انڈونیشیاء کی ڈاکٹر عطا الرحمن کی سائنس پالیسی اختیار کرنے میں دلچسپی

انڈونیشیاء کی ڈاکٹر عطا الرحمن کی سائنس پالیسی اختیار کرنے میں دلچسپی

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر) انڈونیشی سائنس کانفرنس نے پاکستان کے سابق وفاقی وزیر برائے سائنس اورٹیکنالوجی اور بین الاقوامی سطح پر معروف سائنسدان پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمن کی سائنسی پالیسوں کو انڈونیشیاء کی سائنس اورٹیکنالوجی کے شعبے میں اختیار کرنے کے لئے 4 ورکنگ گروپ قائم کردیے ہیں جو سائنس پالیسی کا جائزہ لیں گے، کچھ روز قبل پروفیسر عطا الرحمن کا انڈونیشیا کی سب سے معتبر انڈونیشی سائنس کانفرنس میں پالیسی ساز خطاب ہوا تھا۔یہ بات آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے بدھ کوایچ ای جے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف کیمسٹری جامعہ کراچی میں سائنسدانوں کے ایک وفد سے گفتگو کے دوران کہی۔ انھوں نے کہا انڈونیشیاء میں 8 اکتوبر کو منعقدہ وہاں کی سب سے معتبر انڈونیشی سائنس کانفرنس میں پروفیسر عطا الرحمن کو ایک خصوصی خطاب کے لئے مدعو کیا گیا تھا جہاں پروفیسر عطا الرحمن نے اپنے پالیسی ساز خطاب میں مسلم دنیا میں علم اور معلومات پر مبنی معیشت کے قیام کے سلسلے میں سائنس اور ٹیکنالوجی، جدت(Innovation) اور مختار کاروبار(Entrepreneurship) کی اہمیت اور ضرورت پر زور دیا، اپروفیسر عطا الرحمن نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ او آئی سی (OIC)مسلم ممالک میں صاحبِ بصیرت قیادت کا فقدان ہے، انھیں یہ بھی خبر نہیں ہے کہ علم میں ہی معاشی ترقی کا راز پوشیدہ ہے، اس غفلت کی وجہ سے غربت اور محرومیوں کے اعتبار سے مسلم دنیا پس ماندہ ہوچکی ہے، مسلم ممالک کو اب خوابِ غفلت سے جاگنے کی شدید ضرورت ہے جبکہ عمدہ تعلیم کے فروغ، اعلیٰ ٹینکنالوجی کی مصنوعات کی برآمدات جیسے اہم شعبہ جات میں سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...