’’ہم سب شیف تھے‘‘

’’ہم سب شیف تھے‘‘
 ’’ہم سب شیف تھے‘‘

  



اگر ڈاکٹر کا سفید کوٹ پہن کر ڈاکٹر بنا جا سکتا ہے تو پھر الحمرا ہال میں انٹرنیشنل شیف ڈے پرشیف کا سفید کوٹ پہنے ہوئے ہم سب بھی شیف تھے، مَیں نے کہا، یہ کریڈٹ شیف ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری احمد شفیق اور ان کے ادارے کوتھم کو ہی جاتا ہے کہ میں ایک صحافی ہونے کے باوجود شیف کا کوٹ پہن کر خوشی اورفخر محسوس کر رہا ہوں،ہم سب یعنی جنابِ مجیب الرحمان شامی، جناب سید نور، محترمہ شائستہ پرویزملک، محترمہ ازما زاہد بخاری اور پبلک ریلیشنز کے ماہرشاہد قادر شیف کوٹ پہنے ان کے ساتھ انہی کا عالمی دن منا رہے تھے۔ مَیں نے سوچا، معاشروں میں صرف معاشی ہی نہیں، بلکہ تہذیبی اور اخلاقی ترقی بھی اتنی ہی اہم ہوتی ہے، شیف جہاں اس وقت مختلف ہوٹلوں میں لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہ لے رہے ہیں وہاں مختلف چینلوں کے کوکنگ شوز نے انہیں سیلیبریٹی بھی بنا دیا ہے۔ اس سے پہلے شیف کو باورچی، نائی اور خانساماں جیسے ناموں سے ہی یاد کیا جاتا تھا، مگر اب پڑھے لکھے نوجوانوں کی بڑی تعداد اسے پروفیشن کے طو ر پر اختیار کر رہی ہے۔ محترمہ شائستہ پرویز ملک بتا رہی تھیں کہ جب دس ، گیارہ برس پہلے کوتھم قائم ہو رہا تھا تو ان کا خیال تھا کہ اس پر ایک مکمل ادارہ قائم کرنے کی بجائے مختلف کالجوں میں کلاسز شروع کرنا ہی کافی ہے مگر اب وہ تسلیم کرتں سنتے اور سایہ خدائے ذوالجلال کے الفاظ سنتے ہی سر کو غیر محسوس انداز میں جھکاتے ہوئے اپنی اپنی سیٹیں سنبھال لیتے ہیں، مگر یہاں سینکڑوں کی تعداد میں حاضرین قومی ترانے کو پورے جوش وخروش کے ساتھ ایک ایک لفظ ادا کرتے ہوئے پڑھ رہے تھے، قومی ترانہ ختم ہوا تو اس کے بعداس کے لئے زبردست تالیاں تھیں ، یہی نہیں، پوری تقریب ہی ملی نغموں سے سجی ہوئی تھی۔ مَیں نے کہا آپ جس طرح اپنے وطن کے لئے جوش و خروش کا مظاہرہ کر رہے تھے مجھے یقین ہے کہ اسی محبت کے ساتھ آپ اپنے کھانوں میں بھی مزا بھر دیتے ہوں گے۔ احمد شفیق نے بتایا کہ اس وقت عالمی سطح پر پاکستان کے کھانوں کی کوئی الگ پہچان نہیں ہے، کھانے پاکستان کے ہوتے ہیں اور انہیں نام ہندوستانی دے دیا جاتا ہے، حالانکہ ہندوستانی مصالحوں سے عجب قسم کی بدبو آتی ہے ۔مَیں نے پوچھا کہ پاکستانی کُوزِین اور ہندوستانی کُوزِین میں کیا فرق ہے، جواب ملا کہ ہندوستان بیف کے ساتھ کھانے تیار نہیں کر سکتے، وہ اس میں ماہر ہو ہی نہیں سکتے، مگروہ اپنے ملک میں بیف پر پابندی ہونے کے باوجود دُنیا بھر میں ہندوستان کے بیف کے کھانوں کی پبلسٹی کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جس طرح کرکٹ اور ہاکی کی ٹیمیں ہوتی ہیں بالکل اِسی طرح ’کیپ‘ یعنی شیف ایسوسی ایشن آف پاکستان اپنی سولہ رکنی ٹیم تیار کر رہی ہے، جس کے لئے مُلک بھر میں ٹرائلز شروع کر دئیے گئے ہیں،یہ ٹیم عالمی سطح پر کھانا پکانے اور سجانے کے مقابلوں میں حصہ لے گی۔ شائستہ پرویز ملک نے پوائنٹ آوٹ کیا کہ ہمیں اپنے کھانوں میں گھی کے استعمال کو کم کرنا ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب ہمارے بچے آلو گوشت جیسی ڈشیں نہیں کھاتے، ہمیں اس پر بھی کام کرنا ہو گا۔اس امر کی نشاندہی بھی ہوئی اور ہال میں خواتین کی کم تعداد دیکھ کر ثابت بھی ہوا کہ عام طور پر مرد ہی بہترین شیف سمجھے جاتے ہیں،حالانکہ ہمارے گھروں میں کوکنگ کا ننانوے فیصدکام خواتین ہی کرتی ہیں۔ اس کا بہترین جواب توجناب مجیب الرحمان شامی نے دیا، انہوں نے کہا کہ جن گھروں میں بچے آلو گوشت نہیں کھاتے وہاں دیکھنا ہو گا کہ کیا وہاں کسی کو آلو گوشت پکانا بھی آتا ہے یا نہیں، انہوں نے کہا کہ انہیں آج تک جس ہستی کے ہاتھ کا کھاناسب سے مزید ار لگا وہ ان کی والدہ کے ہاتھ کا تھا، اس مزے کو آج تک کوئی مات نہیں دے سکا۔

