے بڑا چیمپئن پیش کرنا شروع کر دیا جو کہ صحیح سوچ نہیں تھی نئی ریاست کی نظریاتی بنیادوں میں بارودی سرنگیں نصب کرنا شروع کر دیں جس کا نتیجہ کچھ سالوں سے سامنے ہے آج پاکستان میں دہشت گردوں نے قتل و غارت گری کا جو بازار گرم کر رکھا ہے اس کی جڑ میں جن نعروں اور نظریوں کا بیج بویا گیا اور جن کی آب یاری کئی عشروں سے جاری تھی۔

نظریہ پاکستان نظریاتی سرحدیں،نظریاتی ریاست اسلامی ریاست اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات۔ اسلامی نظام نفاذِ شریعت یا نفاذِ اسلام۔ احیائے اسلام اسلامی امہ وغیرہ ہم اگر تاریخ پر نظر ڈالیں تو ان اصلاحات کا استعمال قیامِ پاکستان سے پہلے کہیں نظر نہیں آتا۔ بلکہ قیامِ پاکستان کے بعد شروع کیا گیا۔ ہم پاکستانی بطور ایک قوم اپنا تجزیہ آپ کرنے سے گریزاں ہیں اور اپنے پر الزام دینے کی بجائے دوسروں پر الزام منطق اور دلائل کی بجائے جذبات تعصیب، نفرت کی بنیاد پر لگانے کے عادی مجرم بن چکے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ملک کی اشرافیہ اپنے انجام دیئے گئے اعمال اور غلطیوں کی خود ذمہ داری نہیں اٹھاتی، بلکہ اس کی بجائے پاکستان کو غیر ملیکوں کے ہاتھوں بدنام اور نقصان زدہ ملک کے طور پر پیش کرتی ہے چار وجوہات نے پاکستان کو ایک مستحکم اور اندرونِ خانہ مضبوط ریاست بننے نہیں دیا پہلے نمبر پر اس کے سیاست دان ہیں جو عوام کو ایک لڑی میں پرو دینے والی قومی شناختی پالیسی دینے میں ناکام رہے جیسا کہ ایک سوال اکثر کیا جاتا ہے کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے یا یہ کہ مسلمانوں کی ایک ایسی ریاست ہے جس میں غیر مسلموں اور اقلیتوں کے لئے کوئی جگہ نہیں یہ پاکستان کو کمزور کرنے والوں کا پروپیگنڈہ ہے پاکستان ایک جمہوری ملک ہے جس کا خواب قائداعظمؒ نے دیکھا تھا کیا اس کے باشندے پہلے مسلمان بعد میں سندھی، پٹھان، بلوچی، پنجابی اور آخر میں پاکستانی ہیں یا وہ سب سے پہلے پاکستانی ہیں ۔

دوسری وجہ غیر سیاسی قوتوں اور سویلین حکومتوں کے مابین تعلقات میں خرابی کی لمبی کہانی ہے جو پاکستان میں آمریت کی وجہ بنی۔ تیسری اہم بات یہ ہے کہ پاکستان ایک ایسی ریاست بن گیا جو اسلامی انتہا پسندوں کے لئے جنت ثابت ہو رہا تھا پاکستان کی کمزوری کی چوتھی وجہ اس کی نسلی گروہوں کی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی کو فروغ دینے میں ناکامی ہے پاکستان کے سیاسی نظام اور سیاسی جماعتوں کی ناکامی یہ ہے کہ وہ ان میں ہم آہنگی لانے میں مدد دینے میں ناکام ہو گئے ہیں اور انہوں نے کبھی جدید روشن خیالی پر بنی پالیسیاں متعارف نہیں کرائیں جو ملکی سطح پر معیشت اور معاشرے میں اصلاحات لا سکتیں۔ اس کے ساتھ سیاستدانوں کی کرپشن نے بھی انتہا پسندوں کو موقع فراہم کیا کہ وہ خود کو عوام کے سامنے ایماندار اور بے داغ متبادل قیادت کے طور پر پیش کر سکیں دائیں بازو کے مذہبی سیاستدانوں اور انتہا پسندوں کے حامیوں کا مشترکہ موقف یہ ہے کہ یہ سب کچھ امریکی پالیسیوں پر عمل پیرا ہونے کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ اور مسلط شدہ جنگ ہماری اپنی جنگ نہیں ہے ان میں چند لوگ کھلے عام انتہا پسندوں کو پسند کرنے کا اعلان کرتے ہیں اور یہ بات صرف مغرب دشمنی کی بناپر کہہ رہے ہیں بلکہ ان کی اس بات کے پردے میں سیاسی برتری کی خواہش پوشیدہ ہے جو انہیں دوبارہ حاصل ہو سکتی ہے چاہے اس کے حصول کے لئے انہیں کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔

