قتل کی تحقیقات کیلئے بنایاگیاسپیشل یونٹ گشت اور ناکوں پربھی ڈیوٹی دینے لگا

قتل کی تحقیقات کیلئے بنایاگیاسپیشل یونٹ گشت اور ناکوں پربھی ڈیوٹی دینے لگا

  



لاہور(ملک خیام رفیق)قتل کے مرتکب معاشرتی ناسوروں اور انسانیت کا خون کرنے والے مجرموں کو صحیح معنوں میں دوسروں کے لئے عبرت بنانے اور متاثرین کو بروقت انصاف کی فراہمی کے لئے پنجاب پولیس کی تاریخ میں پہلی مرتبہ قتل کی تفتیش کیلئے بنائے جانے والےSpecialized Homicide Investigation Units (SHIU) کے ملازمین سے کینٹ ڈویژن میں قتل کی تفتیش کے علاقہ دیگر کام کے لیے جانے لگے ۔ آئی جی پنجاب نے اس یونٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر تے ہو کہا تھا کہ یہ افسر قتل کی تفتیش کے علاوہ کسی دوسرے کام کے لئے استعمال نہیں کیے جا سکیں گے۔لیکن ایس پی انویسٹی گیشن کینٹ اسماعیل ان افسران سے ناکوں اور گشت سمیت ہر قسم کی ڈیوٹی لے رہے ہیں ،جس سے قتل کے مقدمات کی تفتیش سست روی کا شکار ہے ۔ذرئع کے مطابق تفتیشی افسران کے پاس نفری اور گاڑیاں نہ ہو نے کی وجہ سے کام کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے جس سے آئی جی پنجاب کا یہ انقلابی قدم ناکام ہونے کا خدشہ ہے۔کیونکہ آئی جی پنجاب نے کہا تھا کہ ہرافسر سال میں صرف 20مقدمات کی تفتیش کرے گااگر اس طرح ان ملازمین اور افسران سے قتل کے مقدمات کی تفتیش کرنے کے علاوہ دیگر کام لیے جا تے رہے تو طاہر ہے آئی پنجاب کے اس انقلابی ا قدام پر پانی پھر جائے گا اور قتل کے مقدمات کی تفتیش پہلے کی طرح سست روی کا شکار رہے گی۔جب اس بارے میں ایس پی کینٹ اسماعیل سے موقف لیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ آئی جی کے اس اقدام سے قتل کے مقدمات کی تفتیش میں بہت زیاد ہ بہتر ی آئی ہے ۔Homicide کے افسران اور ملازمین سے کسی قسم کا دوسرا کام نہیں لیا جا رہا ہے ۔اگر کسی کو اس بارے میں شکایات ہیں تو وہ پوائنٹ آؤٹ کر ے کارروائی کی جا ئی گی۔

مزید : علاقائی


loading...