تھانوں میں مال مسروقہ میں بر آمد گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے پرزے چوری ہونے کا سلسلہ نہ رُک سکا

تھانوں میں مال مسروقہ میں بر آمد گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے پرزے چوری ہونے ...

  



لاہور(بلال چودھری)پولیس کے اعلیٰ افسران کے احکا مات کے با وجو د محکمہ پو لیس میں بر آمد کی گئی گا ڑیو ں اور مو ٹر سائیکلوں کے استعمال اور انکے پر زوں کی چو ری کا رجحان ختم نہیں ہو سکا ۔سواریوں کے مالکان اپنی سواریوں کے حصول کے لیے در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو گئے ۔تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت کے تھانوں میں چوری کے بعد برآمد کی گئی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی بھرمار نظر آتی ہے جن میں سے بیشتر اپنے حلیہ سے ہی استعمال کے قابل نہیں لگتیں، کسی کا انجن غائب ہوتا ہے اور کسی کے ٹائر نہیں ہوتے ،اس حوالے سے تھانوں کا سروے کیا گیا تو پولیس اہلکاروں کا کہنا تھا کہ ان میں سے زیادہ تر موٹر سائیکلیں اور کاریں وہ ہوتی ہیں جو کہ موٹر سائیکل اور چور ڈکیٹ گینگوں سے برآمد کی گئی ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی تعیناتی سے پہلے یہاں موجود پولیس اہلکاروں نے انکے قیمتی پرزہ جا ت غائب کر دیئے ہیں ،جب کسی بھی سواری کے حصول کے لیے کوئی شخص نہیں آتا تو ایک سے دو ہفتے گزرنے کے بعد اس میں موجود قیمتی سامان کو چوری کر لیا جاتا ہے ۔لو ہا ری گیٹ، یکی گیٹ، نو لکھا ،بھا ٹی گیٹ ،شفیق آباد، لا ری اڈہ، با دا می با غ، مستی گیٹ، اچھرہ ،لٹن روڈ، اینٹی کا رلفٹنگ سٹاف گلبرگ، قلعہ گجر سنگھ، کو توالی اور ٹبی سٹی سمیت صوبا ئی دا رلحکومت میں قائم بیشتر سکواڈاور تھا نوں کی جا نب سے تحویل میں لی گئی گا ڑیوں اور مو ٹر سائیکلوں کی حالت اسقدر تباہ کن کر دی گئی ہے کہ ذیا دہ تر گا ڑیاں اور مو ٹر سا ئیکلوں کو انکی حالت کے پیش نظر مالکان نے سپردا ری کر وا نے سے ہی انکار کر دیا ہے اس وقت لا ہور میں تما م اینٹی کا رلفٹنگ سکواڈ تھا نوں اور سی آئی اے سکواڈ کے پا س15ہزار سے زا ئد مو ٹر سا ئیکلیں اور گا ڑیاں کھڑی ہیں جن کی حالت زار کے با عث انکے ما لکان انکی سپرد داری میں دلچسپی نہیں لے رہے ۔ پو لیس ذرا ئع کے مطا بق سا ئلین کی شکا یا ت پر پولیس حکام نے تھانوں کو یہ ہدایت جاری کی ہے کہ اس با ت کو یقینی بنا یا جا ئے کہ کو ئی بھی اہلکار بر آمد کی گئی گا ڑی کا ستعمال نہ کرے اور نہ ہی گا ڑیوں کے پرزہ جا ت کی تبدیلی ہو ،لیکن اسکے با وجود گا ڑیوں اور مو ٹر سا ئیکلوں کے پر زہ جا ت کی چو ری کا سلسلہ بد دستور جا ری ہے ۔انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے کوئی قانون سازی یا طریقہ کار وضع نہیں ہے جس کی وجہ سے پرزہ جات کو چوری کر لیا جاتا ہے اگر کوئی مخصوص طریقہ کار وضع کر دیا جائے تو شکایات میں کمی آ سکتی ہے۔

مزید : علاقائی


loading...