بات پاکستان کی ہو رہی تھی اور مَیں دُعا کر رہا تھا کہ پاکستان میں امن ہو، ترقی ہو، خوشحالی ہو تاکہ دُنیا بھر سے سیاح یہاں کا رُخ کریں۔ یہاں ہوٹل انڈسٹری آگے بڑھے گی تولازمی طورپر ہمارے انہی نوجوانوں کی مانگ ہو گی، جو باقاعدہ تعلیم اور تربیت حاصل کرنے کے بعد شیف بنے ہوں گے۔عالمی سطح پر اس وقت پاکستانی کھانوں کے ساتھ ساتھ پاکستانی شیف بھی اپنی ڈیمانڈ نہیں رکھتے،حالانکہ اس وقت بھی اتحاد ائیرلائینز میں عرب شیوخ کے لئے کھانے تیار کرنے والی پانچ،چھ رکنی ٹیم میں ایک پاکستانی نوجوان شامل ہے ۔ وہ نوجوان بھی اس تقریب میں شامل تھا اور یہ اس امر کی دلیل تھی کہ اگر ایک پاکستانی نوجوان ٹیلنٹ میں کسی سے کم نہیں۔سید نور کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس تقریب میں آ کے اپنی فلم کے لئے ایک منظر اور کردار تشکیل دے لیا ہے، وہ دو سے تین ماہ کے اندر ہی اپنی نئی فلم کے لئے ایک ایسا گانا پکچرائز کریں گے، جو شیف کی ذات اور کام کے گرد ہو گا۔ ازما زاہد بخاری کا تعلق بھی کوتھم کے ساتھ پرانا ہے۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ کوتھم اور شیف ایسوسی ایشن نے جب خواتین ارکان پارلیمینٹ اور خواتین صحافیوں کے درمیان کوکنگ کے مقابلے کا اہتمام کیا تھا تو وہاں کھانے کی سجاوٹ کو بنیاد بناتے ہوئے دھاندلی کے ساتھ خواتین صحافیوں کو کامیاب قرار دے دیا گیا تھا۔ مَیں نے سوچا کہ ازما زاہد بخاری مسلم لیگ(ن) کی رکن پنجاب اسمبلی ہیں، تحریک انصاف کی نہیں، مگر اس کے باوجود کوئی سیاستدان اپنی شکست خوشدلی سے تسلیم کر لے، چاہے اس کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہی کیوں نہ ہو تو پھر اسے سیاست دان کیوں کہا جائے ۔ بتایا گیا کہ حکومت پنجاب سکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت سرکاری خرچ پر اس شعبے میں تعلیم اور تربیت کا اہتمام کر رہی ہے۔ہم سب نے وہاں گھنٹوں گزارے اور مجھے اپنے شیف دوست اپنے مُلک، مستقبل اور پروفیشن کے بارے جوش و خروش سے بھرے نظر آئے۔ ان سینکڑوں چمکتے دمکتے ہنستے مسکراتے چہروں میں مجھے کل کا پاکستان نظر آ رہا تھا، جہاں ہر محنت کش اپنے رب کے حبیب ہونے کی حیثیت میں باعزت ہو گا۔ مجھے وہاں ایک نیاپاکستان اور تبدیلی کی حقیقی لہر نظر آئی جو ہم سب کا ایک بہت بڑا خواب ہے۔

مزید : کالم