احتساب کمیشن کو حاجی غلام علی کی گرفتار ی سے روک دیا گیا

احتساب کمیشن کو حاجی غلام علی کی گرفتار ی سے روک دیا گیا

  



پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ کے جسٹس نثارحسین اور جسٹس روح الامین چمکنی پرمشتمل دورکنی بنچ نے خیبرپختونخوا احتساب کمیشن کو سابق سینیٹر حاجی غلام علی کی گرفتاری سے روک دیا اورکمیشن سے جواب مانگ لیاعدالت عالیہ کے فاضل بنچ نے گذشتہ روز قاضی جواداحسان اللہ قریشی ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائررٹ کی سماعت کی اس موقع پر انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اس کاموکل 1983ء سے1991ء تک میونسپل کارپوریش پشاور کاکونسلررہا اپریل2001ء میں قومی احتساب بیورونے درخواست گذار کو گرفتارکیااوراس کے خلاف 30کروڑ روپے مالیت کے غیرقانونی اثاثے بنانے سے متعلق ریفرنس دائرکیاجس میں وہ18ماہ تک جیل میں بھی رہے بعدازاں احتساب عدالت نے عدم ثبوت کی بناء پرانہیں بری کیااوران کے اثاثے جائزاورقانونی قرار دئیے 12سال تک ریفرنس زیرسماعت رہا اوراس دوران نیب نے ایک مرتبہ پھران کے خلاف بحیثیت ضلع ناظم پشاورکروڑوں روپے مالیت کے اثاثے بنانے سے متعلق تحقیقات شروع کیں جبکہ2013ء میں پشاورہائی کورٹ نے درخواست گذار کو احتساب عدالت سے متعلق فیصلے کوبرقراررکھا اورنیب کی اپیل خارج کردی جبکہ بحیثیت ضلع ناظم درخواست گذار کے اثاثوں کی تحقیقات جاری رہیں اورآخرکار 2014ء میں 4سال تک جاری رہنے والی انکوائری نیب نے ختم کردی تاہم 12اکتوبر2015ء کو صوبائی احتساب کمیشن نے ا یک مرتبہ پھرحاجی غلام علی سے ان کے اثاثوں سے متعلق تفصیلات طلب کیں اوراب انہیں خدشہ ہے کہ درخواست گذار کو گرفتارکیاجائے گا قاضی جواداحسان اللہ قریشی نے عدالت کو بتایا کہ اس کے موکل نے گذشتہ14سال تک عدالتوں کاسامنا کیااورتمام عدالتوں نے اسے بری کیااب احتساب کمیشن ایک مرتبہ پھر انکوائری شروع کررہاہے جو کہ غیرآئینی ہے انہوں نے عدالت کو دلائل دئیے کہ ایک مرتبہ جب کسی الزام میں ایک وفاقی ا دارہ انکوائری کرچکاہوتو صوبائی ادارے کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ دوبارہ تحقیقات کرے جبکہ اس طرح درخواست گذار کی سیاسی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایاجارہا ہے انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ احتساب کمیشن کی جانء سے جاری کردہ پروفارماکالعدم قرار دیا جائے اورممکنہ گرفتاری کو روکاجائے عدالت نے ابتدائی دلائل کے بعد احتساب کمیشن کو درخواست گذار کی گرفتاری سے روک دیا اورکمیشن سے جواب مانگ لیا۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر