سڑکیں معاشی و تہذیبی ترقی کی بنیاد

سڑکیں معاشی و تہذیبی ترقی کی بنیاد

  



تہذیب و تمدن کی نمو اور معاشی ترقی کے لئے سڑکوں کی اہمیت دو چند ہے کہتے ہیں ''Civilization moves through roads''اور اسی بات کو آگے بڑھائیں تو یہ بات مظاہر ہے کہ ترقی کی کلید اور بنیاد بہترین سڑکیں ہیں ترقی و خوشحالی کی منزل کے حصول کے لئے بہت سے عوامل ہیں، جن پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے، مگر ان فیکٹرز میں سب سے اہم سڑک ہے پنجاب میں سڑکوں کا بہترین نیٹ ورک موجود ہے اور شہروں کے ساتھ ملانے والی سڑکیں بہترین ہیں مگر دیہات کی رابطہ سڑکیں عرصہ دراز سے زبوں حالی کا شکار تھیں جن کی بہتری کے لئے پنجاب حکومت نے ’’خادم پنجاب دیہی روڈ پروگرام‘‘شروع کیا ہے پنجاب کے تمام اضلاع میں یہ پروگرام شروع کیا گیا ہے اس کا بنیادی نقطہ دیہات کے رہنے والوں کی زندگی میں مشکلات کا خاتمہ ،انہیں محفوظ اور تیز رفتار سفر کے لئے سہولت فراہم کرنا اور ایندھن کی بچت ہے اس پروگرام کی تکمیل سے جہاں شہری اور دیہی زندگی میں بڑھتا ہوا فرق کم ہو گا وہیں بہتر سہولیات کی بدولت دیہات سے شہروں کی طرف ہجرت اور منتقلی میں بھی نمایاں کمی ہو گی اگر دیہات کے رہنے والوں کو بہترین سہولیات اپنے گھروں کے پاس دستیاب ہوں گی تو ان کی مشکلات اور مسائل کم ہوں گے اور وہیں پر زندگی کی بنیادی ضروریات دستیاب ہونے پر مطمئن زندگی گزار سکیں گے۔

خادم پنجاب دیہی روڈ پروگرام سے دیہات میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور دیہات کے لوگوں کو آمد و رفت میں آسانی کے ساتھ ساتھ اجناس کی کھیت سے منڈیوں تک رسائی میں آسانی ہو گی لوگوں کا دیرینہ مطالبہ پورا ہو رہا ہے اور پنجاب حکومت نے دیہی عوام کی بہتری کے لئے کو مختلف پروگرام شروع کئے ہیں ان میں دیہی رود پروگرا م اپنی افادیت کے لحاظ سے اہم ترین ہے پنجاب حکومت کے دیہی روڈ پروگرام کی تکمیل صوبہ میں ایک نئے عہدکا آغاز ہے جو مشکل کے چیلنجز سے نمٹنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا پنجاب میں دیہات میں دیہی صنعتوں کے فروغ اور وسائل میں سہولت کے لئے یہ منصوبہ وقت کی ضرورت ہے اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے بروقت اس منصوبہ پر عمل در آمد شروع کروایا، جس کے دو رس ثمرات جلد سامنے آنا شروع ہوں گے اس منصوبہ کے تحت دیہی سڑکوں کی چوڑائی بھی بڑھائی گئی ہے اور بہترین مانیٹرنگ سسٹم کی وجہ سے ان سڑکوں پر کام کا معیار بھی بہترین اور کام کی رفتار بھی تسلی بخش ہونے کی وجہ سے یہ منصوبے مقررہ وقت میں تکمیل کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

پاکستان کے سنہری مستقبل کے لئے جس طرح قتصادی راہداری کا منصوبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور معاشی ماہرین اس منصوبہ کو ایک نئے دور کا آغاز گردانتے ہیں یہ منصوبہ تکمیل کے بعد نہ صرف پاکستان ،بلکہ پورے خطہ میں انتہائی اہمیت کا حامل ہو گا اِسی طرح پنجاب میں خادم پنجاب دیہی رود پروگرام پورے صوبہ میں ایک نئے دور کا آغاز اور معاشی و معاشرتی ترقی کا زینہ ثابت ہو گا پنجاب کی دیہی آبادی عرصہ دراز سے مسائل کا شکار تھی اور ان کی شکایات کا ازالہ بھی ان کی خواہشات کے مطابق نہ ہو رہا تھا موجودہ حکومت نے ان کے مسائل اور مشکلات کے حل کے لئے عملی اقدامات کئے اور نہ صرف لوگوں کی شکایات ختم ہوئیں بلکہ مسائل بھی حل ہونا شروع ہو گئے پنجاب حکومت نے دیہی سڑکوں کے پہلے سے موجود ہ نیٹ ورک کو اپ گریڈ کرنے کا بیڑا اٹھایا، بلکہ صوبہ میں بہترین سڑکوں کا نیٹ ورک سرمایہ کاروں کے لئے کشش کا باعث ہے اور بیرون ممالک کے سرمایہ کاروں کے ساتھ ساتھ ملکی سرمایہ کار دیہی علاقوں میں سرمایہ کاری کریں گے زرعی معیشت کے ساتھ ساتھ لائیو سٹاک کا سیکٹر اور دیہی عوام کو مقامی سطح پر روزگار کی سہولیات میسر ہوں گی ۔

