ڈاکٹر عاصم گرفتاری :حکومت سے اجازت نہیں لی گئی ،ایڈوکیٹ جنرل سندھ

ڈاکٹر عاصم گرفتاری :حکومت سے اجازت نہیں لی گئی ،ایڈوکیٹ جنرل سندھ

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ نے سابق مشیر پٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری سے متعلق درخواست پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل سلمان طالب الدین سے کیس کی مزید تفصیلات طلب کرتے ہوئے سماعت 27اکتوبر تک ملتوی کردی ہے ۔بدھ کو درخواست کی سماعت جسٹس سجاد علی شاہ کی سربراہی میں بنچ نے کی ۔سماعت میں ایڈووکیٹ جنرل سندھ عبدالفتح ملک نے اپنے دلائل مکمل کرلیے۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری سے متعلق حکومت سندھ سے اجازت نہیں لی گئی، وہ کوئی جرائم پیشہ نہیں ، نہ ہی ان کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد حکومت سندھ کو پیش نہیں کیے گئے۔ایڈووکیٹ جنرل سندھ کے بیان پر عدالت نے استفسار کیا کہ ہزاروں آدمیوں کو نظر بندی مراکز میں رکھا گیا ہے،کیا حکومت سے اس سے قبل اجازت لی گئی؟عدالت نے مزید استفسار کیا کہ کیا آپ ایک کیس ایسا بتا سکتے ہیں ،جس میں رینجرز نے گرفتاری سے قبل اجازت لی ہو؟ ،انکا کیا ہوگا،؟۔عدالت کے سوال پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بیان دیا کہ رینجرز کے اختیارات میں 60دن میں اسمبلی سے توثیق کرانی تھی ، جو نہیں کرائی گئی جس کے باعث ڈاکٹر عاصم کی نظر بندی غیرقانونی ہے۔عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ کیا رینجرز شہر میں غیر قانونی طور پر ہے؟ عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ آپ رینجرز کو کہیں گے کہ وہ صوبہ چھوڑ دے۔عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سلمان طالب الدین سے کیس کی مزید تفصیلات طلب کرتے ہوئے 27اکتوبر تک سماعت ملتوی کردی۔

مزید : کراچی صفحہ اول