بنیادی طور پر ریاست کی بقا کے لئے لڑی جانے والی جنگ فیصلہ کن مرحلہ میں داخل ہو گئی ہے جو ریاست کے آئندہ خدوخال اور مستقبل کا تعین کرے گی یہ بات طے ہے کہ جب تک ملک کی مقتدر قوتیں اور سیاسی جماعتیں اپنے ایجنڈے میں تبدیلی اور اصلاحات شامل نہیں کرتیں پاکستان کو سیاسی عمل داری پر کمزوری کا سامنا رہے گا اور صوبوں میں ابتری و بد انتظامی اور تشدد بڑھتا رہے گا کروڑوں لوگوں کو اقتصادی تباہی کا سامنا رہے گا قدرتی آفات،حکومتوں کی کم عقلی و نا اہلی آبادی میں بے تحاشہ اضافہ، بدترین نتائج کا باعث بنتے رہیں گے اگر سیاست دانوں نے اپنے اندرونی مفادات کے خلفشار کو ختم نہ کیا ایک دوسرے سے دست و گریباں ہونے والی خصلت کو ختم نہ کیا۔ اور سول حکومت نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کیں۔ سابقہ ادوار کی طرح اداروں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ تو پھر عسکری اسلام کا خطرہ بدستور قائم ہے جو کسی بھی وقت سول اداروں کو اپنی زد میں لے سکتا ہے چونکہ عوام کو ضروریات زندگی حاصل نہیں ہو رہیں۔ سیاسی لوگ اخباروں میں اور نجی ٹی وی چینلوں پر دست و گریباں ہیں سب سے ضروری بات یہ ہے کہ طویل عرصے سے حکمران اور سیاسی جماعتیں اپنے ذمہ سب سے ضروری کام بھلائے بیٹھی ہیں وہ کام اور کچھ نہیں صرف عوام کی زندگی کو بہتر اور خوشحال بناتا ہے عوام کے دلوں میں ان لوگوں کے خلاف سخت نفرت پیدا ہو رہی ہے جو لوگ ہر حکومت میں صرف اقتدار اور کرسی حاصل کرنے کے لئے شامل ہو جاتے ہیں۔ عوام سول حکومت سے متنفر ہو کرغیر جمہوری حکومت کی خواہش کرنا شروع کر دیتے ہیں اربوں کھربوں ڈالروں کے غیر ملکی بنکوں سے قرضے لے کر ترقیاتی کام کروانا ملکی مفادات میں نہیں ہے ترقیاتی کاموں کے لئے ملک کے عوام سے ٹیکس کولیکشن کا نظام بہتر بنانا ہے اور برسرِ اقتدار لوگوں کو حکمرانوں کو عوام اور صنعتکاروں، کاروباری لوگوں کو اپنا ٹیکس جمع کروانے کے گوشوارے دکھانا بھی وقت کی ضرورت ہے اگر برسرِ اقتدار طبقہ ٹیکس نہیں دے گا تو پھر عوام کیوں ٹیکس دیں عوام کو حکومت صحت، تعلیم، سیکیورٹی فراہم کریں یہ تو غلط پالیسی ہے کہ ٹیکس حکومت کو دو اور اپنی حفاظت خود کرو جبکہ برسرِ اقتدار طبقہ عوام کے ٹیکسوں سے عیش کرے۔

مزید : کالم