پنجاب حکومت نے دیہی علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے لئے جو منصوبہ شروع کیاہے اور اس کو تیزی سے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے تمام وسائل کو بروئے کار لایا گیا ہے اس سے لوگوں کی محرومیوں کا ازالہ ممکن ہوا ہے لوگوں کے مسائل کم ہوئے ہیں وفاقی حکومت نے کسانوں کی فلاح و بہبود اور انہیں معاشی طور پر مستحکم کرنے کے لئے اربوں روپے کا پیکیج دیا، جس کا بنیادی مقصد زراعت کے شعبہ سے وابستہ لوگوں کو معاشی بحران سے نکالنا اور اس سیکٹر کو ترقی کے لئے مضبوط بنیاد فراہم کرنا ،بلدیاتی انتخابات کی وجہ سے الیکشن کمیشن نے اس پیکیج پر وقتی طور پر پابندی لگا دی ہے، مگر حکومتی فیصلہ سے کسانوں میں اس پیکیج کی وجہ سے خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے لوگوں کی مسلم لیگ ن کی حکومت سے وابستہ امیدوں کے پورے ہونے کا امکان پیداہوا ہے اور اللہ کے فضل و کرم سے اس زرعی پیکیج پر عمل در آمد سے دیہی معیشت سے وابستہ لوگوں اور کسانوں کو تو فائدہ ہو گا، مگر دیہی علاقوں میں غربت کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا یہ بات تو روز روشن کی طرح عیاں ہے جس خطہ میں بھوک و افلاس ہوتی ہے وہاں پر معاشرتی ،اخلاقی ،سیاسی اور تہذیبی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں اور پھر یہ برائیاں دہشت گردی سمیت دیگر برائیوں اور نفسیاتی امراض کو بھی ساتھ لاتی ہیں ۔

یہ خرابیاں جن میں دہشت گردی سر فہرست ہے علاقہ سے نکل کر خطہ اور ایک صوبہ سے دوسرے صوبہ اور بعض اوقات تو ملکوں کی سرحدوں سے بھی آگے نکل جاتی ہیں ان خرابیوں کو دور کرنے کے لئے ضروری ہے کہ علاقہ میں روزگار کے مواقع میسر ہوں صنعت و حرفت ترقی کرے اور لوگ خوشحال ہوں دیہی سڑکیں ان نظر انداز کئے گئے علاقوں میں ترقی کے سفر کا آغاز ہیں ہل جوتنے والے کسانوں اور کھیتوں میں محنت کرنے والے مزدوروں نے کلیدی کردار ادا کیا حالات جیسے بھی ہوں ،موسم جتنے بھی سخت ہوں ،دشواریاں رستہ روکے کھڑی ہوں ان دیہات کے بسنے والوں نے کبھی ہار نہیں مانی اور دھرتی کا سینہ چیر کر لوگوں کے لئے اناج پیدا کیا ہے دیہی علاقوں کی ترقی و خوشحالی دراصل ہمارے صوبہ اور پاکستان کی ترقی ہے لوگوں کی معاشی صورت حال بہتر ہونے سے جہاں دیہات میں بسنے والوں کا معیار زندگی بلند ہو گا وہیں پر ان لوگوں کے مسائل حل ہوں گے معاشی خوشحالی لوگوں کو نفسیاتی مسائل سے چھٹکارا دلوانے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی لوگوں کو خوشحالی کے ثمرات آگے پہنچانے کو موقع ملے گا کسان خوشحال ہو گا تو دلجمعی سے کاشتکاری کرے گا بہتر زرعی مداخل سے پیداوار اچھی ہو گی اور پیدا وار اچھی ہی منافع کا باعث ہو گی بہتر ذرائع آمد ورفت کی بدولت منڈیوں تک رسائی آسان ہونے سے نہ صرف بچت ،ایندھن کی مد میں ہو گی بلکہ فضائی آلودگی سے مسائل پر قابو پانے میں بھی مدد ملے گی دیہی علاقوں میں بہترین معیاری سڑکیں بننے سے دیہی علاقوں میں صنعتی یونٹ لگانے کا رجحان فروغ پائے گا یہ سڑکیں مستقبل میں سڑکی جنگلات کے لئے مضبوط بنیاد فراہم کریں گی ۔

قطع نظر ان منصوبوں پر ہونے والی تنقید کے۔۔۔! یہ بات حوصلہ افزاء ہے کہ متحرک و محنتی خادم پنجاب نے دیہی علاقوں کی قسمت بدلنے کا جو بیڑا اٹھایا ہے وہ قابل تحسین ہے ان نظر انداز علاقوں میں ترقیاتی کاموں پر کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری اور خصوصاََ خادم پنجاب دیہی روڈز پروگرام کے ذریعے شہروں اور دیہاتوں کو آپس میں ملانے ،دیہی علاقوں کو شہروں کی طرز پر سہولیات فراہم کرنے کی ابتدا ایک قابل تحسین عمل ہے پنجاب حکومت نے کسانوں کی بہتری کے لئے جو منصوبے شروع کئے ہیں اور اب وفاقی حکومت کا اربوں روپے کا کسان پیکج ایک نئے دور کا آغاز کر رہا ہے عالمی سطح پر زرعی پیداوار کی قیمتیں کم ہونے کی وجہ سے کسان پریشان ہیں ان کی پیداواری لاگت زیادہ ہونے کی وجہ سے ان کو مالی نقصان کا سامنا ہے، مگر یہ مسلم لیگ کی لیڈر شپ نے کسانوں کو بہتری اور انہیں اس مالی بحران سے نکالنے کے لئے جو عملی اقدامات شروع کئے ہیں وہ ملکی زرعی معیشت میں بہتری کے لئے بھر پور نتائج دیں گے۔

مزید : کالم